مواد پر جائیں
اتوار، 11 اکتوبر 2026 30 ربیع الثانی 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 6:19
بریکنگ
نئی دہلی میں احتجاج پر پابندی، راہول گاندھی کی حمایت، سینکڑوں افراد زیر حراست
پاکستان بریکنگ نیوز

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا، محسن نقوی

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ سے بچنے کی تمام تر کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا، محسن نقوی

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اب ایمرجنسی کے نفاذ کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سنگین فیصلے سے گریز کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی گئی تھی۔

وزیر داخلہ نے یہ گفتگو اسلام آباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ اعجاز کے گھر آمد کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کی۔ لائبہ اعجاز نے حال ہی میں خودکشی کی تھی جس پر وزیر داخلہ نے ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔

صحافیوں کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق سوالات کے جواب میں محسن نقوی نے کہا کہ اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ایمرجنسی نہ لگانے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ انہوں نے سوال کیا کہ اب اس معاملے کو کیسے ٹالا جا سکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر علی خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ خود ان سے پوچھ سکتے ہیں کہ میں نے ایمرجنسی کے نفاذ سے بچنے کے لیے کس حد تک کوششیں کیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اس معاملے پر صلح کی ہر ممکن کوشش کر چکے ہیں۔

محسن نقوی نے مزید کہا کہ انہوں نے اس طرح کے سخت فیصلے سے بچنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں تاہم اب حالات کے تقاضے بدل چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب حکومت کے پاس کوئی اور آپشن نہیں بچا ہے۔

خیبر پختونخوا میں سیاسی کشیدگی اور امن و امان کی صورتحال پر وفاقی حکومت کی جانب سے مسلسل تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزراء کا موقف ہے کہ صوبے میں آئینی اور انتظامی امور کو چلانے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب سیاسی حلقوں میں بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے۔ کچھ سیاسی جماعتوں نے صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کی ہے اور اسے جمہوری عمل کے منافی قرار دیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی اس معاملے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتوں کے ذریعے معاملات کو سیاسی طریقے سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ ان کی اولین ترجیح ملک میں امن و امان کا قیام اور آئین کی بالادستی ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام تر قانونی اور آئینی راستے اختیار کیے جا رہے ہیں تاکہ صوبے میں انتشار کو روکا جا سکے۔

محسن نقوی نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے اقدامات کا مقصد صرف اور صرف ریاست کی رٹ کو برقرار رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب حالات قابو سے باہر ہونے لگیں تو حکومت کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی پڑتی ہے۔

خیبر پختونخوا میں جاری سیاسی بحران کے باعث انتظامی امور بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ وفاقی حکومت کا ماننا ہے کہ صوبائی حکومت کی ناکامی کے بعد اب مرکز کو مداخلت کرنی پڑ رہی ہے۔

آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید اہم پیش رفت متوقع ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ایمرجنسی نافذ کرتی ہے تو اس کے سیاسی اور قانونی اثرات بہت گہرے ہوں گے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کسی بھی صورت میں ملک میں افراتفری کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

یہ خبر ڈیلی پاکستان آن لائن کے نیوز روم نے اصل رپورٹنگ کی بنیاد پر اپنے الفاظ میں لکھی ہے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں