بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کو دی والی کے تہوار سے ایک روز قبل دنیا کا آلودہ ترین بڑا شہر قرار دیا گیا ہے۔ سوئس گروپ 'آئی کیو ایئر' کی جانب سے جاری کردہ لائیو رینکنگ کے مطابق ہفتے کی صبح دہلی کی فضا میں آلودگی کے ذرات کی مقدار انتہائی تشویشناک سطح پر ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ہفتے کی صبح 10 بج کر 35 منٹ پر دہلی کا ایئر کوالٹی انڈیکس 581 رہا، جو کہ پڑوسی ملک پاکستان کے شہر لاہور کے مقابلے میں دگنا ہے۔ لاہور میں اسی وقت فضائی آلودگی کا انڈیکس 285 ریکارڈ کیا گیا تھا۔
بھارتی حکام کے مطابق یہ درجہ بندی فضائی آلودگی کے ذرات کے ارتکاز پر مبنی ہے، جو بھارت کے اپنے سرکاری انڈیکس سے مختلف طریقہ کار استعمال کرتا ہے۔ بھارت کے سینٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ نے دہلی کی ہوا کے معیار کو 'انتہائی خراب' قرار دیتے ہوئے اسے 363 کے انڈیکس پر رکھا ہے۔
مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز دہلی میں دی والی سے قبل گزشتہ آٹھ برسوں کی بدترین فضا ریکارڈ کی گئی ہے۔ فضا میں زہریلے ذرات کی موجودگی کے باعث شہریوں کو سانس لینے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
آلودگی کی اس سنگین صورتحال کے پیشِ نظر بھارتی حکام نے دہلی اور اس کے گردونواح کے تمام اسکولوں کو آن لائن کلاسز پر منتقل کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ تعلیمی اداروں کی بندش کا مقصد بچوں کو آلودہ فضا سے محفوظ رکھنا ہے۔
حکومتی سطح پر شہریوں کو گھر سے کام کرنے کی ترغیب دی گئی ہے تاکہ سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ کم ہو اور فضائی آلودگی میں مزید اضافے کو روکا جا سکے۔ حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق شمالی بھارت کے کئی حصوں میں موسمِ سرما کے آغاز کے ساتھ ہی فضائی آلودگی ایک سالانہ مسئلہ بن جاتا ہے۔ سرد اور بھاری ہواؤں کے باعث گاڑیوں کا دھواں، تعمیراتی کاموں سے اڑنے والی گرد اور فصلوں کی باقیات جلانے سے پیدا ہونے والا دھواں فضا میں جم جاتا ہے۔
بھارت میں دی والی کا تہوار اتوار کو منایا جائے گا، جس کے دوران آتش بازی کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آتش بازی کے نتیجے میں خارج ہونے والا دھواں اور کیمیکل فضا کے معیار کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔
دی والی کے موقع پر آتش بازی کے استعمال سے فضا میں دھویں کی دبیز تہہ بن جاتی ہے جو کئی دنوں تک برقرار رہتی ہے۔ ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں آتش بازی سے گریز کرنا ہی بہتر ہے۔
شہر میں سموگ کے باعث حدِ نگاہ میں بھی کمی واقع ہوئی ہے جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے۔ انتظامیہ نے تعمیراتی سرگرمیوں پر بھی کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ دھول مٹی کو روکا جا سکے۔
بھارتی دارالحکومت میں فضائی آلودگی کا یہ بحران ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شہر بھر میں دی والی کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ بازاروں میں خریداروں کا رش ہے جبکہ فضا میں آلودگی کے باعث صحت کے مسائل میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ماضی میں بھی دہلی کو سردیوں کے موسم میں فضائی آلودگی کے سنگین چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ حکومتی اقدامات کے باوجود آلودگی کی سطح کو کنٹرول کرنا ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔




اپنی رائے دیں