مواد پر جائیں
بدھ، 14 اکتوبر 2026 3 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 10:56
بریکنگ
ڈیرہ اسماعیل خان: والی بال میچ سے واپسی پر فائرنگ، 5 افراد جاں بحقسعودی عرب: ریاض اور جنوبی علاقوں میں حوثیوں کے 3 میزائل اور 2 ڈرون تباہڈیرہ اسماعیل خان میں دفعہ 144 کا نفاذ، ڈبل سواری اور اسلحہ کی نمائش پر پابندیملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس حادثہ: ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاریبحیرہ اسود میں ڈرون حملہ، مال بردار جہاز ڈوبنے سے 11 افراد لاپتاسوات: سیدو شریف ہسپتال میں 6 افغان ڈاکٹرز کی ہاؤس جاب معطل، پاکستان چھوڑنے کا حکمسعودی عرب: حوثی ملیشیا کے میزائل حملے ناکام، ریاض اور ظہران میں نقصاناتاسلام آباد میں خودکشی کیس کا ملزم مانسہرہ میں بھی فراڈ کا اشتہاری نکلاپنجاب: آئی جی جیل خانہ جات کو رشوت دینے کی کوشش کرنے والا سپرنٹنڈنٹ گرفتارکیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلاپاک فوج کا ہائپرسونک بیلسٹک میزائل ‘فتح ٹو (ای آر)’ کا کامیاب تجربہامیتابھ بچن کا ریٹائرمنٹ لینے سے صاف انکارسیہون کے سرکاری اسپتال کے وارڈ میں سانپ داخل، مریضوں میں شدید خوف و ہراسخیبر پختونخوا: 30 ڈاکٹرز برطرف، 6 افغان ڈاکٹرز کو ملک چھوڑنے کا حکمصاحبزادہ فرحان نے ٹی ٹوئنٹی سیریز میں سب سے زیادہ رنز کا عالمی ریکارڈ بنا لیادیر بالا اور گردونواح میں موسم سرما کی پہلی برفباری، سردی کی لہر میں اضافہپاکستان کو اکتوبر کا پہلا ایل این جی کارگو موصول، سردیوں میں گیس کی طلب میں اضافے کا خدشہآسٹریلیا: چمگادڑوں کے حملوں میں تشویشناک اضافہ، جان لیوا وائرس کا خدشہلاہور میں فضائی آلودگی کی شرح میں اضافہ، بارش کا امکانترکی اور آذربائیجان کے دیرینہ تعلقات میں سفارتی و سیاسی اختلافات کی نئی بحث
پاکستان

پاکستان کو اکتوبر کا پہلا ایل این جی کارگو موصول، سردیوں میں گیس کی طلب میں اضافے کا خدشہ

قطر سے آنے والا گیس بردار جہاز اینگرو ٹرمینل پر لنگر انداز ہو گیا، تاہم موسم سرما میں طلب اور رسد میں فرق برقرار رہنے کا امکان ہے۔

پاکستان کو اکتوبر کا پہلا ایل این جی کارگو موصول، سردیوں میں گیس کی طلب میں اضافے کا خدشہ

پاکستان کو اکتوبر کے مہینے میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا پہلا کارگو موصول ہو گیا ہے، جس سے ملک میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ یہ کارگو قطر سے لایا گیا ہے جو ملکی توانائی کی ضروریات کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

گیس بردار جہاز 'العرِیش' منگل کے روز صبح 11 بج کر 5 منٹ پر اینگرو کے ایل این جی ٹرمینل پر پہنچا اور لنگر انداز ہوا۔ جہاز کے پہنچنے کے بعد دوپہر 12 بجے سے گیس کو دوبارہ قدرتی حالت میں تبدیل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

اگرچہ یہ کارگو موصول ہو چکا ہے، تاہم ماہرین اور متعلقہ حکام کی جانب سے موسم سرما 2026-27 کے دوران گیس کی فراہمی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ملک میں سردیوں کے موسم میں گیس کی طلب میں غیر معمولی اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، موسم سرما کے دوران ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایل این جی کے مجموعی طور پر 24 کارگوز کی ضرورت درکار ہوگی۔ گیس کی یہ مقدار صنعتوں اور گھریلو صارفین کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے ناگزیر سمجھی جا رہی ہے۔

سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان کے نیٹ ورک پر گیس کی طلب موجودہ 550 ملین مکعب فٹ یومیہ سے بڑھ کر 1550 ملین مکعب فٹ یومیہ تک پہنچنے کا امکان ہے، جو ایک بڑا فرق ہے۔

اسی طرح سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے نظام میں بھی طلب میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ کمپنی کی طلب موجودہ 300 ملین مکعب فٹ یومیہ سے بڑھ کر 500 ملین مکعب فٹ یومیہ تک جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس سے دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

گیس کی طلب اور رسد میں اس بڑے فرق کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ موسم سرما کے دوران مختلف شعبوں کو گیس کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس صورتحال میں ترجیحات کا تعین کرنا حکام کے لیے ایک چیلنج ہوگا۔

خدشات کے مطابق، گیس کی محدود دستیابی کے پیش نظر برآمدی صنعتوں، غیر برآمدی صنعتوں، سی این جی سیکٹر اور سیمنٹ کے کارخانوں کو گیس کی فراہمی متاثر ہونے کا امکان ہے۔ ان شعبوں میں گیس کی قلت سے پیداواری عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔

توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں گیس کا بحران ٹالنے کے لیے بروقت منصوبہ بندی اور ایل این جی کی مسلسل سپلائی چین کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس حوالے سے حکومتی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔

پاکستان ماضی میں بھی موسم سرما کے دوران گیس کے شدید بحرانوں کا سامنا کر چکا ہے، جس کے پیش نظر اب حکام زیادہ محتاط دکھائی دیتے ہیں۔ گیس کی بچت اور متبادل ذرائع کا استعمال بھی اس بحران سے نمٹنے کے لیے تجویز کیا جاتا ہے۔

ملک کی معاشی ترقی کے لیے صنعتوں کو بلا تعطل گیس کی فراہمی ناگزیر ہے، کیونکہ گیس کی قلت سے نہ صرف برآمدات متاثر ہوتی ہیں بلکہ روزگار کے مواقع بھی کم ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ حکومت اس صورتحال کو مانیٹر کر رہی ہے۔

آنے والے دنوں میں ایل این جی کے مزید کارگوز کی آمد متوقع ہے تاکہ سردیوں کے عروج کے دوران گیس کی طلب کو کسی حد تک کنٹرول کیا جا سکے۔ عوام سے بھی اپیل کی جاتی ہے کہ وہ گیس کے استعمال میں احتیاط سے کام لیں۔

مجموعی طور پر، اکتوبر میں موصول ہونے والا یہ پہلا کارگو ایک مثبت قدم ہے، تاہم آنے والے مہینوں میں گیس کی فراہمی کو یقینی بنانا ایک بڑا امتحان ہوگا۔ توانائی کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ادارے مسلسل صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں