شہرِ قائد میں موچکو پولیس نے ایک کامیاب کارروائی کے دوران مسافر بس سے بھاری مقدار میں اسمگل شدہ موبائل فونز اور ٹیبلٹس برآمد کر لیے ہیں۔ یہ کارروائی موچکو چیک پوسٹ پر خفیہ اطلاع ملنے کے بعد عمل میں لائی گئی۔
پولیس حکام کے مطابق دورانِ تلاشی بس میں بنائے گئے خفیہ خانوں سے مجموعی طور پر 253 موبائل فونز اور 68 ٹیبلٹس برآمد ہوئے ہیں۔ یہ تمام الیکٹرانک اشیاء غیر قانونی طریقے سے بلوچستان کے راستے کراچی منتقل کی جا رہی تھیں۔
اس کارروائی کے نتیجے میں دو ملزمان کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جن کی شناخت سعید ملک اور محمد اعجاز کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ملزمان سے مزید تفتیش کا عمل شروع کر دیا گیا ہے تاکہ اسمگلنگ کے نیٹ ورک کا پتہ لگایا جا سکے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے چیک پوسٹوں پر نگرانی کا نظام مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان نے پکڑے جانے سے بچنے کے لیے بس کے اندر مخصوص خفیہ خانے تیار کر رکھے تھے۔ پولیس اب یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ سامان کہاں سے خریدا گیا تھا اور اسے شہر میں کس کو پہنچایا جانا تھا۔
کراچی میں اس طرح کی اسمگلنگ کی کوششیں ماضی میں بھی سامنے آتی رہی ہیں، تاہم پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ایسی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
گرفتار کیے گئے ملزمان کو تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کو توقع ہے کہ ان سے ہونے والی پوچھ گچھ کے دوران اسمگلنگ کے مزید اہم سراغ مل سکیں گے جس سے بڑے گروہوں تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔
شہر میں غیر قانونی اشیاء کی ترسیل روکنے کے لیے پولیس کی جانب سے مختلف داخلی راستوں پر خصوصی ناکہ بندی کی جاتی ہے۔ موچکو چیک پوسٹ پر تعینات عملے نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بڑی کھیپ کو پکڑا۔
اس واقعے کے بعد پولیس نے شہر بھر میں اسمگلنگ کے خلاف اپنی حکمت عملی کو مزید بہتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسمگل شدہ سامان کی برآمدگی ایک بڑی کامیابی ہے۔ اس سے نہ صرف قومی خزانے کو ہونے والے نقصان کو روکا جا سکے گا بلکہ غیر قانونی کاروبار کرنے والوں کی حوصلہ شکنی بھی ہوگی۔
واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پولیس حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ شہریوں کے تعاون سے ہی اس طرح کی جرائم پیشہ سرگرمیوں کا خاتمہ ممکن ہے۔
تحقیقاتی ٹیمیں اب اس بات کا تعین کر رہی ہیں کہ آیا یہ ملزمان کسی منظم گروہ کا حصہ ہیں یا انفرادی طور پر یہ کام کر رہے تھے۔ تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
اس کارروائی کو کراچی پولیس کی جانب سے اسمگلنگ کے خلاف ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ پولیس کے اعلیٰ حکام نے موچکو پولیس کی اس کارکردگی کو سراہا ہے اور تفتیش کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔





اپنی رائے دیں