مواد پر جائیں
بدھ، 21 اکتوبر 2026 10 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 4:38
بریکنگ
اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری، پولنگ 20 دسمبر کو ہوگیٹھٹھہ: موبائل فون نہ ملنے پر 12 سالہ بیٹے کا والد پر تیز دھار آلے سے حملہصادق آباد: سفاک ماں کا 4 سالہ بیٹے پر تشدد، ویڈیو وائرل ہونے پر پولیس متحرکلاہور: نشتر کالونی میں مبینہ زہریلا دودھ پینے سے بچہ جاں بحق، دکاندار گرفتارجماعت اسلامی کا 23 اکتوبر سے اسلام آباد سپر لانگ مارچ کے تیسرے مرحلے کا اعلانسعودی اتحادی افواج کا مدینہ منورہ کی جانب آنے والے 4 ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰامریکی مڈٹرم انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کی مقبولیت نچلی ترین سطح پر پہنچ گئیلاہور: نشتر کالونی میں مضر صحت دودھ پینے سے دو سالہ بچہ جاں بحقپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہ، نیا نوٹیفکیشن جاریراجن پور میں المناک حادثہ، مسافر بس الٹنے سے 8 افراد جاں بحقٹائیگر شروف پر حملے کے بعد سلمان خان کی سکیورٹی میں غیر معمولی اضافہحج و عمرہ زائرین ویکسین اسکینڈل: بارڈر ہیلتھ سروسز کے سربراہ سمیت 3 افسران گرفتاربلوچستان میں ’صحت دہلیز‘ ایپ کا آغاز، گھر بیٹھے مفت طبی مشاورت ملے گیقرضوں پر سود کی ادائیگیوں سے حکومت کو شدید مالی دباؤ کا سامناپنجاب میں یتیم بچوں کی کفالت کے اداروں کی نگرانی پر سوالیہ نشانامریکی انتظامیہ نے دوسرے دورِ حکومت میں 3 لاکھ سے زائد ویزے منسوخ کر دیےڈیرہ اسماعیل خان: درازندہ میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے حملہ ناکام بنا دیاپنجاب بھر میں گراں فروشی کے خلاف کریک ڈاؤن، 445 افراد گرفتارلاہور کے علاقے گرین ٹاؤن میں سوئی گیس کی بندش پر شہریوں کو مشکلاتاسلام آباد میں شیشہ کیفوں پر پابندی برقرار، رولز بنانے کا حکم
پاکستان

اسلام آباد میں شیشہ کیفوں پر پابندی برقرار، رولز بنانے کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضوابط کی تیاری تک وفاقی دارالحکومت میں شیشہ کیفوں پر عائد پابندی برقرار رکھی ہے۔

اسلام آباد میں شیشہ کیفوں پر پابندی برقرار، رولز بنانے کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں شیشہ کیفوں پر عائد پابندی کو تاحکم ثانی برقرار رکھنے کا فیصلہ صادر کیا ہے۔ عدالتِ عالیہ کی جانب سے اس حوالے سے تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ قانون کے مطابق متعلقہ ضوابط کی تیاری تک شیشہ کیفے کھولنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت کا یہ اقدام دارالحکومت میں نوجوان نسل کو صحت کے خطرات سے بچانے اور قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

تحریری فیصلے میں عدالتی احکامات کی روشنی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس پابندی پر من و عن عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ عدالت نے متعلقہ قانون افسران کو بھی یہ تاکید کی ہے کہ وہ شیشہ کیفیز کے حوالے سے درکار تمام رولز اور ضوابط کی تیاری کا عمل فوری طور پر مکمل کریں تاکہ اس صنعت کے لیے ایک واضح اور قانونی لائحہ عمل سامنے آ سکے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں اس نکتہ کو بھی اجاگر کیا ہے کہ قانون میں ممنوع سرگرمیوں کو محض کسی قسم کے این او سی کے اجرا کے ذریعے درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ فیصلے کے مطابق جن شیشہ کیفیز کے پاس ماضی میں ضوابط کی تکمیل کے بغیر این او سی جاری کیے گئے تھے، وہ بھی اب اس پابندی کی زد میں آئیں گے۔ ایسے تمام این او سی کو کالعدم اور واپس شدہ تصور کیا جائے گا تاکہ کسی بھی قانونی ابہام کی گنجائش باقی نہ رہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے کے بعد وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ اور پولیس حکام کو ہنگامی بنیادوں پر کارروائیاں کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ چیف کمشنر اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر اور انسپکٹر جنرل آف پولیس کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ عدالتی حکم کی پاسداری کو یقینی بنائیں اور شہر بھر میں غیر قانونی شیشہ کیفوں کے خلاف سخت اقدامات کریں۔ انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ حکم عدولی کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

شیشہ نوشی کے بڑھتے ہوئے رجحان نے طبی ماہرین اور معاشرتی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر رکھی ہے، کیونکہ یہ عادت نوجوانوں میں سگریٹ نوشی اور دیگر مضرِ صحت نشہ آور چیزوں کے استعمال کا پیش خیمہ بنتی ہے۔ شیشہ میں موجود تمباکو اور مختلف کیمیاوی اجزاء انسانی صحت بالخصوص پھیپھڑوں اور دل کے امراض کا باعث بنتے ہیں۔ عدالتی فیصلے کو سماجی حلقوں اور صحت عامہ کے اداروں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے کیونکہ اس سے معاشرے کو اس لعنت سے پاک کرنے میں مدد ملے گی اور قانون کی عملداری مضبوط ہوگی۔

انتظامیہ اور ضلعی حکام ماضی میں بھی شیشہ کیفوں کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے ہیں تاہم قانونی ضوابط کی عدم موجودگی کی وجہ سے بعض اوقات قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی تھیں۔ اب اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس واضح تحریری فیصلے کے بعد انتظامیہ کو قانون کے تحت کارروائی کرنے کا پختہ قانونی جواز مل گیا ہے۔ شہریوں نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ اس فیصلے سے دارالحکومت میں شیشہ کیفوں کے تمام غیر قانونی مراکز کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔

عدالت کی طرف سے جاری کردہ اس فیصلے کی کاپی متعلقہ محکموں کو ارسال کر دی گئی ہے تاکہ وہ فوری طور پر عمل درآمد کی رپورٹ تیار کر سکیں۔ چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ضابطے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز ایکشن لیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ وفاقی دارالحکومت میں قانون کی حکمرانی اور صحت عامہ کے تحفظ کی جانب ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

شیشہ کیفیز کے خلاف اس نئی قانونی پیش رفت نے دارالحکومت میں ایک بار پھر اس امر کو اجاگر کیا ہے کہ کسی بھی کاروباری سرگرمی کو چلانے کے لیے متعلقہ قوانین کی مکمل پاسداری ناگزیر ہے۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انتظامیہ اور پولیس کسی بھی دباؤ کے بغیر اپنے فرائض سر انجام دیں اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔

وفاقی دارالحکومت میں قائم شیشہ کیفے طویل عرصے سے حکام کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں کیونکہ ان مقامات پر نوجوانوں کی بڑی تعداد کی موجودگی والدین کے لیے بھی پریشانی کا باعث تھی۔ عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ جب تک باضابطہ قوانین اور قواعد و ضوابط کی منظوری نہیں دی جاتی، اس وقت تک کسی کو بھی اس کاروبار کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

شہر کے مختلف علاقوں میں شیشہ کیفے چلانے والے افراد کی جانب سے ماضی میں این او سی کے حصول کے لیے مختلف دلائل دیے جاتے رہے ہیں، جنہیں عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں مسترد کر دیا ہے۔ عدالت کے مطابق این او سی کا اجرا اس وقت تک کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتا جب تک اس کے لیے بنیادی ضوابط پارلیمنٹ یا متعلقہ فورم سے منظور نہ ہوں۔

پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ باقاعدگی سے ان مقامات کا معائنہ کریں جہاں ماضی میں شیشہ کیفے چلائے جاتے تھے۔ اس حوالے سے کسی بھی قسم کی غفلت یا لاپرواہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور متعلقہ ایس ایچ اوز کو بھی اپنے علاقوں میں اس پابندی پر عمل درآمد کرانے کا پابند کیا گیا ہے۔

معاشرتی فلاحی تنظیموں اور شہریوں کی طرف سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو انتہائی بروقت اور سراہنے والا قدم قرار دیا گیا ہے، کیونکہ اس سے نوجوان نسل کو اس نشہ آور عادت سے بچانے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ عدالت نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس حکم نامے کی تعمیل کی رپورٹ باقاعدگی سے عدالت میں جمع کروائیں۔

اس فیصلے کے بعد اب تمام لاء افسران پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شیشہ کیفیز سے متعلق قوانین اور ضوابط کی تیاری کے عمل کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچائیں تاکہ اس صنعت کے حوالے سے تمام ابہامات ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکیں اور ایک واضح قانونی فریم ورک ملک کے سامنے آ سکے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں