مواد پر جائیں
بدھ، 14 اکتوبر 2026 3 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 6:37
بریکنگ
اسلام آباد میں خودکشی کیس کا ملزم مانسہرہ میں بھی فراڈ کا اشتہاری نکلاپنجاب: آئی جی جیل خانہ جات کو رشوت دینے کی کوشش کرنے والا سپرنٹنڈنٹ گرفتارکیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلاپاک فوج کا ہائپرسونک بیلسٹک میزائل ‘فتح ٹو (ای آر)’ کا کامیاب تجربہپی ٹی آئی رہنماؤں کے کالعدم ٹی ٹی پی سے رابطے ہیں، وقت آنے پر ثبوت دیں گے: محسن نقویکوئٹہ طیارہ حادثے میں شہید میجر حسنین اور کیپٹن عبدالصمد کی نمازِ جنازہ اداتماشہ 5 کی رنر اپ اسرا عائشہ کا اپنے ساتھی امیدواروں کے رویے پر ردعملخیبر پختونخوا میں امن و امان اور سیاسی استحکام کا چیلنجچیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نجی دورے پر انگلینڈ روانہ ہوں گےمانسہرہ: غیرت کے نام پر دوہرا قتل، مقتولین کے بھائی گرفتارامریکی ریپر ٹوپاک شکور کے قتل میں ملوث سابق گینگ لیڈر کو 40 سال قید کی سزاامریکی کارنیل یونیورسٹی میں طالبات سے زیادتی کے الزامات کے بعد تقریبات پر پابندیکراچی میں غیر قانونی حراستی مراکز کا انکشاف، پولیس کے فرسودہ نظام پر سوالاتکراچی میں پولیس کے مبینہ مقابلے، ایک ڈاکو ہلاک اور 5 زخمی حالت میں گرفتاروزیراعظم شہباز شریف سے یورپی کمشنر میگنس برونر کی ملاقات، باہمی تعاون پر تبادلہ خیالروس اور پاکستان کا سیکیورٹی و انسدادِ جرائم میں تعاون بڑھانے پر اتفاقوفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا یورپین کمشنر میگنس برنر کے اعزاز میں عشائیہامریکی انتخابات سے قبل تیل کی قیمتیں بڑھانے کی سازش ہو رہی ہے، ڈونلڈ ٹرمپایران اور عمان کا آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے عارضی معاہدے پر غورسعودی عرب: ظہران کی جانب داغا گیا حوثی بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ
دنیا

ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے عارضی معاہدے پر غور

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ دونوں ممالک بحری گزرگاہ میں محفوظ نقل و حمل کے لیے قابل عمل انتظامات وضع کر رہے ہیں۔

ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے عارضی معاہدے پر غور

ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو منظم کرنے کے لیے ایک عارضی مفاہمت کے امکانات پر بات چیت جاری ہے۔ اس اہم بحری گزرگاہ میں جہازوں کی محفوظ اور بلاتعطل نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لیے دونوں ممالک سفارتی سطح پر مشاورت کر رہے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مجوزہ عارضی معاہدے کو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے مترادف قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔ یہ اقدام محض بحری ٹریفک کے انتظام کے لیے ایک ابتدائی کوشش ہے۔

ترجمان کے مطابق ایران اور عمان اس بات پر متفق ہیں کہ اس اہم بین الاقوامی گزرگاہ میں جہاز رانی کے معاملات کو بہتر بنانے کے لیے قابلِ عمل انتظامات کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک باہمی مشاورت سے ایسے طریقہ کار وضع کرنے کے لیے کوشاں ہیں جو عارضی بنیادوں پر معاون ثابت ہوں۔

اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی طویل المدتی سکیورٹی اور انتظام کے لیے ایک پائیدار اور مستقل طریقہ کار کی تشکیل ناگزیر ہے۔ اس مقصد کے لیے ایران اور عمان ایک ایسے فریم ورک پر کام کر رہے ہیں جس سے بحری آمدورفت کو مستقل بنیادوں پر منظم کیا جا سکے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس گزرگاہ کی سکیورٹی اور اس میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت عالمی توانائی کی منڈیوں کے استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

ایران کا موقف ہے کہ خطے کے ممالک کو اپنی بحری گزرگاہوں کے انتظام اور سکیورٹی کے لیے خود ذمہ داری نبھانی چاہیے۔ تہران کی جانب سے عمان کے ساتھ یہ مشاورت اسی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ بیرونی مداخلت کے بغیر علاقائی مسائل کا حل نکالا جا سکے۔

اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ ایران خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، تاہم وہ اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے بھی پرعزم ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران امریکا کی جانب سے کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

ترجمان کے اس بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رہنے کے باوجود خطے میں کشیدگی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ایران اور عمان کے درمیان یہ مذاکرات اسی پیچیدہ صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔

عالمی برادری کی نظریں بھی آبنائے ہرمز کی صورتحال پر مرکوز ہیں، کیونکہ اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ایران اور عمان کی جانب سے عارضی معاہدے کی کوششوں کو عالمی سطح پر محتاط انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور عمان اس عارضی مفاہمت تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ خطے میں بحری کشیدگی کو کم کرنے میں ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس کے حتمی نتائج کا انحصار دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کی کامیابی پر ہے۔

ایران کی جانب سے اس معاملے پر مسلسل سفارتی رابطے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ تہران خطے میں اپنے اثر و رسوخ اور سکیورٹی معاملات کو خود منظم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ عمان، جو اکثر علاقائی تنازعات میں ثالث کا کردار ادا کرتا ہے، اس معاملے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا یہ عارضی معاہدہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو کس حد تک محفوظ بنا پاتا ہے۔ فی الحال، دونوں ممالک کے حکام اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بحری سلامتی کے لیے مستقل اور پائیدار حل تلاش کرنا ہی اصل ہدف ہے۔

پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک بھی آبنائے ہرمز میں امن و امان کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بحری تجارت کا انحصار اس گزرگاہ کی فعالیت پر ہے، اس لیے کسی بھی پیش رفت کا اثر براہ راست خطے کی معاشی صورتحال پر پڑتا ہے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں