مواد پر جائیں
بدھ، 21 اکتوبر 2026 10 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: شام 6:17
بریکنگ
اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری، پولنگ 20 دسمبر کو ہوگیٹھٹھہ: موبائل فون نہ ملنے پر 12 سالہ بیٹے کا والد پر تیز دھار آلے سے حملہصادق آباد: سفاک ماں کا 4 سالہ بیٹے پر تشدد، ویڈیو وائرل ہونے پر پولیس متحرکلاہور: نشتر کالونی میں مبینہ زہریلا دودھ پینے سے بچہ جاں بحق، دکاندار گرفتارجماعت اسلامی کا 23 اکتوبر سے اسلام آباد سپر لانگ مارچ کے تیسرے مرحلے کا اعلانسعودی اتحادی افواج کا مدینہ منورہ کی جانب آنے والے 4 ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰامریکی مڈٹرم انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کی مقبولیت نچلی ترین سطح پر پہنچ گئیلاہور: نشتر کالونی میں مضر صحت دودھ پینے سے دو سالہ بچہ جاں بحقپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہ، نیا نوٹیفکیشن جاریراجن پور میں المناک حادثہ، مسافر بس الٹنے سے 8 افراد جاں بحقٹائیگر شروف پر حملے کے بعد سلمان خان کی سکیورٹی میں غیر معمولی اضافہبیرسٹر گوہر کا پارٹی رہنماؤں کو باہمی بیان بازی سے گریز کی ہدایتفیس بک اور انسٹاگرام صارفین کے لیے اکاؤنٹ ہیکنگ کے خطرے پر اہم الرٹ جاریپشاور: اضاخیل گودام کی سیلاب زدہ گندم مضرِ صحت قرار، ذمہ داروں کی معطلی کی سفارش107 سالہ برطانوی شہری نے طویل العمری کا دلچسپ راز بتا دیاکریڈٹ کارڈز کے ذریعے اخراجات میں کمی اور کیش بیک کا حصولکشمیر چوک انڈر پاس منصوبہ: آئندہ دس دنوں میں اہم پیش رفت ہو گی، محسن نقویچین میں بارہویں منزل کی کھڑکی سے لٹکنے والی معصوم بچی کو بچا لیا گیاجعلی نمبر پلیٹ پر یوٹیوبر رجب بٹ کی لگژری گاڑی تھانے میں بند، مقدمہ درجلاہور میں سردیوں کی آمد سے قبل گیس پریشر میں کمی اور بحران کا آغاز
دیگر خبریں

چین میں بارہویں منزل کی کھڑکی سے لٹکنے والی معصوم بچی کو بچا لیا گیا

چین کے شہر زینگ پنگ میں پڑوسیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی بروقت کارروائی سے معصوم بچی کی جان بچ گئی۔

چین میں بارہویں منزل کی کھڑکی سے لٹکنے والی معصوم بچی کو بچا لیا گیا

چین میں ایک انتہائی دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک بلند و بالا رہائشی عمارت کی بارہویں منزل کی کھڑکی سے معصوم بچی لٹک گئی تھی۔

اس خطرناک اور ہرزہ جاں واقعے کی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ سترہ اکتوبر کو چینی صوبے فوجیان کے ایک معروف شہر زینگ پنگ میں رونما ہوا تھا۔

ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ متعلقہ اپارٹمنٹ بلڈنگ کی بالائی منزل پر واقع ایک کھڑکی کے قریب یہ بچی اکیلی موجود تھی اور وہ بظاہر کھڑکی کی گرل پر چڑھنے کی کوشش کر رہی تھی۔

اسی دوران بدقسمتی سے بچی کا سر لوہے کی سلاخوں کے درمیان پھنس گیا اور اس کا جسم ہوا میں معلق ہو کر رہ گیا جو کہ انتہائی خطرناک صورتحال تھی۔

معصوم بچی نے خوفزدہ ہو کر انتہائی گھبراہٹ کے عالم میں کھڑکی کی سلاخوں کو اپنے چھوٹے ہاتھوں سے مضبوطی سے پکڑ رکھا تاکہ وہ نیچے نہ گر جائے۔

عمارت کے بیرونی حصے میں پیش آنے والے اس خطرناک منظر کو جب نیچے موجود افراد اور پڑوسیوں نے دیکھا تو ان میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

اس نازک وقت میں بچی کی مدد کے لیے عمارت کے سکیورٹی عملے اور محلے داروں نے بغیر ایک لمحہ ضائع کیے فوری طور پر دوڑ لگا دی اور موقع پر پہنچ گئے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ واقعے کے وقت معصوم بچی کے والدین میں سے کوئی بھی گھر پر موجود نہیں تھا کیونکہ اس کا والد اپنے دفتر گیا ہوا تھا۔

دوسری جانب بچی کی والدہ بھی گھر کا ضروری سودا سلف خریدنے کے سلسلے میں کچھ دیر کے لیے باہر گئی ہوئی تھیں اور فلیٹ اندر سے بند تھا۔

عمارت کے ایک بیدار مغز رہائشی نے اس ہنگامی صورتحال کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تو فوری طور پر عمارت کی رہائشی گروپ چیٹ میں تصویر شیئر کر دی۔

اس گروپ چیٹ کے ذریعے رہائشی نے فوری طور پر دیگر تمام مکینوں سے مدد کی اپیل کی تاکہ معصوم بچی کی جان بچائی جا سکے۔

اطلاع ملتے ہی محلے دار، پڑوسی اور سکیورٹی اہلکار فوری طور پر حرکت میں آئے اور انہوں نے متاثرہ فلیٹ کے بالکل نیچے والے فلیٹ کا رخ کیا۔

متاثرہ فلیٹ کے نیچے موجود فلیٹ میں داخل ہونے کے بعد وہاں موجود دو افراد نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر انتہائی شجاعت کا مظاہرہ کیا۔

ان دونوں افراد نے کھڑکی سے باہر نکل کر ایک اسٹول کو معصوم بچی کے جسم کے نیچے عارضی سہارے کے طور پر احتیاط کے ساتھ رکھ دیا۔

اس فوری اور عقل مندی پر مبنی اقدام کا مقصد یہ تھا کہ اگر بچی کی گرفت کمزور ہو جائے تو وہ نیچے نہ گرے اور اسے مناسب سپورٹ مل سکے۔

اس دوران عمارت کے مکینوں نے ہنگامی بنیادوں پر فائر فائٹرز اور پیشہ ورانہ امدادی ٹیموں کو بھی فوری طور پر واقعے کی اطلاع فراہم کر دی تھی۔

اطلاع ملتے ہی فائر فائٹرز اور ریسکیو کا عملہ بھی پوری تیاری کے ساتھ فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ گیا اور انہوں نے فوری طور پر کارروائی کی۔

امدادی کارکنوں نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بچی کے گھر کا بیرونی دروازہ توڑ ڈالا اور فلیٹ کے اندر بحفاظت رسائی حاصل کی۔

گھر کے اندر داخل ہو کر فائر فائٹرز نے معصوم بچی کو مکمل حفاظت کے ساتھ اپنی تحویل میں لے لیا اور اس کے بعد اس کا طویل انتظار ختم ہوا۔

اس کامیاب اور بروقت ریسکیو آپریشن کے بعد امدادی ٹیموں نے فوری طور پر بچی کو طبی معائنے اور جانچ کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا۔

تاہم، اس تمام کارروائی اور اسپتال منتقلی کے بعد بچی کی صحت اور طبی معائنے کے حوالے سے کوئی بھی تفصیلی رپورٹ ت حال سامنے نہیں آ سکی ہے۔

اس واقعے کی ایک ویڈیو بھی اس وقت انٹرنیٹ پر سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر انتہائی تیزی کے ساتھ گردش کر رہی ہے۔

اس ویڈیو نے ایک بار پھر بلند و بالا رہائشی عمارتوں میں رہنے والے والدین کے لیے بچوں کی سکیورٹی کے حوالے سے اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

دیگر خبریں کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں