مواد پر جائیں
پیر، 19 اکتوبر 2026 8 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 11:36
بریکنگ
قلات اور گوادر میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 4 دہشتگرد ہلاک، میجر وجاہت وحید شہیدآسٹریلیا: وفاقی رکن پارلیمنٹ گاڑی کی ٹکر سے شدید زخمی، حالت تشویشناکدہشتگردی کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جانا چاہیے: نواز شریفکراچی: سائٹ ایریا میں گارمنٹس فیکٹری کے گودام میں دوبارہ آگ بھڑک اٹھیسوشل میڈیا پر ریاست مخالف مواد کا معاملہ، اقرار الحسن عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقللاہور: مزنگ اڈا میں گیس سلنڈر لیک ہونے سے آگ بھڑک اٹھی، 2 افراد زخمیلاہور: گیس لیکیج سے آگ لگنے کے باعث 2 افراد زخمی، مختلف واقعات میں 4 جاں بحقحرمین شریفین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: ڈی جی آئی ایس پی آرقصور: بجلی چوری پکڑنے پر لیسکو ٹیم پر مسلح افراد کا حملہ، مقدمہ درجمشرق وسطیٰ میں فوجی تصادم پر مکہ الائنس کا اجتماعی ڈیٹرنس حرکت میں آئے گا: ڈی جی آئی ایس پی آربلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 4 دہشت گرد ہلاک، میجر وجاہت وحید شہیدسعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آربالی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف پر فائرنگ کے ملزمان راجستھان سے گرفتارفرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے وزیرِ داخلہ کا استعفیٰ مسترد کر دیاکراچی: سٹی وارڈن کے اغوا اور تشدد کا مقدمہ، ریلوے پولیس اہلکار نامزدپاکستان ڈیجیٹل اینڈ اے آئی کمپیکٹ پر دستخط کرنے والا پہلا ملک بننے کے لیے تیارخیبرپختونخوا: خستہ حال اسکول عمارتوں میں تدریسی سرگرمیوں پر پابندی عائدقراقرم ایکسپریس 30 اکتوبر سے نجی شعبے کے حوالے کر دی جائے گیآئی جی جیل خانہ جات کو رشوت کی پیشکش، سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل گرفتارسندھ ہائیکورٹ نے فلم گھوسٹ اسکول کی مشروط نمائش کی اجازت دیدی
پاکستان

خیبر پختونخوا میں گندم کی یومیہ فراہمی کا کوٹہ چار ہزار ٹن کر دیا گیا

محکمہ خوراک نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے اور کابینہ کمیٹی کی ہدایات پر کوٹہ بڑھا دیا۔

خیبر پختونخوا میں گندم کی یومیہ فراہمی کا کوٹہ چار ہزار ٹن کر دیا گیا

خیبر پختونخوا کے محکمہ خوراک نے صوبے میں گندم کی یومیہ فراہمی کا کوٹہ تین ہزار میٹرک ٹن سے بڑھا کر چار ہزار میٹرک ٹن کرنے کا باضابطہ فیصلہ کیا ہے۔ یہ اہم اقدام پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے اور کابینہ کی نگراں کمیٹی کی ہدایات کی روشنی میں اٹھایا گیا ہے تاکہ صوبے بھر میں آٹے کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس اضافی ایک ہزار میٹرک ٹن گندم کو ازاخیل میں قائم نیشنل ریزرو سینٹر کے گوداموں سے فعال فلور ملز تک پہنچایا جائے گا۔ اس حکمت عملی کا مقصد ذخیرہ شدہ گندم کا بروقت استعمال ممکن بنانا اور کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچاؤ کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہے۔

محکمہ خوراک کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے جس کے تحت تمام اضلاع میں آبادی کے تناسب سے گندم کی تقسیم کی جائے گی۔ اس اقدام سے صوبے کے تمام اضلاع میں آٹے کے بحران پر قابو پانے اور قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے میں مدد ملے گی۔

ڈائریکٹر فوڈ نے نظرثانی شدہ کوٹے پر فوری عمل درآمد کے لیے صوبے بھر کے تمام ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز اور راشننگ کنٹرولرز کو سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گندم کی منصفانہ تقسیم اور فلور ملز کو اس کی بروقت ترسیل کو ہر صورت یقینی بنائیں۔

نئے جاری کردہ انتظام کے مطابق صوبائی دارالحکومت پشاور کو روزانہ کی بنیاد پر ایک سو سولہ میٹرک ٹن اضافی گندم فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ مردان کے حصے میں سڑسٹھ میٹرک ٹن جبکہ صوابی کے لیے چھہاس میٹرک ٹن اضافی گندم مختص کی گئی ہے۔

اسی طرح چارسدہ کو پینتالیس میٹرک ٹن، نوشہرہ کو تینتالیس میٹرک ٹن اور لوئر دیر کے اضلاع کو چالیس میٹرک ٹن اضافی گندم دی جائے گی۔ محکمہ خوراک کے اعداد و شمار کے مطابق دیگر اضلاع کے کوٹے میں بھی اسی تناسب سے اضافہ کیا گیا ہے۔

لوئر سوات کے لیے انتالیس میٹرک ٹن، ایبٹ آباد کے لیے پینتیس میٹرک ٹن اور مانسہرہ کے لیے چوالیس میٹرک ٹن گندم مختص کی گئی ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کو پینتالیس میٹرک ٹن اور بنوں کو تینتیس میٹرک ٹن گندم فراہم کی جائے گی۔

محکمہ خوراک کی جانب سے باجوڑ کے لیے بتیس میٹرک ٹن اور کوہاٹ کے لیے تیس میٹرک ٹن گندم کا اضافی کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔ باقی ماندہ تمام گندم دیگر اضلاع کو ان کے سرکاری حصے اور آبادی کے تناسب کے مطابق تقسیم کر دی گئی ہے۔

محکمہ خوراک کی طرف سے یہ اضافی گندم جاری کرنے کا فیصلہ نیشنل ریزرو سینٹر ازاخیل کے اسٹوریج اینڈ انفورسمنٹ آفیسر کی ایک تفصیلی رپورٹ کے بعد کیا گیا۔ اس رپورٹ میں حکام کو آگاہ کیا گیا تھا کہ گوداموں میں موجود گندم کی کیا صورتحال ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ حالیہ سیلابی ریلوں کے باعث گوداموں میں پانی داخل ہو گیا تھا جس سے ذخیرہ شدہ گندم کو نقصان پہنچا ہے۔ سیلابی پانی کی وجہ سے گندم کی بوریوں کی نچلی تہیں متاثر ہوئی تھیں جن کا فوری استعمال ناگزیر ہو گیا تھا۔

نیشنل ریزرو سینٹر ازاخیل میں قائم کل گیارہ گوداموں میں سے چھ گودام سیلابی پانی کی وجہ سے متاثر ہوئے تھے۔ البتہ خوش قسمتی سے مرکز کے باقی پانچ گودام اس قدرتی آفت سے مکمل طور پر محفوظ رہے اور ان میں موجود گندم بالکل درست حالت میں ہے۔

محکمہ خوراک کے مطابق گندم کے ضیاع کو روکنے کا بہترین طریقہ یہی تھا کہ متاثرہ گوداموں کا ذخیرہ فوری طور پر فلور ملز کو جاری کر دیا جائے۔ اس بروقت فیصلے سے نہ صرف قومی سرمائے کو بچایا جا رہا ہے بلکہ عوام کو بھی ریلیف مل رہا ہے۔

صوبائی حکومت اور متعلقہ ادارے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ فلور ملز کو گندم کی فراہمی کے اس نئے نظام پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے اور کسی قسم کی بے ضابطگی سے بچا جا سکے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں