لاہور کے علاقے نشتر کالونی میں مبینہ طور پر زہریلا دودھ پینے کے باعث ایک دو سالہ بچہ جاں بحق ہو گیا، جبکہ اس کا دوسرا ساتھی تشویشناک حالت میں ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دودھ فروخت کرنے والے دکاندار کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم سے تفتیش کا عمل جاری ہے تاکہ حقائق کا تعین کیا جا سکے۔
ڈی آئی جی آپریشنز کے ترجمان کے مطابق متاثرہ بچوں کے والد نے مقامی دکان سے دودھ خریدا تھا جسے پینے کے فوراً بعد دونوں بچوں کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ اہل خانہ نے انہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا۔
ہسپتال میں ڈاکٹروں کی جانب سے بچوں کو بچانے کی بھرپور کوشش کی گئی تاہم دو سالہ بچہ جانبر نہ ہو سکا اور دورانِ علاج دم توڑ گیا۔ دوسرا بچہ تاحال ہسپتال میں زیرِ علاج ہے جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور دکان سے فروخت کیے جانے والے دودھ کے نمونے بھی حاصل کر لیے گئے ہیں۔ ان نمونوں کو فرانزک لیبارٹری بھجوایا جائے گا تاکہ زہریلے مادے کی موجودگی کی تصدیق ہو سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ دودھ میں زہر شامل ہونے یا اس کے خراب ہونے کے حوالے سے حتمی رائے طبی اور فرانزک رپورٹس آنے کے بعد ہی قائم کی جا سکے گی۔ پولیس اس پہلو پر بھی غور کر رہی ہے کہ آیا یہ غفلت کا معاملہ ہے یا کوئی اور وجہ ہے۔
علاقے میں اس افسوسناک واقعے کے بعد شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ناقص اور غیر معیاری اشیائے خوردونوش فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور کسی بھی قسم کی غفلت برتنے والے کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ماہرین صحت کے مطابق بچوں کے لیے دودھ کا معیار انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور ایسی اشیاء کی فروخت میں کوتاہی انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
حکومت پنجاب کی جانب سے بھی اشیائے خوردونوش کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے وقتاً فوقتاً مہمات چلائی جاتی ہیں تاکہ شہریوں کو معیاری اشیاء کی فراہمی ممکن ہو سکے۔
اس واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ کی جانب سے بھی نشتر کالونی اور گردونواح کی دکانوں پر دودھ کے معیار کی جانچ پڑتال کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دیے جانے کا امکان ہے۔
پولیس کی جانب سے گرفتار دکاندار سے تفتیش کے دوران یہ بھی معلوم کیا جا رہا ہے کہ دودھ کہاں سے سپلائی کیا جاتا تھا اور آیا اس میں کوئی ملاوٹ تو نہیں کی گئی تھی۔
متاثرہ خاندان اس وقت شدید صدمے کی کیفیت میں ہے اور پولیس کی جانب سے انہیں انصاف کی فراہمی کا یقین دلایا گیا ہے۔





اپنی رائے دیں