خیبرپختونخوا میں سابق صوبائی کابینہ کے اراکین کے زیر استعمال سرکاری گاڑیوں کی واپسی کا معاملہ تاحال التوا کا شکار ہے اور متعلقہ حکام کی جانب سے اس صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سرکاری ذرائع نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ سابق وزراء، مشیروں اور معاونین خصوصی کے پاس تاحال سرکاری گاڑیاں موجود ہیں جو انہوں نے اپنے عہدوں کی مدت ختم ہونے کے باوجود محکمہ کو واپس نہیں کی ہیں۔
ذرائع کے مطابق صوبے میں مختلف نوعیت کی ایمرجنسی نافذ ہونے کے باوجود سابق اراکینِ کابینہ کے زیرِ استعمال سرکاری گاڑیوں کا استعمال بدستور جاری ہے۔ اس غیر معمولی صورتحال نے انتظامی امور پر کئی طرح کے سوالات کو جنم دیا ہے کیونکہ عام حالات کے ساتھ ساتھ ہنگامی حالات میں بھی سرکاری وسائل کا اس طرح سابقہ عہدیداروں کے پاس رہنا ضابطے کی صریح خلاف ورزی ہے۔
تفصیلات سامنے آئی ہیں کہ بعض سابق وزراء اور مشیروں کے پاس ایک یا دو نہیں بلکہ تین سے چار سرکاری گاڑیاں تک موجود ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں گاڑیوں کا ایک ہی شخص کے زیرِ استعمال رہنا صوبائی وسائل کے غیر مناسب استعمال کی عکاسی کرتا ہے جبکہ اس سے متعلقہ محکموں کے دیگر دفتری امور بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
صرف وزراء اور مشیروں تک ہی یہ معاملہ محدود نہیں ہے بلکہ اطلاعات کے مطابق سابق پارلیمانی سیکرٹریز کے پاس بھی اب تک سرکاری گاڑیاں موجود ہیں۔ یہ تمام افراد اپنے سرکاری عہدوں سے سبکدوش ہو چکے ہیں مگر اس کے باوجود حکومتی پروٹوکول اور سہولیات سے بھرپور طریقے سے فائدہ اٹھانے کا سلسلہ تاحال جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ذرائع کا یہ بھی بتانا ہے کہ بعض نجی سوشل میڈیا شخصیات اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے وابستہ افراد کے زیرِ استعمال بھی سرکاری گاڑیاں دیکھی گئی ہیں۔ اس انکشاف نے عوامی حلقوں میں حیرت اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کہ کس طرح سرکاری املاک کو غیر متعلقہ نجی افراد کے حوالے کیا گیا ہے۔
دوسری جانب تمام سابق اراکین اس رویے پر عمل پیرا نہیں ہیں کیونکہ کچھ سابق کابینہ اراکین ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنے عہدے چھوڑنے کے فورا بعد یا کچھ عرصے کے اندر ہی اپنی سرکاری گاڑیاں متعلقہ محکموں کے حوالے کر دی تھیں۔ تاہم بڑی تعداد اب بھی ایسی ہے جو ان گاڑیوں کو چھوڑنے پر کسی طور تیار دکھائی نہیں دیتی۔
انتظامیہ اور متعلقہ محکمے کے اعلیٰ حکام اس پورے معاملے کی سنگینی کا مکمل ادراک کرتے ہوئے اس کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ گاڑیوں کی فی الفور اور بلا تاخیر واپسی کے حوالے سے مختلف انتظامی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے تاکہ تمام سرکاری وسائل کو فوری طور پر ریکور کیا جا سکے۔
صوبائی سطح پر اس معاملے کے میڈیا میں سامنے آنے کے بعد اب موثر انتظامی کارروائی کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ تمام سابق عہدیداروں اور غیر متعلقہ نجی افراد سے سرکاری گاڑیاں جلد از جلد واپس لی جا سکیں۔ عوام کی جانب سے بھی یہ پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ سرکاری املاک کا ناجائز استعمال فی الفور بند کیا جائے۔
صوبے کے انتظامی امور چلانے والے محکموں نے اس بات پر بھی غور شروع کر دیا ہے کہ آیا ماضی میں ان گاڑیوں کی الاٹمنٹ کے وقت کن قوانین کو مدنظر رکھا گیا تھا اور اب ان کی واپسی کے لیے کون سے قانونی اور انتظامی اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے مسائل سے بچا جا سکے۔
سابق اراکین کی جانب سے سرکاری گاڑیوں کا یہ مسلسل استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صوبے میں انتظامی گرفت کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ کی جانب سے ان تمام افراد کی فہرستیں دوبارہ تیار کی جا رہی ہیں جن کے پاس تاحال سرکاری تحویل کی گاڑیاں موجود ہیں۔
مختلف حلقوں کی جانب سے یہ نکتہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ہنگامی حالات کے دوران سرکاری مشینری اور وسائل کا درست سمت میں استعمال ہونا انتہائی ضروری ہے، اس لیے سابقہ دور کے لوگوں کے پاس گاڑیاں رہنا انتظامی مجبوریوں کے بھی منافی ہے۔ اس ضمن میں متعلقہ محکمے کے اندرونی اجلاسوں میں بھی تبادلہ خیال جاری ہے۔
امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ آنے والے چند دنوں کے اندر اندر متعلقہ حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے آ جائے گا اور تمام غیر قانونی طور پر زیرِ استعمال گاڑیوں کو تحویل میں لے کر سرکاری پول میں واپس جمع کرا دیا جائے گا تاکہ اصولوں کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس تمام صورتحال نے ایک بار پھر صوبائی سطح پر سرکاری اثاثوں کے تحفظ اور ان کے منصفانہ استعمال کے ضابطوں پر بحث چھوٹی ہے، اور اب دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے کو کس انجام تک پہنچاتی ہے اور کیا تمام گاڑیاں بحفاظت واپس حاصل کی جاتی ہیں یا نہیں۔





اپنی رائے دیں