صوبائی دارالحکومت لاہور کے علمی اور انتظامی حلقوں میں اس وقت ایک انتہائی خوش گوار اور پروقار تقریب کا انعقاد دیکھنے میں آیا جب سول سروسز اکیڈمی کے احاطے میں ایک نئے تعمیر شدہ بلاک کا باضابطہ افتتاح کیا گیا۔ اس تقریب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس نئی عمارت کو ملک کے ممتاز اور معروف قانون دان اور جج جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمان رمدے کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ اس اہم افتتاحی تقریب میں ملک بھر سے نامور قانونی ماہرین، حکومتی شخصیات اور سول سروس کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے کیا گیا جس کے بعد شرکاء نے جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمان رمدے کی ملکی تاریخ، عدلیہ اور تعلیم کے شعبے میں گراں قدر خدمات کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ اکیڈمی کے اس نئے بلاک کا مقصد زیرِ تربیت سول سروسز کے افسران کو بہترین تعلیمی اور انتظامی سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ وہ مستقبل میں ملک کی بہتر انداز میں خدمت سر انجام دے سکیں۔
مایاں ناز شخصیات کی موجودگی میں ہونے والی اس تقریب کے دوران مقررین نے سابق جج کے شاندار کیریئر کے مختلف اور روشن پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمان رمدے کا شمار پاکستان کے ان ججوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ہمیشہ اپنے فیصلوں میں انصاف کے تقاضوں کو سب سے مقدم رکھا اور کسی بھی قسم کے دباؤ کو خاطر میں نہیں لائے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف شخصیت میاں عامر محمود نے جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمان رمدے کے ساتھ اپنے کئی دہائیوں پر محیط گہرے اور پرانے تعلق کا خاص طور پر ذکر کیا۔ انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ان دونوں کا رشتہ کئی سال پرانا ہے اور اس طویل عرصے کے دوران انہوں نے معزز سابق جج کو ہمیشہ اصولوں پر کاربند پایا ہے۔
میاں عامر محمود کا اپنے خطاب میں مزید کہنا تھا کہ جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمان رمدے نے زندگی کے ہر موڑ پر اور ہر مشکل مرحلے پر انہیں انتہائی بہترین اور مثبت رہنمائی فراہم کی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ممدوح شخصیت نے ہمیشہ میرٹ کو تمام دوسری مصلحتوں پر فوقیت دی اور کبھی بھی انصاف کے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
میاں عامر محمود نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمان رمدے کے میرٹ پر مبنی فیصلے اور ان کی دی گئی راہیں آنے والی نسلوں اور خاص طور پر شعبہ قانون سے وابستہ افراد کے لیے ایک روشن مثال کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے دیانت دار افراد معاشرے کا اصل اثاثہ ہوتے ہیں جن کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
تقریب کے دوران وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے بھی مائیک سنبھالا اور شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمان رمدے کی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ معزز سابق جج اس ملک کا ایک ایسا روشن حوالہ ہیں جن پر پورا معاشرہ بجا طور پر فخر محسوس کر سکتا ہے۔
وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمان رمدے نے جب بھی منصف کی مسند پر بیٹھ کر فیصلے صادر کیے، انہوں نے ہمیشہ اس بات کو یقینی بنایا کہ انصاف کے تقاضے پوری روح کے ساتھ پورے کیے جائیں۔ ان کے فیصلوں نے ہمیشہ قانونی کتابوں میں ایک نئی روایت کی بنیاد رکھی۔
عدالتی اور قانونی خدمات کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیر قانون نے جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمان رمدے کی تعلیمی خدمات کو بھی انتہائی لائق تحسین قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی میدان میں بھی سابق جج کا کردار بہت نمایاں ہے جس سے ملک کے نوجوانوں نے بھرپور استفادہ کیا اور اپنے کیریئر کو بہتر بنایا۔
تقریب کے اختتامی مراحل میں خود جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمان رمدے اسٹیج پر تشریف لائے اور انہوں نے تمام شرکاء، تقریب کے منتظمین اور معزز مہمانوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اس قدر عزت افزائی کی گئی ہے اور ان کے نام سے منسوب بلاک کی تقریب کا انعقاد کیا گیا ہے جس پر وہ دلی خوشی محسوس کرتے ہیں۔
سول سروسز اکیڈمی میں اس نئے بلاک کا قیام اور پھر اس کی اتنی شاندار افتتاحی تقریب ملکی انتظامی اور قانونی حلقوں میں ایک اہم اور خوش آئند موضوعِ بحث بنی رہی۔ ماہرین کا اس موقع پر ماننا تھا کہ سول سروس کے زیرِ تربیت نوجوانوں کے لیے ایسے نامور اور بااصول ججوں کی زندگیوں سے سیکھنے کے لیے بہت کچھ موجود ہے۔
تقریب کے اختتام پر پاکستان کی ترقی، سلامتی اور اداروں کی مضبوطی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں جبکہ شرکاء نے باہمی طور پر خوشگوار ماحول میں یادگار تصاویر بھی بنوائیں۔ اس پُروشہت تقریب نے ایک بار پھر اس بات کو ثابت کیا کہ اچھے اور دیانت دار لوگ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی عوام کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔



اپنی رائے دیں