فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ان لینڈ ریونیو سروس آفیسرز ایسوسی ایشن نے ادارے کی مجوزہ تنظیم نو کے خلاف دی گئی قلم چھوڑ ہڑتال کی کال واپس لے لی ہے۔ اس فیصلے کے بعد پیر کے روز ایف بی آر ہیڈکوارٹرز اور ملک بھر میں موجود فیلڈ فارمیشنز میں تمام افسران اپنے معمول کے دفتری فرائض انجام دیں گے۔
ایسوسی ایشن کی جانب سے گزشتہ شب جاری کیے گئے ایک باضابطہ اعلامیے میں ہڑتال کی کال منسوخ کرنے کی تصدیق کی گئی ہے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ تنظیم نو کے حوالے سے جو بیانات گردش کر رہے تھے، وہ محض ابتدائی مشاورت کا حصہ تھے اور انہیں حتمی شکل نہیں دی گئی تھی۔
ایف بی آر کی اعلیٰ قیادت نے ایسوسی ایشن کے نمائندوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اصلاحاتی عمل کے دوران ان لینڈ ریونیو سروس کے افسران کے مفادات کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ قیادت نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ تنظیم نو کے دوران افسران کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔
آئی آر ایس او اے نے ایف بی آر کی اعلیٰ قیادت کی یقین دہانی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ وہ قومی خزانے اور ادارے کے وسیع تر مفاد میں ایف بی آر انتظامیہ کے ساتھ تعمیری بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر حکومت اور ایف بی آر انتظامیہ کی جانب سے بھی صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے کوششیں کی گئی تھیں۔ تاہم ایسوسی ایشن نے اپنے اعلامیے میں ہڑتال واپسی کی وجہ قیادت کی جانب سے ملنے والی یقین دہانیوں اور مجوزہ اصلاحات پر وضاحت کو قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ ایف بی آر میں اصلاحات کا عمل ایک طویل عرصے سے زیر بحث ہے جس کا مقصد ٹیکس وصولی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ اس طرح کے انتظامی فیصلوں کے دوران ملازمین اور انتظامیہ کے درمیان مشاورت کا عمل انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔
ایف بی آر حکام کا ماننا ہے کہ ملکی معیشت کی بہتری کے لیے ٹیکس نظام میں بہتری ناگزیر ہے، جس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کا اعتماد میں ہونا ضروری ہے۔ ایسوسی ایشن کی جانب سے ہڑتال کی کال واپس لینے سے دفتری امور میں تعطل کا خدشہ بھی ٹل گیا ہے۔
حکومت پاکستان کی جانب سے بھی ایف بی آر کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ ان اصلاحات کا بنیادی مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور محصولات کی وصولی میں شفافیت لانا ہے تاکہ ملکی معاشی اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔
آئندہ دنوں میں بھی ایف بی آر انتظامیہ اور افسران کی ایسوسی ایشن کے درمیان بات چیت کا عمل جاری رہے گا تاکہ تنظیم نو کے حوالے سے کسی بھی قسم کے تحفظات کو دور کیا جا سکے۔ اس پیش رفت کو ادارے کے اندرونی نظم و ضبط کے لیے مثبت قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے ایف بی آر کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسے میں ادارے کے اندر ہم آہنگی اور کام کا تسلسل برقرار رہنا ملکی مفاد میں ہے تاکہ ٹیکس دہندگان کو سہولیات کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
ایف بی آر کے ترجمان کے مطابق ادارے کی جانب سے اصلاحاتی عمل کو شفاف بنانے کے لیے تمام تر قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ افسران کی جانب سے کام پر واپسی کا فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مسائل کا حل باہمی مشاورت سے ممکن ہے۔
امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ آنے والے وقت میں ایف بی آر کی تنظیم نو کا عمل کسی بڑے تنازع کے بغیر مکمل ہو جائے گا۔ اس سے نہ صرف ادارے کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا بلکہ ملکی محصولات میں بھی خاطر خواہ بہتری متوقع ہے۔
مجموعی طور پر اس پیش رفت نے ایف بی آر کے اندر پائی جانے والی بے یقینی کی کیفیت کو ختم کر دیا ہے۔ اب تمام تر توجہ ادارے کے اہداف کے حصول اور ٹیکس وصولی کے عمل کو مزید تیز کرنے پر مرکوز رہے گی۔



اپنی رائے دیں