مواد پر جائیں
بدھ، 14 اکتوبر 2026 3 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: دوپہر 1:56
بریکنگ
اسلام آباد میں تمام شیشہ کیفے بند کرنے کا فیصلہ، ہائیکورٹ کی سخت ہدایتوفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی واشک میں سکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن پر خراج تحسینڈیرہ اسماعیل خان میں امن و امان کے پیش نظر دفعہ 144 نافذڈیرہ اسماعیل خان میں دفعہ 144 نافذ، جلسے جلوسوں اور ڈبل سواری پر پابندی عائدڈیرہ اسماعیل خان: والی بال میچ سے واپسی پر فائرنگ، 5 افراد جاں بحقسعودی عرب: ریاض اور جنوبی علاقوں میں حوثیوں کے 3 میزائل اور 2 ڈرون تباہڈیرہ اسماعیل خان میں دفعہ 144 کا نفاذ، ڈبل سواری اور اسلحہ کی نمائش پر پابندیملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس حادثہ: ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاریبحیرہ اسود میں ڈرون حملہ، مال بردار جہاز ڈوبنے سے 11 افراد لاپتاسوات: سیدو شریف ہسپتال میں 6 افغان ڈاکٹرز کی ہاؤس جاب معطل، پاکستان چھوڑنے کا حکمسعودی عرب: حوثی ملیشیا کے میزائل حملے ناکام، ریاض اور ظہران میں نقصاناتاسلام آباد میں خودکشی کیس کا ملزم مانسہرہ میں بھی فراڈ کا اشتہاری نکلاپنجاب: آئی جی جیل خانہ جات کو رشوت دینے کی کوشش کرنے والا سپرنٹنڈنٹ گرفتارکیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلاپاک فوج کا ہائپرسونک بیلسٹک میزائل ‘فتح ٹو (ای آر)’ کا کامیاب تجربہمیر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کی انکوائری رپورٹ تیار، کل سندھ حکومت کو پیش ہوگیریاست مخالف مواد کا مقدمہ؛ اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ کا فیصلہ چیلنجموبাইল فون پر صاف آواز اور بہتر انٹرنیٹ کا آسان طریقہچلاس اور دیامر کے بالائی علاقوں میں برفباری، بابوسر ناران شاہراہ ٹریفک کیلئے بندملک کے بالائی علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری، موسم میں تبدیلی کا امکان
پاکستان

لاہور ہائیکورٹ: مقررہ مدت کے بعد دائر ٹیکس ریفرنسز ناقابلِ سماعت قرار

عدالت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی تاخیر معاف کرنے کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے سرکاری اداروں کو بھی قانون کی پابندی کا پابند قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ: مقررہ مدت کے بعد دائر ٹیکس ریفرنسز ناقابلِ سماعت قرار

لاہور ہائیکورٹ نے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس سے متعلق ایک اہم قانونی فیصلے میں واضح کیا ہے کہ مقررہ قانونی مدت گزر جانے کے بعد دائر کیے گئے ٹیکس ریفرنسز کسی صورت قابلِ سماعت نہیں ہوں گے۔ عدالت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور دیگر متعلقہ سرکاری محکموں کی جانب سے تاخیر کو معاف کرنے کے لیے دائر کردہ متفرق درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔

یہ فیصلہ جسٹس عابد عزیز شیخ اور جسٹس منور اقبال دوگل پر مشتمل ڈویژن بینچ نے ان لینڈ ریونیو کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کے بعد جاری کیا۔ عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ قانونی مدت ختم ہونے کے بعد دفتری اعتراضات دور کرنے سے درخواستیں ازخود قانونی طور پر درست اور قابلِ سماعت نہیں ہو جاتیں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق، دفتری اعتراضات کو دور کرنے کے لیے دی گئی مہلت کو کسی بھی صورت میں ریفرنس دائر کرنے کی اصل قانونی مدت میں توسیع تصور نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے سپریم کورٹ کے سابقہ نظائر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نامکمل درخواستوں کو قانونی طور پر دائر شدہ نہیں مانا جا سکتا۔

عدالتی بینچ نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ قانونِ میعاد (لمیٹیشن) کے اطلاق کے معاملے میں سرکاری ادارے اور عام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں۔ ایف بی آر یا کسی بھی سرکاری محکمے کو محض سرکاری ادارہ ہونے کی بنیاد پر تاخیر کی معافی میں کوئی خصوصی یا امتیازی رعایت نہیں دی جا سکتی۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سال 2023 میں دائر کیے گئے ٹیکس ریفرنسز کے معاملے میں تقریباً تین سال بعد تاخیر معاف کرنے کی درخواستیں دائر کرنا غیر معقول عمل ہے۔ عدالت نے درخواست گزاروں کی جانب سے دفتری طریقہ کار اور محکموں میں رائج روایات کو تاخیر کا جواز بنانے کی کوشش کو بھی سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار اپنی غفلت اور نامکمل درخواستیں دائر کرنے کی ذمہ داری ہائیکورٹ کے دفتر پر عائد نہیں کر سکتے۔ مقررہ قانونی مدت کے اندر درست اور مکمل درخواست دائر کرنا درخواست گزار کی قانونی ذمہ داری ہے، جس سے پہلو تہی نہیں کی جا سکتی۔

فیصلے کے مطابق، محض اس بنیاد پر تاخیر کو معاف نہیں کیا جا سکتا کہ درخواست پہلے دائر کر دی گئی تھی، لیکن اس میں موجود دفتری اعتراضات بعد میں دور کیے گئے۔ عدالت نے واضح کیا کہ دفتری اعتراضات اور درخواستوں کی تکمیل کے امور کو بنیاد بنا کر قانونی مدت گزرنے کے بعد ریفرنس دائر کرنے کا حق حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائیکورٹ نے ایف بی آر اور دیگر سرکاری اداروں کی جانب سے دائر تاخیر معافی کی تمام متعلقہ متفرق درخواستیں خارج کر دی ہیں۔ عدالت نے اس فیصلے کی مصدقہ نقل اپیلٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو کو بھجوانے کا حکم بھی جاری کر دیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے معاملات میں قانونی تقاضوں کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس فیصلے سے ٹیکس مقدمات میں قانونی مدت کی اہمیت مزید اجاگر ہوئی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، یہ فیصلہ سرکاری محکموں کے لیے ایک اہم پیغام ہے کہ انہیں اپنے قانونی معاملات اور ریفرنسز کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کرنے کے لیے دفتری کارکردگی کو بہتر بنانا ہوگا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا کہ قانون کی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ تمام ادارے مقررہ ضوابط کی پاسداری کریں۔ سرکاری محکموں کی جانب سے تاخیر کے جواز پیش کرنے سے عدالتی نظام پر بوجھ بڑھتا ہے، جسے اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔

فیصلے کے بعد اب متعلقہ محکموں کو اپنے ٹیکس ریفرنسز کے حوالے سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی۔ عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ اب کسی بھی قسم کی غیر ضروری تاخیر کو قانونی تحفظ حاصل نہیں ہوگا اور قانون کے مطابق ہی مقدمات کو آگے بڑھایا جائے گا۔

یہ عدالتی فیصلہ ٹیکس قوانین کے نفاذ اور سرکاری اداروں کی احتساب کے عمل میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی عدالتیں متعدد بار سرکاری اداروں کو وقت کی پابندی کرنے کی ہدایت کر چکی ہیں، تاہم اس فیصلے نے قانونی مدت کی اہمیت کو مزید مستحکم کر دیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ قانون کی بالادستی کے لیے ضروری ہے کہ ہر ادارہ اپنی حدود میں رہ کر کام کرے۔ ٹیکس ریفرنسز کے معاملات میں شفافیت اور بروقت کارروائی ہی انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کا واحد راستہ ہے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں