کراچی میں اٹھارہ اکتوبر 2007 کا دن ملکی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا المناک باب ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ آج اس سانحہ کارساز کو گزرے ہوئے انیس برس مکمل ہو چکے ہیں، مگر اس واقعے میں جان گنوانے والوں کے لواحقین کا غم آج بھی تازہ ہے۔
اس روز سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو طویل جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس پہنچی تھیں۔ ان کے استقبال کے لیے کراچی ایئرپورٹ سے کارساز تک کارکنوں کا ایک جم غفیر موجود تھا، جہاں ہر طرف خوشی اور جوش و خروش کا سماں دیکھنے میں آ رہا تھا۔
کارکنوں کی بڑی تعداد کے باعث قافلے کی رفتار انتہائی سست تھی اور ایئرپورٹ سے کارساز تک کا مختصر فاصلہ طے کرنے میں کئی گھنٹے لگ گئے۔ اس دوران فضا نعروں سے گونج رہی تھی اور ہر چہرے پر ایک نئے سیاسی سفر کی امید دکھائی دیتی تھی۔
تاہم یہ خوشیاں اس وقت سوگ میں بدل گئیں جب کارساز کے قریب یکے بعد دیگرے دو زور دار دھماکے ہوئے۔ ان دھماکوں نے استقبالی جلوس کو ہلا کر رکھ دیا اور لمحوں میں ہی جشن کا ماحول ماتم میں تبدیل ہو گیا، جس سے ہر طرف تباہی پھیل گئی۔
اس ہولناک دہشت گردی کے واقعے میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جبکہ سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ دھماکوں کے فوری بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور ایمبولینسز کے سائرن فضا میں گونجتے رہے جبکہ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔
سانحہ کارساز کے شہدا کی یاد میں ہر سال اٹھارہ اکتوبر کو یادگار شہدا پر حاضری دی جاتی ہے۔ اس موقع پر لواحقین اور سیاسی کارکنان پھول چڑھاتے ہیں اور شہدا کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کی جاتی ہے۔
ڈپٹی سپیکر سندھ اسمبلی انتھونی نوید نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ کارساز محض ایک دہشت گرد حملہ نہیں بلکہ جمہوری جدوجہد کا ایک ایسا دردناک باب ہے جس نے کئی خاندانوں سے ان کے پیارے چھین لیے اور گھروں کے چراغ بجھا دیے۔
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ سانحہ کارساز میں دی جانے والی قربانیوں کو کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس دن پیش آنے والا واقعہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک سیاہ دھبے کی طرح ہے جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔
واقعے کے انیس برس بیت جانے کے باوجود اس دن کی یادیں ان لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو اس سانحے میں کھویا۔ یہ دن جمہوریت کے لیے دی گئی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور شہدا کے ورثا کے لیے ایک جذباتی دن ہوتا ہے۔
اس سانحے نے ملک بھر میں سوگ کی فضا پیدا کر دی تھی اور سیاسی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا گیا تھا۔ آج بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکن اس مقام پر جمع ہو کر شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
کراچی کی فضاؤں میں آج بھی ان دھماکوں کی گونج محسوس کی جا سکتی ہے جو اس وقت کے پرامن استقبالی جلوس کو نشانہ بنا کر کی گئی تھی۔ یہ واقعہ ملکی سکیورٹی کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا جس نے سیاسی حالات پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
آج بھی اس سانحے کے متاثرین انصاف اور اپنے پیاروں کی یاد میں اشکبار دکھائی دیتے ہیں۔ حکومتی اور سیاسی سطح پر اس دن کی مناسبت سے تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ ان قربانیوں کو یاد رکھا جا سکے جو جمہوریت کی بحالی کے لیے دی گئیں۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اٹھارہ اکتوبر کا دن ہمیشہ ایک اہم اور المناک دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جمہوری عمل کے دوران کس طرح کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا اور کتنی قیمتی جانیں اس سفر میں قربان ہوئیں۔





اپنی رائے دیں