بین الاقوامی کرکٹ کے میدانوں سے ریٹائرمنٹ لینے والے نامور کھلاڑیوں کو ایک بار پھر ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں ایکشن میں دیکھنے کے لیے ایک نئے اور دلچسپ ایونٹ کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت ہانگ کانگ میں دسمبر 2026 کے دوران ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کانٹی نینٹ کپ کا انعقاد کیا جائے گا۔
اس میگا ایونٹ میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے 60 سے زائد سابق انٹرنیشنل کرکٹرز اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں گے جن کے لیے تیاریاں باضابطہ طور پر شروع کی جا چکی ہیں اور مختلف ٹیموں کے اسکواڈز کا اعلان بھی کیا جا رہا ہے۔
منتظمین کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق اس افتتاحی ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر چار نامور ٹیمیں حصہ لیں گی جن کے درمیان کانٹے دار مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔
ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والی چار ٹیموں کے ناموں میں ایشیا واریئرز، افریقا لائنز، یورپ چیمپئنز اور نارتھ امریکا ایگلز شامل ہیں جو ٹرافی کے حصول کے لیے میدان میں اتریں گے۔
منتظمین کے مطابق اس ٹورنامنٹ کے مجموعی شیڈول کا باضابطہ اعلان تاحال نہیں کیا گیا ہے تاہم توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ ایونٹ سے متعلق مزید تفصیلات جلد ہی جاری کر دی جائیں گی۔
اس عالمی ایونٹ کے دوران فائنل سمیت کل 9 میچز کھیلے جائیں گے جن میں شائقین کرکٹ کو ماضی کے نامور ستاروں کو ایک بار پھر پرفارم کرتے ہوئے دیکھنے کا شاندار موقع ملے گا۔
ٹورنامنٹ کی ایک نمایاں ٹیم ایشیا واریئرز نے اپنے 24 رکنی اسکواڈ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے جس میں روایتی حریف ممالک کے کھلاڑیوں کو ایک ہی خیمے میں جمع کیا گیا ہے۔
ایشیا واریئرز کی اس طاقتور ٹیم میں بھارت کے سابق مایہ ناز اوپنر شیکھر دھون کو بھی شامل کیا گیا ہے جو ٹورنامنٹ میں اپنی بیٹنگ کے جوہر دکھائیں گے۔
شیکھر دھون کے ساتھ ساتھ اس اسکواڈ میں پاکستان کے تجربہ کار اور شاندار آل راؤنڈر افتخار احمد کو بھی ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔
پاکستانی اسکواڈ میں شامل دوسرے نمایاں کھلاڑی بائیں ہاتھ کے معروف فاسٹ بولر سہیل تنویر ہیں جو ماضی میں پاکستان کے لیے شاندار کارکردگی دکھا چکے ہیں۔
یاد رہے کہ سہیل تنویر اس تاریخی پاکستانی ٹیم کا بھی حصہ رہ چکے ہیں جس نے سال 2009 کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اپنے نام کیا تھا۔
ایشیا واریئرز کے اس متوازن 24 رکنی اسکواڈ میں دیگر ممالک کے نامور سابق کھلاڑی بھی شامل ہیں جو ٹیم کو مزید مضبوطی فراہم کریں گے۔
بھارت کے سابق لیگ اسپنر راہول شرما بھی اس اسکواڈ کا حصہ ہیں جو اپنی بولنگ سے حریف بلے بازوں کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بنگلادیش کے تجربہ کار کرکٹرز بھی اس ٹیم کا حصہ بنائے گئے ہیں جن میں روبیل حسین اور محمود اللہ ریاض کے نام سرفہرست ہیں۔
مذکورہ کھلاڑیوں کی موجودگی سے ایشیا واریئرز کا اسکواڈ کاغذ پر انتہائی متوازن اور تجربہ کار دکھائی دے رہا ہے جو ٹورنامنٹ میں فتح کے لیے پرامید ہوگا۔
کرکٹ شائقین کے لیے یہ ایک انہونی اور دلچسپ صورتحال ہوگی جہاں پاکستانی اور بھارتی کرکٹرز ایک ہی ٹیم کی جرسی پہن کر میدان میں اتریں گے۔




اپنی رائے دیں