ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو منظم کرنے کے لیے ایک عارضی مفاہمت کے امکانات پر بات چیت جاری ہے۔ اس اہم بحری گزرگاہ میں جہازوں کی محفوظ اور بلاتعطل نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لیے دونوں ممالک سفارتی سطح پر مشاورت کر رہے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مجوزہ عارضی معاہدے کو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے مترادف قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔ یہ اقدام محض بحری ٹریفک کے انتظام کے لیے ایک ابتدائی کوشش ہے۔
ترجمان کے مطابق ایران اور عمان اس بات پر متفق ہیں کہ اس اہم بین الاقوامی گزرگاہ میں جہاز رانی کے معاملات کو بہتر بنانے کے لیے قابلِ عمل انتظامات کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک باہمی مشاورت سے ایسے طریقہ کار وضع کرنے کے لیے کوشاں ہیں جو عارضی بنیادوں پر معاون ثابت ہوں۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی طویل المدتی سکیورٹی اور انتظام کے لیے ایک پائیدار اور مستقل طریقہ کار کی تشکیل ناگزیر ہے۔ اس مقصد کے لیے ایران اور عمان ایک ایسے فریم ورک پر کام کر رہے ہیں جس سے بحری آمدورفت کو مستقل بنیادوں پر منظم کیا جا سکے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس گزرگاہ کی سکیورٹی اور اس میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت عالمی توانائی کی منڈیوں کے استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
ایران کا موقف ہے کہ خطے کے ممالک کو اپنی بحری گزرگاہوں کے انتظام اور سکیورٹی کے لیے خود ذمہ داری نبھانی چاہیے۔ تہران کی جانب سے عمان کے ساتھ یہ مشاورت اسی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ بیرونی مداخلت کے بغیر علاقائی مسائل کا حل نکالا جا سکے۔
اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ ایران خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، تاہم وہ اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے بھی پرعزم ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران امریکا کی جانب سے کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ترجمان کے اس بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رہنے کے باوجود خطے میں کشیدگی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ایران اور عمان کے درمیان یہ مذاکرات اسی پیچیدہ صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
عالمی برادری کی نظریں بھی آبنائے ہرمز کی صورتحال پر مرکوز ہیں، کیونکہ اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ایران اور عمان کی جانب سے عارضی معاہدے کی کوششوں کو عالمی سطح پر محتاط انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور عمان اس عارضی مفاہمت تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ خطے میں بحری کشیدگی کو کم کرنے میں ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس کے حتمی نتائج کا انحصار دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کی کامیابی پر ہے۔
ایران کی جانب سے اس معاملے پر مسلسل سفارتی رابطے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ تہران خطے میں اپنے اثر و رسوخ اور سکیورٹی معاملات کو خود منظم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ عمان، جو اکثر علاقائی تنازعات میں ثالث کا کردار ادا کرتا ہے، اس معاملے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا یہ عارضی معاہدہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو کس حد تک محفوظ بنا پاتا ہے۔ فی الحال، دونوں ممالک کے حکام اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بحری سلامتی کے لیے مستقل اور پائیدار حل تلاش کرنا ہی اصل ہدف ہے۔
پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک بھی آبنائے ہرمز میں امن و امان کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بحری تجارت کا انحصار اس گزرگاہ کی فعالیت پر ہے، اس لیے کسی بھی پیش رفت کا اثر براہ راست خطے کی معاشی صورتحال پر پڑتا ہے۔





اپنی رائے دیں