کراچی کے ساحلی علاقوں اور صوبے بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ساحلی پٹی ملکی معیشت اور پائیدار ترقی میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ کے ٹی بندر جیسے مقامات تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق سمندری آلودگی کا خاتمہ اور آبی حیات کا تحفظ ہماری قومی ذمہ داری ہے۔ کراچی کی بندرگاہیں نہ صرف ملکی معیشت کا پہیہ چلانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں بلکہ یہ ملک کی قومی شناخت کی علامت بھی ہیں۔
دوسری جانب صوبے میں مواصلاتی رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے سکھر حیدرآباد موٹروے کا منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ تاہم اس منصوبے کی تکمیل میں تاخیر اور مختلف رکاوٹوں کے باعث عوام کو سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سکھر حیدرآباد موٹروے بروقت مکمل ہو جاتی تو کراچی سے پنجاب اور خیبر پختونخوا تک کا سفر انتہائی آرام دہ اور تیز ہو سکتا تھا۔ یہ منصوبہ صوبے کے مواصلاتی نظام میں ایک نیا باب رقم کر سکتا تھا۔
نوابشاہ سے رانی پور تک کی سڑک کی تعمیر کا منصوبہ بھی سندھ کی ترقی کے لیے ایک اہم قدم تھا، جس کا مقصد نیشنل ہائی وے پر ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا اور اندرونِ ملک سفر کو سہل بنانا تھا۔
اس منصوبے کی تکمیل سے گمبٹ کے جگر کے ہسپتال تک رسائی بھی مریضوں کے لیے آسان ہو جاتی، جہاں پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے بھی بڑی تعداد میں لوگ علاج کی غرض سے سفر کرتے ہیں۔
سندھ حکومت کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے ڈیجیٹل پلیٹ فارم 'آئی ورک فار سندھ' کے حوالے سے بتایا کہ اس پلیٹ فارم پر اس وقت 718 کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں جہاں 21 ہزار 233 فعال ملازمین موجود ہیں۔
حکومت اب اس پلیٹ فارم کو مزید جدید بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی کیریئر اور جاب اسسٹنٹ ایجنٹ متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے، جس سے نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔
کراچی کے ساحلی علاقوں میں مچھیروں کی بستیوں اور وہاں موجود بنیادی مسائل کے حل کے لیے بھی حکومتی سطح پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ فش ہاربر جیسے مراکز کی بہتری سے مقامی معیشت اور مچھیروں کے حالات میں بہتری آ سکتی ہے۔
مواصلاتی منصوبوں میں تاخیر اور انتظامی رکاوٹیں سندھ کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹیں سمجھی جاتی ہیں۔ ان منصوبوں کی شفاف تکمیل سے نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
سندھ کے مواصلاتی نیٹ ورک کو بہتر بنا کر پنجاب اور دیگر صوبوں کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ دریائے سندھ کے ساتھ گزرنے والے یہ راستے ملک کی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
حکومتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ان منصوبوں کو میرٹ پر مکمل کیا جائے تو سندھ کی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔
آئندہ کے لائحہ عمل میں ان تمام منصوبوں کی نگرانی اور شفافیت کو یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ عوام کو ان کا ثمر مل سکے۔ سندھ کی خوشحالی ہی دراصل پاکستان کی معاشی مضبوطی کی ضمانت ہے۔





اپنی رائے دیں