مواد پر جائیں
ہفتہ، 17 اکتوبر 2026 6 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 4:36
بریکنگ
کراچی: اسٹیل ٹاؤن سے مغوی نوجوان کی بوری بند لاش برآمد، کزن سمیت دو ملزمان گرفتارلکی مروت میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ ہلاکیمن: عدن ایئرپورٹ کے قریب میزائل حملہ، حوثیوں کا سعودی کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنانے کا دعویٰپاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں کمی کا امکانپٹرول کی قیمت میں 3 روپے 93 پیسے فی لٹر کمی، ڈیزل کی قیمت برقرارخالصتان تحریک کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو ایک بار پھر قاتلانہ حملے کی دھمکیعازمین حج و عمرہ کیلئے ویکسین خریداری میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا حکمپیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 93 پیسے فی لیٹر کمی کا اعلاناسلام آباد پولیس: سی سی ڈی طرز کے یونٹ کے قیام کی خبریں بے بنیاد ہیںصوبائی وزیر بلال یاسین کا راولپنڈی میں ترقیاتی منصوبوں کا دورہکراچی: پولیس یونٹس کے مابین جھگڑے کی انکوائری مکمل، کارروائی کا فیصلہپاکستان کی بدلتی سیاست اور مولانا فضل الرحمان کا سیاسی مستقبلامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پریس سیکریٹری کیٹی زکریا کو عہدے سے فارغ کر دیابریکنگ نیوز کے پیچھے: صحافیوں کو درپیش کٹھن چیلنجز اور حقائقنانا پاٹیکر کے انتقال پر تنوشری دتہ کا متنازع بیان، بیٹے ملہار کا ردعملمولانا فضل الرحمٰن نے کبھی گورنر شپ کا مطالبہ نہیں کیا، رانا ثناء اللہیامی گوتم نے فلم ’دھرندھر 2‘ میں مختصر کردار کے معاوضے کی حقیقت بیان کر دیغزہ میں اسرائیلی مظالم پر مبنی دستاویزی فلم ‘نازا’ عالمی سطح پر زیر بحثبھارت: ’لہرا دو ترنگا‘ ریلی سے قبل کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی گرفتاربولی وڈ اداکارہ کریتی سینن کا مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کیخلاف عدالت سے رجوع
دنیا

ٹرمپ کا سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف اسرائیلی مدد قبول کرنے کا مشورہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف لڑائی میں اسرائیل کی پیشکش سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

ٹرمپ کا سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف اسرائیلی مدد قبول کرنے کا مشورہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم بیان میں سعودی عرب پر زور دیا ہے کہ وہ یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف جاری کشیدگی کے تناظر میں اسرائیل کی جانب سے ملنے والی فوجی مدد کی پیشکش کو قبول کر لے۔

وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اسرائیل سعودی عرب کے لیے اس معاملے میں ایک انتہائی مددگار اور موثر اتحادی ثابت ہو سکتا ہے، جس سے خطے میں سکیورٹی صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔

یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری تناؤ کے باعث سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی صدر کا یہ بیان خطے میں بدلتی ہوئی سفارتی ترجیحات اور ممکنہ سکیورٹی تعاون کی جانب ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی ثالثی کے ذریعے سعودی عرب کو یہ پیشکش کی تھی کہ وہ حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں سعودی عرب کی معاونت کر سکتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینا بھی تھا۔

تاہم، سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس پیشکش کو قبول کرنے میں تاحال ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کھلے فوجی تعاون سے عوامی سطح پر منفی ردعمل آ سکتا ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے تاحال اس پیشکش پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ سعودی قیادت کا موقف رہا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی خارجہ پالیسی کے فیصلے کرتی ہے۔

یاد رہے کہ ابراہام معاہدوں کے بعد سے خطے کے کئی عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کیے ہیں، لیکن سعودی عرب نے اب تک ان معاہدوں میں شمولیت اختیار نہیں کی ہے اور وہ محتاط انداز اپنائے ہوئے ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو مستحکم قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے امکانات پہلے سے کہیں زیادہ روشن اور مضبوط ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب، امریکی صدر نے ایران کے جوہری پروگرام پر بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے ایران کی زیر زمین تنصیبات کو نشانہ بنانے کا عندیہ بھی دیا۔

ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی میں جوہری ہتھیاروں کا استعمال نہیں کیا جائے گا، تاہم وہ ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔

خطے میں جاری اس کشیدگی کے دوران، ایران نے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں میں اپنے کسی بھی کردار کی تردید کی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اور کسی بھی جارحیت کا مخالف ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا یہ مشورہ مشرق وسطیٰ میں ایک نئی صف بندی کی کوشش ہے۔ تاہم اس پر عملدرآمد کا انحصار سعودی عرب کے داخلی فیصلوں اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر ہوگا۔

آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا سعودی عرب اپنی سکیورٹی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی لاتا ہے یا وہ حوثیوں کے خلاف اپنے روایتی دفاعی ذرائع پر ہی انحصار جاری رکھے گا۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں