سعودی عرب کے شہر جدہ میں واقع دعوت سینٹر میں ایک پروقار علمی و سماجی مجلس کا انعقاد کیا گیا، جس میں اردو کمیونٹی کے ممتاز افراد اور جمعیت اہل حدیث جدہ کے اراکین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کا مقصد دینی تعلیمات کی اشاعت اور سماجی بیداری کو فروغ دینا تھا۔
اس مجلس کی صدارت مرزا احمد بیگ نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض مولانا عبدالقیوم سلفی نے انجام دیے۔ تقریب میں شریک مہمانوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ دور میں دینی اور سماجی اقدار کو اجاگر کرنے کے لیے ایسے اجتماعات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ارشد بشیر مدنی نے سوشل میڈیا کے مثبت استعمال اور اس کے ذریعے علم کی ترویج پر سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کو ایک مفید ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں موبائل فون اور واٹس ایپ کا درست استعمال علم پھیلانے کا بہترین راستہ ہے۔
ڈاکٹر ارشد بشیر مدنی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ، "آپ کے ہاتھ میں موجود یہ موبائل اور واٹس ایپ دراصل ایک چلتی پھرتی یونیورسٹی ہیں، آپ جہاں چاہیں اور جیسے چاہیں، اس کے ذریعے خیر اور علم کو دنیا بھر میں عام کر سکتے ہیں۔"
مجلس سے فضیلۃ الشیخ مفتی عبدالرحمٰن شاہین نے بھی خطاب کیا اور دعوتِ دین کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہر مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ کا پیغام دوسروں تک پہنچائے، جس طرح ہمارے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام نے اس عظیم مقصد کے لیے قربانیاں دیں۔
مفتی عبدالرحمٰن شاہین نے اس بات پر زور دیا کہ دعوتِ دین کا کام ایک مسلسل عمل ہے اور ہمیں اسے اپنی زندگی کا اہم حصہ بنانا چاہیے۔ انہوں نے شرکاء کو یاد دلایا کہ اسلام کی روشنی کو عام کرنا ہر دور میں ایک بڑی نیکی رہی ہے۔
تقریب کے صدر مرزا احمد بیگ نے اپنے صدارتی خطبے میں حاضرین پر زور دیا کہ وہ آج کی مجلس میں کیے گئے علمی مذاکرے کے نکات کو عملی زندگی میں اپنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تعلیمات کو نئی نسل تک پہنچانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔
مرزا احمد بیگ نے مزید کہا کہ ہم دین کی ترقی اور ترویج کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے اور ایسی علمی مجالس کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے تقریب کے کامیاب انعقاد پر منتظمین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ سوشل میڈیا اور دیگر جدید ذرائع کو معاشرے میں بہتری اور علم کے فروغ کے لیے استعمال کریں گے۔ اس موقع پر شرکاء کے درمیان تبادلہ خیال بھی ہوا جس میں مختلف سماجی مسائل پر گفتگو کی گئی۔
جدہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے اس تقریب کو سراہتے ہوئے اسے ایک بہترین اقدام قرار دیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ ایسے پروگراموں سے نہ صرف علمی پیاس بجھتی ہے بلکہ کمیونٹی کے افراد میں باہمی اتحاد اور ہم آہنگی کا جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے۔
تقریب میں موجود دیگر معززین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ دینی اور عصری علوم کے درمیان توازن قائم رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے دعوت سینٹر کی کاوشوں کو سراہا اور مستقبل میں بھی ایسے پروگراموں کی خواہش ظاہر کی۔
یہ مجلس اس لحاظ سے بھی منفرد رہی کہ اس میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جنہیں سوشل میڈیا کے درست استعمال کے بارے میں رہنمائی فراہم کی گئی۔ مقررین نے نوجوانوں کو ترغیب دی کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مثبت مقاصد کے لیے وقف کریں۔
آخر میں ملک و قوم کی سلامتی اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ تقریب کے شرکاء نے اس عزم کے ساتھ رخصت لی کہ وہ اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر معاشرے کی بہتری اور دین کی سربلندی کے لیے کوشاں رہیں گے۔





اپنی رائے دیں