وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی صوبائی ایپکس کمیٹی کے اہم اجلاس میں شرکت کی غرض سے پشاور پہنچ گئے ہیں۔ ان کی آمد کا یہ موقع صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سامنے آیا ہے جہاں سکیورٹی کے امور پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ پشاور پہنچنے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ صوبائی دارالحکومت میں اہم شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔
ان ملاقاتوں میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور دیگر سینیئر حکام بھی شامل ہیں جن سے موجودہ حالات پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق صوبائی ایپکس کمیٹی کا یہ اہم اجلاس دوپہر ایک بجے منعقد ہو رہا ہے۔ اجلاس کی صدارت گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے کی جا رہی ہے جس میں تمام متعلقہ ادارے شریک ہیں۔
اس اجلاس میں صوبے کی مجموعی اندرونی سکیورٹی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ شرکاء کی جانب سے دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے موثر حکمت عملی وضع کی جا رہی ہے۔ اجلاس میں پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ یعنی سی ٹی ڈی سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید فعال بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ صوبے میں امن و امان کی مستقل بحالی کے لیے بھی لائحہ عمل طے کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں خیبرپختونخوا کے 12 حساس اضلاع کی صورتحال کو خصوصی طور پر زیر بحث لایا جا رہا ہے۔ ان حساس اضلاع میں سکیورٹی کو مزید سخت کرنے کے لیے اہم فیصلے کیے جانے کی توقع ہے۔
ان فیصلوں میں خیبرپختونخوا کے ان 12 اضلاع میں پاک فوج کی تعیناتی اور اس حوالے سے دیگر ضروری اقدامات کا جائزہ بھی شامل ہے۔ عسکری حکام ان امور پر اجلاس کو تفصیلی بریفنگ دے رہے ہیں۔ اجلاس میں آئی جی خیبر پختونخوا، اعلیٰ عسکری حکام اور سی ٹی ڈی کے سینیئر افسران بھی شرکت کر رہے ہیں۔
تمام متعلقہ ادارے مل کر صوبے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے تجاویز پیش کر رہے ہیں۔ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبے کے انتظامی اور سکیورٹی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ ایپکس کمیٹی کا یہ اجلاس انھی تبدیلیوں کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
حکومت اور سکیورٹی ادارے صوبے میں امن و امان کو سبوتاژ کرنے والے عناصر کے خلاف سخت اقدامات کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی پلان کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ دورہ وفاقی اور صوبائی دارالحکومت کے درمیان سکیورٹی امور پر بہترین ہم آہنگی کا مظہر ہے۔
اس نوعیت کے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں سے دہشت گردی کے خاتمے میں مدد ملتی ہے۔ صوبائی حکومت اور عسکری قیادت دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ پشاور میں ہونے والا یہ اجلاس اس عزم کو مزید عملی جامہ پہنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
اجلاس کے دوران صوبے میں قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے مختلف تجاویز کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سکیورٹی فورسز کو درپیش چالشز اور ان کے حل کے لیے درکار وسائل پر بھی بات چیت کا عمل جاری ہے۔
عوامی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ حساس علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ بھی اس اہم اجلاس کا حصہ ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی پشاور آمد کے بعد سکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں ہونے والی ان اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے مثبت نتائج برآمد ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت جاری اس اجلاس میں تمام شرکاء نے سکیورٹی صورتحال پر مکمل اتفاق رائے کا اظہار کیا ہے۔ صوبے کے عوام کے تحفظ اور امن کی بحالی کے لیے تمام ادارے ایک ہی صفحے پر موجود ہیں۔
آنے والے دنوں میں سکیورٹی کے حوالے سے مزید اہم فیصلے متوقع ہیں جن پر فوری عمل درآمد کیا جائے گا۔ پشاور میں ایپکس کمیٹی کا یہ اجلاس صوبے کے امن کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔





اپنی رائے دیں