اسلام آباد ہائیکورٹ میں موٹرویز اور اہم قومی شاہراہوں پر ٹول ٹیکس میں اضافے، جرمانوں میں پچاس فیصد اضافے اور ایم ٹیگ کے نفاذ سے متعلق دائر درخواستوں پر اہم سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے جوڈیشل ایکٹیوازم پینل کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ٹول ٹیکس میں حالیہ اضافے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کس اختیار کے تحت خود سے ٹیکس میں اضافہ کر سکتی ہے۔ عدالت نے ٹول ٹیکس کی شرح گیارہ سو روپے سے تجاوز کرنے پر بھی سوالات اٹھائے۔
این ایچ اے کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران ٹول ٹیکس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے اب یہ اقدام اٹھایا گیا۔ وکیل نے عدالت کو یقین دلایا کہ وہ اس معاملے پر مکمل قانونی معاونت فراہم کریں گے اور اپنا جواب فائل کریں گے۔
عدالت کے روبرو یہ بات بھی سامنے آئی کہ اسی نوعیت کا ایک اور مقدمہ جسٹس ارباب محمد طاہر کی عدالت میں بھی زیر سماعت ہے۔ این ایچ اے کے وکیل نے بتایا کہ اس دوسرے کیس میں ایم ٹیگ کے حوالے سے حکم امتناع جاری ہے، جس کے باعث شہری ایم ٹیگ لگوانے سے گریز کر رہے ہیں۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ ٹول ٹیکس اور ایم ٹیگ سے متعلق تمام مقدمات کو یکجا کرنا ضروری ہے تاکہ ان پر یکساں فیصلہ کیا جا سکے۔ عدالت نے حکم دیا کہ جسٹس ارباب محمد طاہر کی عدالت میں زیر سماعت کیس کو بھی اس کے ساتھ منسلک کیا جائے۔
عدالت نے این ایچ اے کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ اپنا تحریری جواب باقاعدہ فائل کی صورت میں جمع کرائیں تاکہ اسے آن لائن ریکارڈ کا حصہ بنایا جا سکے۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ تمام متعلقہ کیسز کو یکجا کر کے آئندہ ہفتے دوبارہ سماعت کی جائے گی۔
جوڈیشل ایکٹیوازم پینل نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ ٹول ٹیکس اور جرمانوں میں کیا گیا اضافہ عوام پر بوجھ ہے۔ درخواست گزار نے استدعا کی تھی کہ ان اضافوں کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے تاکہ عام شہریوں کو ریلیف مل سکے۔
موٹرویز پر سفر کرنے والے شہریوں کی جانب سے بھی ٹول ٹیکس میں اضافے پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ ایم ٹیگ کے لازمی ہونے کے بعد سے ٹریفک کے نظام میں بہتری لانے کے دعوے کیے گئے تھے، تاہم اس کے نفاذ کے طریقہ کار پر قانونی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
این ایچ اے حکام کا کہنا ہے کہ شاہراہوں کی دیکھ بھال اور جدید سہولیات کی فراہمی کے لیے فنڈز درکار ہوتے ہیں، جس کے لیے ٹول ٹیکس ایک اہم ذریعہ ہے۔ تاہم، عدالت اب اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا یہ اضافہ قانونی تقاضوں کے مطابق ہے یا نہیں۔
عدالت کی جانب سے مقدمات کو یکجا کرنے کے فیصلے کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل مختلف عدالتوں میں الگ الگ سماعتوں کے باعث قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو رہی تھیں، جنہیں اب ایک ہی فورم پر حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
آئندہ ہفتے ہونے والی سماعت میں این ایچ اے کی جانب سے پیش کردہ جوابات اور دلائل کی روشنی میں عدالت اپنا لائحہ عمل طے کرے گی۔ شہریوں کی نظریں اس مقدمے کے فیصلے پر مرکوز ہیں کیونکہ اس کا براہ راست اثر مسافروں کی جیب پر پڑتا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے تمام فریقین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اگلی پیشی پر اپنی تیاری مکمل رکھیں۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی مفاد کے حامل ان معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے گا تاکہ غیر یقینی کی صورتحال کا خاتمہ ہو سکے۔
یہ مقدمہ نہ صرف ٹول ٹیکس بلکہ قومی شاہراہوں پر انتظامی امور اور حکومتی اداروں کے اختیارات کے حوالے سے بھی ایک اہم قانونی نظیر ثابت ہو سکتا ہے۔ عدالت کا فیصلہ موٹرویز کے مستقبل کے انتظامی فیصلوں پر اثر انداز ہوگا۔





اپنی رائے دیں