مواد پر جائیں
منگل، 20 اکتوبر 2026 9 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 6:36
بریکنگ
پنجاب ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا نومولود بچوں کے طبی کلیمپ کے استعمال پر الرٹ جاریضلع خیبر میں پولیس اہلکاروں کے اغوا اور تصادم کی خبریں بے بنیاد قرارسہیل آفریدی کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے، عطا تارڑملتان: جبری مشقت سے انکار پر 15 سالہ یتیم بچے کو گاڑی تلے کچل کر قتل کر دیا گیاپاکستان نے پاک ایران سرحد پر چاروں کراسنگ پوائنٹس عارضی طور پر بند کر دیےقلات اور گوادر میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 4 دہشتگرد ہلاک، میجر وجاہت وحید شہیدایکواڈور کے جڑواں بھائی طبی پیچیدگیوں کے باعث انتقال کر گئےکراچی: مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 3 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتارژاں پال سارتر کا فلسفہ اور جدید دور میں انسانی آزادی کا مفہومڈیجیٹل دور میں خبروں کا بہاؤ اور الگورتھم کی بدلتی ہوئی دنیاجامشورو: 17 سالہ مہک ملاح کی پراسرار موت پر دو افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درجوادی کیلاش: ثقافتی تنوع اور قدیم روایات کا مسحور کن مرکزجرمنی میں پاکستان کے نئے سفیر سلمان شریف نے سفارتی اسناد پیش کر دیںلاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پانچویں نمبر پر آ گیاسعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا حوثی حملوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاقآسٹریلیا: خاتون رکن پارلیمنٹ ہیلن ہینز گاڑی کی ٹکر سے شدید زخمیایلون مسک کا 2027 میں امریکی بچوں کو اسپیس ایکس کے شیئرز تحفے میں دینے کا اعلانروس کی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی پیشکشنیب کا ڈاکٹر امجد علی سمیت 5 افراد کو طلبی کا نوٹس جاریمتحدہ عرب امارات اور فرانس کا سمندری سلامتی کیلئے تعاون بڑھانے پر اتفاق
پاکستان

وادی کیلاش: ثقافتی تنوع اور قدیم روایات کا مسحور کن مرکز

چترال کی وادی کیلاش اپنی منفرد ثقافت، قدیم رسم و رواج اور چلم جوشی جیسے تہواروں کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے ایک پرکشش مقام ہے۔

وادی کیلاش: ثقافتی تنوع اور قدیم روایات کا مسحور کن مرکز

پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں واقع وادی کیلاش اپنے دامن میں ایسے قدیم رسم و رواج اور ثقافتی ورثے کو سموئے ہوئے ہے جو دنیا کے کسی اور خطے میں دیکھنے کو نہیں ملتے۔ چترال کے پہاڑی سلسلے میں واقع یہ وادی اپنی منفرد شناخت کی بدولت سیاحوں کے لیے ہمیشہ مرکزِ نگاہ رہتی ہے۔

کیلاش کے باسی سال بھر میں چار اہم تہوار مناتے ہیں جن میں چلم جوشی اور چوموس کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ مئی کے مہینے میں منایا جانے والا چلم جوشی کا تہوار موسمِ بہار کی آمد اور خوشیوں کا پیغام لاتا ہے، جس میں مقامی لوگ روایتی رقص اور موسیقی کے ذریعے اپنی ثقافت کا اظہار کرتے ہیں۔

اس وادی تک رسائی کے لیے لواری ٹنل ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی ہے۔ طویل عرصے تک زیرِ تعمیر رہنے والی یہ سرنگ اب چترال اور دیر کے درمیان سفر کو چند گھنٹوں سے کم کر کے منٹوں میں بدل چکی ہے، جس سے سیاحوں اور مقامی آبادی کو بے پناہ سہولت ملی ہے۔

کیلاش خواتین کا لباس ان کی پہچان اور ثقافتی وقار کی علامت ہے۔ سیاہ رنگ کے لمبے کرتوں پر ہاتھ سے کی گئی رنگین کڑھائی اور سر پر پہنی جانے والی مخصوص ٹوپیاں، جن پر موتی اور کوڑیاں سجی ہوتی ہیں، ان کی منفرد تہذیبی شناخت کو اجاگر کرتی ہیں۔

مقامی روایات کے مطابق یہ لباس انتہائی مقدس سمجھا جاتا ہے اور اکثر نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔ خواتین اپنے ہاتھوں سے تیار کردہ ان ملبوسات کو فروخت کرنے کے بجائے اپنی تہذیبی امانت کے طور پر محفوظ رکھتی ہیں، جو ان کی روایت پسندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

کیلاش میں موت کے تصور کو بھی دیگر معاشروں سے مختلف انداز میں دیکھا جاتا ہے۔ یہاں کسی کی وفات پر غم منانے کے بجائے اسے زندگی کے ایک نئے مرحلے کے طور پر منایا جاتا ہے، جہاں برادری کے لوگ جمع ہو کر متوفی کی زندگی کی یادیں تازہ کرتے ہیں۔

ماضی میں کیلاش قبائل میں میت کو تابوت میں رکھ کر قبرستان میں چھوڑنے کی روایت تھی، تاہم اب وقت کے ساتھ ساتھ تدفین کا عمل اپنا لیا گیا ہے۔ یہ تبدیلی مقامی آبادی کے بدلتے ہوئے سماجی شعور اور دیگر برادریوں کے ساتھ ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔

وادی کے مختلف دیہات جیسے بمبوریت، رمبور اور بریر اپنی قدرتی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ تاریخی اہمیت بھی رکھتے ہیں۔ بمبوریت کو ان دیہات میں مرکزی حیثیت حاصل ہے جہاں کیلاش برادری کی ایک بڑی تعداد آباد ہے اور سیاحوں کے لیے قیام و طعام کی سہولیات بھی موجود ہیں۔

کراکال گاؤں میں واقع قدیم قبرستان اور بشالینی جیسے مقامات کیلاش کی قدیم تاریخ اور ان کے سماجی اصولوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ بشالینی ایک مخصوص مقام ہے جہاں خواتین مخصوص ایام کے دوران قیام کرتی ہیں، جو ان کے عقائد اور روحانی پاکیزگی کے تصور سے جڑا ہے۔

تہواروں کے دوران کیلاش کے لوگ اپنے روایتی گیتوں اور رقص کے ذریعے فطرت سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ ان تقریبات میں شرکت کرنا سیاحوں کے لیے ایک یادگار تجربہ ہوتا ہے جو انہیں ایک مختلف اور پرسکون دنیا کی سیر کرواتا ہے۔

کیلاش کے لوگ اپنی روایات کو جدید دور کے اثرات کے باوجود زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی مہمان نوازی اور سادہ طرزِ زندگی سیاحوں کو بار بار اس وادی کا رخ کرنے پر مجبور کرتی ہے، جہاں ہر قدم پر ایک نئی ثقافتی کہانی جنم لیتی ہے۔

حکومتِ پاکستان اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے سیاحت کے فروغ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات نے اس وادی کو عالمی سطح پر متعارف کرایا ہے۔ بہتر سڑکوں اور سہولیات کی فراہمی سے اب زیادہ سے زیادہ لوگ اس خطے کی خوبصورتی دیکھنے کے لیے آ رہے ہیں۔

وادی کیلاش کا سفر صرف ایک تفریحی دورہ نہیں بلکہ انسانی تہذیب کے ایک قدیم اور منفرد پہلو کو سمجھنے کا موقع ہے۔ یہ وادی پاکستان کے تنوع اور ثقافتی حسن کا ایک ایسا روشن باب ہے جو ہمیشہ محفوظ رہنا چاہیے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں