سینیٹر فیصل واوڈا نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ملک کے سیاسی حالات اور نظامِ حکومت پر کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ ملکی حالات میں جمہوریت کو از سر نو ترتیب دینے اور اسے فعال بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو بہتر بنانے کے لیے نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنی گزشتہ پریس کانفرنس میں کہے گئے ایک ایک لفظ پر آج بھی قائم ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو عناصر ملک کے مفادات کے خلاف سرگرم ہیں یا پاکستان کے خلاف باتیں کرتے ہیں، انہیں اس کے سنگین اور سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ملک کی مجموعی انتظامی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی صوبے کو ذاتی جاگیر کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ عامتہ الناس کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ غریب شہریوں کے بچے حادثات کی نذر ہو رہے ہیں جبکہ جمہوریت کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچ پا رہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ روایتی اور نام نہاد جمہوری طریقوں کی وجہ سے ریاست کو اندرونی طور پر متعدد مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کا یہ بھی ماننا تھا کہ اصلاحات کے ذریعے ایک بہتر اور شفاف نظام قائم کیا جا سکتا ہے جس سے جمہوریت کے اصل فوائد عوام کو مل سکیں۔
فیصل واوڈا کے مطابق نظام کو ری بوٹ کرنے کا مقصد پورے ڈھانچے میں ایسی تبدیلیاں لانا ہے جو عوام کے لیے مفید ثابت ہوں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نئی ٹیم کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے ایک سو اسی دن کی مدت میں اپنی کارکردگی ثابت کر کے دکھانا ہوگی۔
صوبہ خیبرپختونخوا کی انتظامی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں کسی بھی قسم کی ناکامی کے لیے کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر متعلقہ ٹیم اپنی کارکردگی بہتر بنانے میں ناکام رہتی ہے تو ان کی جگہ زیادہ بہتر اور اہل افراد کو لایا جائے گا۔
سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس جماعت پر پابندی عائد کرنے سے متعلق انہوں نے دس ماہ قبل ہی بات کر دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت ثابت کرے گا کہ ان کی کہی گئی یہ بات کس حد تک درست تھی۔
مذکورہ سیاسی جماعت کے احتجاجی مظاہروں اور حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ احتجاج میں شریک ہونے والے افراد کی تعداد بہت کم تھی۔ انہوں نے شرکاء کی تعداد محض چھ سو کے قریب بتاتے ہوئے پارٹی کی سیاسی حکمت عملی پر سوالیہ نشان اٹھایا۔
صوبائی سطح پر سیاسی شخصیات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں سہیل آفریدی کی مبینہ نااہلی کا عمل بھی باضابطہ طور پر شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ عوامی نمائندوں اور حکومتی عہدیداروں کو اپنی ذمہ داریاں مکمل دیانت اور کارکردگی کے ساتھ نبھانا ہوں گی۔
ملکی سیاسی منظر نامے میں استحکام کے لیے تمام فریقین کو سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ عوامی مسائل کا بروقت ازالہ کیا جا سکے۔ سینیٹر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے مفادات کو ہمیشہ مقدم رکھا جائے گا اور ملکی سلامتی کے خلاف کسی بھی قسم کی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گندی جمہوریت کی وجہ سے پاکستان کے اندر بے شمار مسائل پیدا ہوئے ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایک اچھی اور شفاف جمہوریت ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام آگے بھی چلتا رہے گا لیکن اس میں بروقت اور ضروری تبدیلیاں لانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ غریب طبقے کے بچوں کا گٹروں میں گر کر جاں بحق ہونا انتہائی دلخراش ہے اور اس قسم کے حادثات اس بات کا ثبوت ہیں کہ عام آدمی کو نظام سے کوئی ریلیف نہیں مل رہا ہے۔
انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ اگر حکومتی امور چلانے والی موجودہ ٹیم کارکردگی دکھانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہتی ہے تو اس صورت میں قیادت اور ذمہ داران کو تبدیل کرنے میں کوئی تاخیر نہیں کی جائے گی۔





اپنی رائے دیں