امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم بیان میں سعودی عرب پر زور دیا ہے کہ وہ یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف جاری کشیدگی کے تناظر میں اسرائیل کی جانب سے ملنے والی فوجی مدد کی پیشکش کو قبول کر لے۔
وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اسرائیل سعودی عرب کے لیے اس معاملے میں ایک انتہائی مددگار اور موثر اتحادی ثابت ہو سکتا ہے، جس سے خطے میں سکیورٹی صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔
یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری تناؤ کے باعث سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی صدر کا یہ بیان خطے میں بدلتی ہوئی سفارتی ترجیحات اور ممکنہ سکیورٹی تعاون کی جانب ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی ثالثی کے ذریعے سعودی عرب کو یہ پیشکش کی تھی کہ وہ حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں سعودی عرب کی معاونت کر سکتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینا بھی تھا۔
تاہم، سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس پیشکش کو قبول کرنے میں تاحال ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کھلے فوجی تعاون سے عوامی سطح پر منفی ردعمل آ سکتا ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے تاحال اس پیشکش پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ سعودی قیادت کا موقف رہا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی خارجہ پالیسی کے فیصلے کرتی ہے۔
یاد رہے کہ ابراہام معاہدوں کے بعد سے خطے کے کئی عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کیے ہیں، لیکن سعودی عرب نے اب تک ان معاہدوں میں شمولیت اختیار نہیں کی ہے اور وہ محتاط انداز اپنائے ہوئے ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو مستحکم قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے امکانات پہلے سے کہیں زیادہ روشن اور مضبوط ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب، امریکی صدر نے ایران کے جوہری پروگرام پر بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے ایران کی زیر زمین تنصیبات کو نشانہ بنانے کا عندیہ بھی دیا۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی میں جوہری ہتھیاروں کا استعمال نہیں کیا جائے گا، تاہم وہ ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔
خطے میں جاری اس کشیدگی کے دوران، ایران نے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں میں اپنے کسی بھی کردار کی تردید کی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اور کسی بھی جارحیت کا مخالف ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا یہ مشورہ مشرق وسطیٰ میں ایک نئی صف بندی کی کوشش ہے۔ تاہم اس پر عملدرآمد کا انحصار سعودی عرب کے داخلی فیصلوں اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر ہوگا۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا سعودی عرب اپنی سکیورٹی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی لاتا ہے یا وہ حوثیوں کے خلاف اپنے روایتی دفاعی ذرائع پر ہی انحصار جاری رکھے گا۔




اپنی رائے دیں