مواد پر جائیں
بدھ، 4 نومبر 2026 24 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
تازہ
وفاقی کابینہ نے 10 روپے کا سکہ جاری کرنے اور نئے کرنسی ڈیزائن کی منظوری دیدیکوٹ لکھپت جیل میں شاہ محمود قریشی کی طبیعت ناساز، بیرک میں گر پڑےنیب اور ایف آئی اے کا اسعد محمود کو غیر قانونی بھرتیوں کے معاملے پر طلبدبئی میں باکسنگ مقابلے سے قبل فیس آف کے دوران بھارتی فائیٹر نے پاکستانی حریف کو تھپڑ جڑ دیااقبال ڈے پر عام تعطیل: ملک بھر کے بینک مسلسل تین روز بند رہیں گےایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر اختلافات برقرار ہیںامریکی ریاست ٹیکساس میں ڈیموکریٹک پارٹی نے تاریخی کامیابی حاصل کر لیوزیراعظم شہباز شریف کا پیٹرول پر ریلیف نہ دینے والے پمپس کے خلاف کارروائی کا حکمسوی سدرن گیس کمپنی نے موسم سرما کے لیے گیس فراہمی کا شیڈول جاری کر دیابابا وانگا کی پیشگوئی اور خلا سے موصول سگنل، حقیقت کیا ہے؟امریکی وسط مدتی انتخابات 2026: ڈیموکریٹس کی اہم ریاستوں میں کامیابیڈبلیو ٹی اے فائنلز: رائبی کینا اور کو کو گاف ایک ہی گروپ میں شاملآبنائے ہرمز پر کشیدگی: ایران کا امریکی جواب مسترد، امریکی صدر کی فضائی کارروائی کی تصدیقفل فوڈن اپنی بہترین فارم کی بحالی کے لیے پرعزمعبدال السید امریکی ریاست مشی گن سے سینیٹر منتخب ہونے والے پہلے مسلمان بن گئےغزہ میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر آدم حموی امریکی کانگریس کے رکن منتخبامریکی انتخابات: ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لیکیشا لانس باٹمز امریکی ریاست جارجیا کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر منتخبامریکی انتخابات: ڈیموکریٹک امیدواروں نے جنوبی اور شمالی کیرولائنا میں نشستیں جیت لیںلیگ آف لیجنڈز ورلڈ چیمپئن شپ: انوکٹس گیمنگ سیمی فائنل میں پہنچ گئی
پاکستان

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ سنگین سیاسی غلطی ہے، بیرسٹر گوہر

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے اسے عوامی حقوق کے منافی قرار دے دیا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک سنگین سیاسی غلطی قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو عوامی حقوق کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

اپنے ایک بیان میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ صوبائی خودمختاری کو کمزور کر کے امن و امان کا قیام ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ وفاق اور صوبے کے مابین تصادم کی کیفیت پیدا کرنے سے ملکی مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ پیچیدگیاں مزید بڑھیں گی۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کا مینڈیٹ ان کا آئینی اور قانونی حق ہے جس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام اپنے بنیادی حقوق کے خلاف کسی بھی قسم کے اقدامات کو کبھی بھی قبول نہیں کریں گے۔

دہشت گردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے پر کسی کو اختلاف نہیں ہے، تاہم اس جنگ کو عوامی آواز دبانے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ صرف قومی یکجہتی سے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وفاق کی مضبوطی صوبوں کو کمزور کرنے میں نہیں بلکہ ان کی طاقت میں مضمر ہے۔ ان کے مطابق، مضبوط صوبے ہی ایک مستحکم وفاق کی بنیاد ہیں اور مسائل کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے آئین کی بالادستی میں ہے۔

بیرسٹر گوہر نے وفاقی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ انا کو بالائے طاق رکھ کر جائز مطالبات کو تسلیم کرے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل صرف بامعنی مذاکرات کے ذریعے ہی نکالا جا سکتا ہے اور پی ٹی آئی جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی فورم پر آواز اٹھائے گی۔

ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ چند دنوں میں واپس لیا جا سکتا ہے اور ایسا کرنا کمزوری نہیں بلکہ قومی مفاد میں ایک دانشمندانہ قدم ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس فیصلے پر نظر ثانی نہ کی گئی تو ملک کو مزید سیاسی اور معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے مزید کہا کہ سیاسی فیصلوں پر نظر ثانی کرنا دراصل دور اندیشی کی علامت ہے اور ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ عوام کے احساسات کا احترام کیا جائے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کا غیر آئینی اقدام ملک کے لیے نیک شگون نہیں ہے اور اسے فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے۔

ملکی معاشی حالات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام براہ راست معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں سیاسی سکون ہوگا تو معاشی بہتری کے امکانات بھی روشن ہوں گے، لہذا حکومت کو اپنی ترجیحات درست کرنی ہوں گی۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ ملک کو اس وقت اتحاد کی ضرورت ہے اور تمام سیاسی قوتوں کو مل کر قومی چیلنجز کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت ہوش کے ناخن لے گی اور ملک کو مزید انتشار سے بچانے کے لیے آئینی راستے کا انتخاب کرے گی۔

پی ٹی آئی قیادت کا موقف ہے کہ وفاق کو صوبائی معاملات میں مداخلت کے بجائے آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ بیرسٹر گوہر نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی بقا اور ترقی کا دارومدار آئین کی حکمرانی اور جمہوریت کے استحکام پر ہی منحصر ہے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

پاکستان کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں