کراچی میں نامعلوم سمت سے چلنے والی گولیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس کے باعث شہریوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ حالیہ واقعات میں ایک کمسن بچی سمیت دو افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
پہلا واقعہ محمود آباد کے علاقے نمبر 2 میں پیش آیا جہاں گھر کے اندر موجود 5 سالہ دعا زہرہ نامی بچی نامعلوم سمت سے آنے والی گولی لگنے سے زخمی ہو گئی۔ گولی لگنے سے بچی کی کمر متاثر ہوئی جس کے بعد اسے فوری طبی امداد دی گئی۔
دوسرا واقعہ شارع نور جہاں کے علاقے نارتھ ناظم آباد بلاک یو میں پہاڑ گنج کے قریب پیش آیا۔ یہاں 42 سالہ پرویز نامی شخص اپنے گھر میں موجود تھا کہ نامعلوم سمت سے آنے والی گولی اس کی ٹانگ میں لگی جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔
زخمی ہونے والے پرویز کو فوری طور پر عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ چھیپا حکام نے دونوں واقعات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرین کو بروقت ہسپتال پہنچایا گیا تاکہ ان کی جان بچائی جا سکے۔
پولیس نے دونوں واقعات کی اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ گولیاں نامعلوم سمت سے چلائی گئیں جس کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔
شہر میں نامعلوم سمت سے گولیاں لگنے کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں جس پر شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ انتظامیہ ہوائی فائرنگ اور اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کرے۔
کراچی جیسے گنجان آباد شہر میں اس طرح کے واقعات انسانی جانوں کے لیے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان واقعات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ آئندہ ایسی صورتحال سے بچا جا سکے۔
علاقہ مکینوں نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ گنجان آباد علاقوں میں سیکیورٹی کو مزید بہتر بنایا جائے اور ہوائی فائرنگ کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس حوالے سے پولیس کی تفتیشی ٹیمیں مصروف عمل ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ گولیاں کہاں سے چلائی گئیں اور ان کا محرک کیا تھا۔ اس حوالے سے مزید قانونی کارروائی کا عمل جاری ہے اور زخمیوں کی حالت کے بارے میں بھی معلومات لی جا رہی ہیں۔
شہر میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی جانب سے مختلف علاقوں میں گشت بڑھانے کے احکامات بھی دیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
محمود آباد اور نارتھ ناظم آباد کے رہائشیوں نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گھروں کے اندر بھی محفوظ نہ ہونا ایک تشویشناک صورتحال ہے جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
پولیس کی جانب سے علاقے میں موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے بھی شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ حکام کو امید ہے کہ جلد ہی ان واقعات میں ملوث عناصر کا سراغ لگا لیا جائے گا اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطے کو بھی مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر قریبی تھانے کو دیں۔



اپنی رائے دیں