برطانیہ کے علاقے ویلز سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ شہری اوئن فائلر نے اپنی طویل العمری اور صحت مند زندگی کا حیرت انگیز راز دنیا کے سامنے بیان کر دیا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں برطانوی فوج کی جانب سے خدمات انجام دینے والے اس باہمت شخص نے حال ہی میں اپنی عمر کی 107 ویں بہار دیکھی ہے۔
اوئن فائلر کی پیدائش سنہ 1919 میں ہوئی تھی اور رواں ماہ کی سولہ تاریخ کو انہوں نے اپنی زندگی کی ایک اور شاندار سالگرہ منائی۔ اتنی طویل عمر پانے کے بعد بھی ان کا جوش و خروش اور یادداشت کا معیار دیکھ کر لوگ حیران رہ جاتے ہیں۔
طویل زندگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اوئن فائلر کا کہنا تھا کہ وہ اپنی خوراک میں فش اور چپس شوق سے کھاتے ہیں مگر وہ اعتدال کو برقرار رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ جتنا دل چاہے کھانا کھاتے ہیں لیکن کبھی بھی پیٹ بھر کر یا حد سے زیادہ نہیں کھاتے۔
غذائی عادات کے علاوہ انہوں نے اپنی اس طویل حیات کا بنیادی سبب ایک پرسکون اور مثبت انداز میں زندگی گزارنے کو قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس طویل سفر تک کیسے پہنچے اس کے بارے میں وہ خود بھی زیادہ نہیں سوچتے۔
بزرگ شہری نے بتایا کہ ان سے اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ انہوں نے اتنی طویل صحت مند زندگی کیسے گزاری۔ اس کے جواب میں وہ ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ اس کامیابی کا کوئی خفیہ نسخہ موجود نہیں ہے۔
اوئن فائلر نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں سخت محنت کی اور ہمیشہ اچھے طریقے سے زندگی بسر کی۔ ان کے بقول محنت اور مثبت سوچ نے انہیں اندرونی طور پر مضبوط رکھا۔
خاندانی پس منظر کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ اوئن فائلر چار بچوں کے والد ہیں اور ان کا خاندان کافی پھیلا ہوا ہے۔ ان کی فیملی میں دس پوتے پوتیاں یا نواسے نواسیاں جبکہ پندرہ پرپوتے اور پرنواسیاں شامل ہیں۔
اپنی زندگی کے اس طویل سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ وہ 107 سال کی عمر تک زندہ رہ سکیں گے۔ بچپن کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے اس دور کی مشکلات کا ذکر بھی کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اپنے بچپن کے زمانے میں انہوں نے کبھی بڑھاپے اور مستقبل کے بارے میں نہیں سوچا تھا کیونکہ اس عہد میں لوگوں کو بہت زیادہ سنجیدہ مسائل کا سامنا تھا۔
اوئن فائلر کے مطابق اس دور میں عام لوگوں کے پاس نہ تو کھانے کے لیے مناسب اشیاء ہوتی تھیں اور نہ ہی جیب میں اتنےپیسے ہوتے تھے کہ وہ پرتعیش زندگی کا سوچ سکتے۔
موجودہ دور کے نوجوانوں کے لیے ان کی یہ کہانی ایک زبردست مثال ہے کہ کیسے مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے مثبت سوچ کے ساتھ طویل اور پرسکون زندگی گزاری جا سکتی ہے۔
برطانیہ میں اس عمر کے افراد کی طرف سے اس طرح کی کہانیاں میڈیا کی توجہ کا مرکز بنتی رہتی ہیں اور لوگ ان کے تجربات سے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اوئن فائلر کی یہ کہانی سوشل میڈیا پر بھی کافی مقبول ہو رہی ہے جہاں لوگ ان کی صحت اور طویل عمر پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔





اپنی رائے دیں