پاکستان کی مسلح افواج نے دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک اور اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ملک نے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہائپرسونک بیلسٹک میزائل 'فتح ٹو' توسیع شدہ رینج (ای آر) کا کامیاب تجربہ مکمل کر لیا ہے۔
یہ عسکری کامیابی ملک کی دفاعی تیاریوں میں اضافے اور جدید عسکری تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کی غرض سے حاصل کی گئی ہے۔ میزائل تجربے کے موقع پر متعلقہ حکام اور تکنیکی ماہرین کی بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے اس کامیابی پر اطمینان کا اظہار کیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ میزائل جدید ترین نیویگیشن سسٹم اور ایونکس کی خصوصیات سے آراستہ ہے۔ اس کی ساخت میں ایسے سائنسی اصول شامل کیے گئے ہیں جو پرواز کے دوران اسے راستہ اور سمت تبدیل کرنے کے قابل بناتے ہیں۔
اس جدید صلاحیت کی بدولت میزائل روایتی اور پیچیدہ فضائی راستوں پر کامیابی سے گامزن رہ سکتا ہے۔ یہ تکنیکی خوبی دشمن کی جانب سے نصب کردہ جدید میزائل دفاعی نظام کو باآسانی ناکام بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
میزائل کے ڈیزائن میں انتہائی اعلیٰ درستگی کے ساتھ اہداف کو نشانہ بنانے کی خصوصیت رکھی گئی ہے۔ اس کے ذریعے مطلوبہ اور مقررہ اہداف کو انتہائی کم فاصلے کے انحراف کے ساتھ کامیابی سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
تجربے کے دوران اس بات کا مشاہدہ کیا گیا کہ میزائل نے اپنی تمام تکنیکی خصوصیات پر پورا اترتے ہوئے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ اس تجربے کے بعد ملک کی دفاعی اور اسٹریٹجک صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس میزائل کی رینج میں اضافے سے پاک فوج کی آپریشنل رسائی کو وسعت ملی ہے۔ اب فوج دور دراز علاقوں میں موجود اہداف کو بھی انتہائی موثر انداز میں نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس اہم نوعیت کے تجربے کا مشاہدہ کرنے والوں میں کمانڈر آرمی راکٹ فورس کمانڈ شامل تھے۔ اس کے علاوہ پاک فوج کے سینئر افسران، دفاعی سائنسدان اور انجینئرز بھی اس موقع پر موجود تھے۔
کمانڈر آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے اس کامیابی پر سائنسدانوں اور انجینئرز کی انتھک محنت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ تکنیکی ماہرین کی دن رات کی لگن اور پیشہ ورانہ مہارت کی وجہ سے یہ ہدف حاصل کیا گیا ہے۔
ملکی سیاسی اور عسکری قیادت نے بھی اس شاندار کامیابی پر دفاعی ماہرین اور سائنسدانوں کو مبارکباد پیش کی ہے۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ پاکستان کی تکنیکی خود کفالت اور دفاعی قوت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر اپنے پیغامات میں سائنسدانوں اور انجینئرز کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ قوم کو اپنے ماہرین کی صلاحیتوں پر مکمل فخر ہے۔
چیف آف ڈیفنس فورسز اور سروسز چیفس نے بھی اس کامیاب تجربے کو پاکستان کے دفاع کے لیے ایک اور روشن باب قرار دیا۔ عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے ایسے اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق فتح ٹو (ای آر) کا کامیاب تجربہ خطے میں طاقت کے توازن اور ملکی سلامتی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے پاکستان کی عسکری صلاحیتوں کا دائرہ کار مزید وسیع ہو گیا ہے۔





اپنی رائے دیں