مواد پر جائیں
جمعرات، 5 نومبر 2026 25 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
تازہ
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہشین ڈائٹ پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ مقررسالک حسین کرپشن کے ثبوت دیں یا معافی مانگیں: عظمیٰ بخاری کا مطالبہامریکہ میں مڈٹرم انتخابات: ڈیموکریٹس کی کانگریس پر شاندار کامیابیایران جنگ امریکی مڈ ٹرم انتخابات میں شکست کی بنیادی وجہ بنی: نائب صدر جے ڈی وینسامریکی مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کا کنٹرول حاصل کر لیاسعودی عرب کے ساتھ تین ارب ڈالر کا قرض رول اوور ہو چکا ہے: وزیر خزانہسری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز: پاکستان کی جانب سے تیز پچز تیار کرنے کا فیصلہوفاقی کابینہ نے 10 روپے کا سکہ جاری کرنے اور نئے کرنسی ڈیزائن کی منظوری دیدیکوٹ لکھپت جیل میں شاہ محمود قریشی کی طبیعت ناساز، گر کر زخمینیب اور ایف آئی اے کا اسعد محمود کو غیر قانونی بھرتیوں کے معاملے پر طلبدبئی میں باکسنگ مقابلے سے قبل فیس آف کے دوران بھارتی فائیٹر نے پاکستانی حریف کو تھپڑ جڑ دیااقبال ڈے پر عام تعطیل: ملک بھر کے بینک مسلسل تین روز بند رہیں گےایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر اختلافات برقرار ہیںامریکی ریاست ٹیکساس میں ڈیموکریٹک پارٹی نے تاریخی کامیابی حاصل کر لیوزیراعظم شہباز شریف کا پیٹرول پر ریلیف نہ دینے والے پمپس کے خلاف کارروائی کا حکمسوی سدرن گیس کمپنی نے موسم سرما کے لیے گیس فراہمی کا شیڈول جاری کر دیابابا وانگا کی پیشگوئی اور خلا سے موصول سگنل، حقیقت کیا ہے؟امریکی وسط مدتی انتخابات 2026: ڈیموکریٹس کی اہم ریاستوں میں کامیابیآبنائے ہرمز پر کشیدگی: ایران کا امریکی جواب مسترد، امریکی صدر کی فضائی کارروائی کی تصدیق
سیاست

محمود اچکزئی کی وزیر اعظم ہاؤس میں مذاکرات کے لیے آمادگی

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے کہا ہے کہ وہ ملکی مسائل کے حل کے لیے حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کو تیار ہیں۔

محمود اچکزئی کی وزیر اعظم ہاؤس میں مذاکرات کے لیے آمادگی

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے سیاسی کشیدگی کم کرنے اور قومی معاملات پر بات چیت کے لیے اہم پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ مذاکرات کے لیے وزیر اعظم ہاؤس جانے پر آمادہ ہیں۔

اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود اچکزئی نے کہا کہ اگر وزیر اعظم شہباز شریف اپوزیشن آفس تشریف لائیں اور چائے نوش فرمائیں تو یہ ایک اچھا اقدام ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ دعوت ملنے پر کسی بھی مقام پر مذاکرات کے لیے جانے کو تیار ہیں۔

اس موقع پر چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی گفتگو کی۔ انہوں نے ماضی کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے ماضی میں بغیر کسی شرط کے مذاکرات کیے لیکن انہیں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے جس کے نتیجے میں حکومت بھی چلی گئی۔

بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ اپوزیشن کا عسکری قیادت کے ساتھ کوئی تنازع نہیں ہے اور وہ ملک میں آئینی بالادستی اور جمہوری عمل کی مضبوطی کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل صرف سیاسی ڈائیلاگ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

مذاکرات کے حوالے سے راجہ ناصر عباس نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ امن کا مستقل حل نہیں ہے اور امن کا قیام عدل و انصاف کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق محمود اچکزئی کی جانب سے مذاکرات کے لیے آمادگی کا اظہار ایک مثبت پیش رفت ہے جس سے ملک میں جاری سیاسی تعطل کو ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے اس پیشکش پر باضابطہ ردعمل کا انتظار ہے۔

ملک میں جاری سیاسی صورتحال کے تناظر میں اپوزیشن جماعتوں کا یہ مطالبہ رہا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر قومی مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ محمود اچکزئی کا یہ بیان اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھا جا رہا ہے۔

پاکستان میں جاری سیاسی بحران کے حل کے لیے ماضی میں بھی مختلف ادوار میں مذاکرات کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ محمود اچکزئی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کو معاشی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے۔

اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ ملک کے مفاد میں ہر قسم کے مذاکرات کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ حکومت بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ مذاکرات کا ایجنڈا واضح ہونا چاہیے تاکہ مسائل کا پائیدار حل نکل سکے۔

خیبر پختونخوا اور دیگر علاقوں میں امن و امان کی صورتحال پر بھی اپوزیشن رہنماؤں نے تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے حکومت کو اپوزیشن کے ساتھ مل کر حکمت عملی وضع کرنی چاہیے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو اس سے ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہوگا۔ استحکام سے معاشی بہتری کے امکانات بھی روشن ہو سکتے ہیں۔

محمود اچکزئی کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کے بعد اب گیند حکومت کے کورٹ میں ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اس پیشکش کو کس طرح لیتے ہیں اور کیا حکومت اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے پر آمادہ ہوتی ہے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

سیاست کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں