تعلیمی اداروں میں طلباء کی آواز بلند کرنے اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں جامعہ کراچی کے طلباء نے اسٹوڈنٹ یونین کی بحالی کا معاملہ عدالت میں اٹھا دیا ہے۔ اس حوالے سے سندھ ہائیکورٹ میں باضابطہ آئینی درخواست دائر کی گئی ہے جس میں صوبائی حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ کو فریق بنایا گیا ہے۔
یہ قانونی چارہ جوئی جامعہ کراچی کے اسکول آف لا میں زیر تعلیم طلباء کی جانب سے کی گئی ہے جنہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ تعلیمی اداروں میں یونینز کے قیام کو یقینی بنایا جائے۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ طویل عرصے سے طلباء کو ان کے اس جمہوری اور آئینی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے جو ان کی فلاح و بہبود کے لیے ضروری ہے۔
دائر کردہ درخواست میں چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز، سیکریٹری کالجز اور سیکریٹری قانون کو فریق نامزد کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وائس چانسلر جامعہ کراچی اور یونیورسٹی کے رجسٹرار کو بھی فریق بنایا گیا ہے تاکہ متعلقہ تمام ادارے عدالت کے سامنے اپنا مؤقف پیش کریں۔
درخواست کے متن میں بنیادی نکتہ یہ اٹھایا گیا ہے کہ سندھ اسٹوڈنٹس یونین ایکٹ 2019 کو قانون سازی کے مراحل سے گزار کر باضابطہ منظور کیا گیا تھا۔ ایکٹ کی منظوری کے باوجود تاحال اس کے نفاذ کے لیے درکار ضوابط اور قواعد و ضوابط تشکیل نہیں دیے گئے۔
طلباء کے مطابق قواعد و ضوابط کی عدم موجودگی کی وجہ سے صوبے بھر اور خاص طور پر جامعہ کراچی کے طلباء اس بنیادی حق سے تاحال محروم چلے آ رہے ہیں۔ قانون موجود ہونے کے باوجود اس پر عملدرآمد نہ ہونا انتظامی غفلت کو ظاہر کرتا ہے۔
عدالت میں دائر درخواست کے ذریعے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ قانون سازی کے بعد اب مزید تاخیر کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی اس لیے حکومت کو فوری طور پر اس معاملے پر توجہ دینی چاہیے۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سندھ حکومت کو فوری طور پر قواعد کی جانچ پڑتال کرنے کا حکم دیا جائے۔
درخواست گزاروں نے استدعا کی ہے کہ قواعد کی جانچ پڑتال کے بعد حکومت کو فوری طور پر اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت دی جائے۔ نوٹیفکیشن جاری ہونے سے صوبے کے تعلیمی اداروں میں یونینز کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
صوبائی حکومت کے ذمہ داران کے علاوہ جامعہ کراچی کی انتظامیہ کو بھی اس سلسلے میں احکامات جاری کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ عدالت سے کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کو پابند بنایا جائے کہ وہ فوری طور پر ایک الیکشن کمیشن قائم کرے۔
الیکشن کمیشن کے قیام کے بعد جامعہ میں اسٹوڈنٹ یونین کے انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جائے تاکہ طلباء اپنے نمائندے خود منتخب کر سکیں۔ یونینز کی بحالی سے جامعات میں صحت مند تعلیمی اور سیاسی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
ماضی میں پاکستانی جامعات میں طلباء یونینز کا کردار انتہائی اہم رہا ہے جہاں سے ملک کو کئی نامور سیاسی اور سماجی رہنما ملے۔ تاہم طویل پابندی کے بعد اب نئی نسل اپنے اس حق کے حصول کے لیے قانونی راستے اختیار کر رہی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق سندھ اسٹوڈنٹس یونین ایکٹ 2019 کے تحت قواعد کی تیاری آئینی تقاضا ہے جسے پورا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عدالت کے اس معاملے میں مداخلت کرنے سے صوبے کے دیگر تعلیمی اداروں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
جامعہ کراچی کے اس اقدام کو طلباء حلقوں کی طرف سے سراہا جا رہا ہے اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ سندھ ہائیکورٹ اس اہم عوامی مفاد کے کیس میں جلد مثبت احکامات صادر کرے گی۔ طلباء کو امید ہے کہ عدالتی کارروائی کے نتیجے میں برسوں پرانا مسئلہ حل ہو جائے گا۔
موجودہ قانونی پیشرفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ نوجوان نسل اپنے جائز مطبوعات اور آئینی حقوق کے حصول کے لیے قانون کا دروازہ کھٹکھٹانے سے دریغ نہیں کر رہی۔ جامعہ کراچی کے اسکول آف لا کے طلباء کی یہ کاوش آنے والے دنوں میں ملک بھر کے دیگر تعلیمی اداروں کے لیے بھی ایک اہم قانونی مثال ثابت ہو سکتی ہے۔



اپنی رائے دیں