مواد پر جائیں
بدھ، 14 اکتوبر 2026 3 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 9:33
بریکنگ
اسلام آباد میں تمام شیشہ کیفے بند کرنے کا فیصلہ، ہائیکورٹ کی سخت ہدایتوفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی واشک میں سکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن پر خراج تحسینڈیرہ اسماعیل خان میں امن و امان کے پیش نظر دفعہ 144 نافذڈیرہ اسماعیل خان میں دفعہ 144 نافذ، جلسے جلوسوں اور ڈبل سواری پر پابندی عائدنیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان نے اپنا نیا برانڈ نیم”نیشنل گرڈ پاکستان”متعارف کرادیاذوالقرنین خان مرحوم: دیانت، اصول پسندی اور روشن عدلیہ کی میراثبالی ووڈ فلم کھوسلہ کا گھونسلہ 2 کی ریلیز تاریخ تبدیلمعمر رانا نے جذباتی انداز میں طلاق اور ازدواجی زندگی کے خاتمے کی تصدیق کر دیروس اور امریکا کے درمیان ڈیزل معاہدے سے اقتصادی تعلقات میں بڑی پیشرفتکراچی میں ایف آئی اے کی کارروائی، بینک منیجر سمیت 5 ملزمان گرفتارمراد سعید افغانستان سے خیبر پختونخوا حکومت چلا رہے ہیں: رانا ثنا اللہوزیر خزانہ کی آئی ایم ایف کے اعلیٰ عہدیدار سے ملاقات، معاشی اصلاحات پر گفتگوامریکا اور روس کے درمیان ڈیزل معاہدہ، دو طرفہ تعلقات میں اہم پیشرفتامریکی عدالت کا وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی کا فیصلہ معطلصدر مملکت آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرلیاچھیاسٹھ سال پرانی سائنسی تحقیق میں تیرہ نومبر دو ہزار چھبیس کا تذکرہپنجاب کے سرکاری اسکولوں کے نئے اوقات کار کا نوٹیفکیشن جاریمعاشی اشاریے بہتر، زرمبادلہ ذخائر بلند ترین سطح پر پہنچ گئے، وزیر خزانہکراچی کے علاقے ڈیفنس میں پولیس کا چھاپہ، ایک شخص حراست میںگورنر خیبر پختونخوا کی سردیوں میں گیس لوڈشیڈنگ کم کرنے کی ہدایت
پاکستان

نادرا: ب فارم گم ہونے کی صورت میں دوبارہ حصول کا طریقہ کار جاری

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی نے گمشدہ ب فارم کے حصول کے لیے آن لائن اور سینٹر پر مبنی طریقہ کار واضح کر دیا ہے۔

نادرا: ب فارم گم ہونے کی صورت میں دوبارہ حصول کا طریقہ کار جاری

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شہریوں کی سہولت کے لیے ب فارم (چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ) گم ہو جانے کی صورت میں اسے دوبارہ حاصل کرنے کا جامع طریقہ کار جاری کر دیا ہے۔ اس حوالے سے نادرا کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ والدین اب باآسانی اپنا گمشدہ فارم دوبارہ بنوا سکتے ہیں۔

ترجمان نادرا کے مطابق شہری اس سہولت کے لیے اپنے قریبی نادرا رجسٹریشن سینٹر سے رجوع کر سکتے ہیں یا پھر گھر بیٹھے پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے بھی درخواست جمع کروا سکتے ہیں۔ یہ جدید سہولت شہریوں کے وقت کی بچت اور دفاتر میں رش کو کم کرنے کے لیے متعارف کرائی گئی ہے۔

ب فارم کے دوبارہ حصول کے لیے فیس کی تفصیلات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔ نارمل کیٹیگری کے تحت اس کی فیس 50 روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ اگر کوئی شہری ایگزیکٹو کیٹیگری کے ذریعے فوری سروس حاصل کرنا چاہے تو اس کے لیے 500 روپے فیس ادا کرنا ہوگی۔

نئے ب فارم کے حصول کے لیے ضروری دستاویزات میں بچے کا پیدائشی سرٹیفکیٹ اور والدین کے قومی شناختی کارڈز شامل ہیں۔ ان دستاویزات کی موجودگی میں نادرا کے مراکز یا آن لائن سسٹم کے ذریعے درخواست کا عمل مکمل کیا جا سکتا ہے۔

نادرا کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ 10 سال سے کم عمر بچوں کے ب فارم کے لیے ان کی تصویر لازمی ہے، جبکہ 10 سے 18 سال کی عمر کے بچوں کے لیے بائیو میٹرک تصدیق یعنی فنگر پرنٹس اور آنکھوں کے اسکین کا عمل مکمل کرنا ضروری ہے۔

یاد رہے کہ ایک سال سے زائد عمر کے بچوں کے ب فارم کے حصول کے لیے والدین کا نادرا کے دفاتر میں ذاتی طور پر موجود ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ ضابطہ کار سیکیورٹی اور ڈیٹا کی درستگی کو یقینی بنانے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔

نادرا کی جانب سے فراہم کردہ یہ آن لائن سہولت شہریوں کے لیے ایک بڑی آسانی ہے، جس سے وہ طویل قطاروں میں کھڑے ہونے کے بجائے موبائل ایپ کے ذریعے اپنی درخواست جمع کروا سکتے ہیں۔ حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ درست دستاویزات کے ساتھ ہی درخواست دیں۔

ب فارم، جسے چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ بھی کہا جاتا ہے، پاکستان میں بچوں کی قانونی شناخت کے لیے ایک انتہائی اہم دستاویز ہے۔ یہ دستاویز نادرا کے ریکارڈ میں بچے کے اندراج کو یقینی بناتی ہے اور تعلیمی اداروں میں داخلے سمیت دیگر سرکاری امور میں ناگزیر ہے۔

نادرا کے مطابق پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے درخواست دینے کا عمل انتہائی سادہ ہے۔ صارفین کو ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے اپنی پروفائل بنانی ہوتی ہے، جس کے بعد وہ مطلوبہ دستاویزات اپ لوڈ کر کے ب فارم کے حصول کے لیے آن لائن فیس ادا کر سکتے ہیں۔

ایگزیکٹو کیٹیگری کے تحت 500 روپے فیس ادا کرنے والے شہریوں کو ترجیحی بنیادوں پر سروس فراہم کی جاتی ہے۔ اس سہولت کا مقصد ان والدین کی مدد کرنا ہے جنہیں ہنگامی بنیادوں پر بچوں کے شناختی دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ان کے اہم کام نہ رکیں۔

نادرا انتظامیہ کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن سینٹرز پر شہریوں کی سہولت کے لیے خصوصی کاؤنٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ اگر کوئی شہری آن لائن طریقہ کار سے واقف نہیں ہے تو وہ کسی بھی قریبی سینٹر پر جا کر عملے سے رہنمائی حاصل کر سکتا ہے۔

ب فارم بنوانے کے لیے والدین کے شناختی کارڈز کا درست ہونا ضروری ہے۔ اگر والدین کے شناختی کارڈز میں کوئی مسئلہ ہو تو پہلے اسے درست کروانا پڑتا ہے، جس کے بعد ہی بچوں کے ب فارم کا عمل آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

نادرا کی جانب سے جاری کردہ یہ ہدایات 13 اکتوبر 2026 کو سامنے آئی ہیں۔ ادارہ مسلسل اپنی سروسز کو ڈیجیٹلائز کر رہا ہے تاکہ شہریوں کو نادرا دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں اور گھر بیٹھے ہی ان کی رجسٹریشن کے مسائل حل ہو سکیں۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں