وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان کے ضلع واشک میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے گئے ایک کامیاب آپریشن پر فورسز کی کارکردگی کی بھرپور تعریف کی ہے۔ اس آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ خوارجی دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا۔
وزیر داخلہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت کی گئی یہ کارروائی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے سکیورٹی فورسز کے غیر متزلزل عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وطن کے بہادر سپوتوں نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ ملک دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری اس جنگ میں پوری قوم اپنی سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے تک یہ کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی اور کسی کو بھی امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
واضح رہے کہ سکیورٹی فورسز ملک بھر میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں اور بلوچستان سمیت دیگر علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو توڑا جا رہا ہے۔ ان کارروائیوں کا مقصد عوام کے جان و مال کا تحفظ اور ملک میں پائیدار امن کا قیام ہے۔
حکومت اور عسکری قیادت کا موقف رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ واشک میں ہونے والا یہ حالیہ آپریشن اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے اور علاقے میں امن کی فضا کو بحال کرنے میں مدد ملی ہے۔
وزیر داخلہ نے آپریشن میں حصہ لینے والے تمام جوانوں اور افسران کی ہمت اور بہادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم کو اپنے محافظوں پر فخر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی اداروں کا مورال بلند ہے اور وہ ہر قسم کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے سکیورٹی فورسز کی جانب سے وقتاً فوقتاً مختلف آپریشنز کیے جاتے ہیں۔ ان آپریشنز کے نتیجے میں نہ صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا ہے بلکہ ان کے سہولت کاروں کو بھی قانون کی گرفت میں لایا گیا ہے۔
حکومت پاکستان کی جانب سے ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کا اعادہ کیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے کسی بھی گروہ کو معاف نہیں کیا جائے گا اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
سکیورٹی ماہرین کے مطابق واشک جیسے علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی موجودگی اور ان کی بروقت کارروائیاں دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی جانے والی یہ کارروائیاں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو کمزور کرنے کا باعث بنتی ہیں۔
عوام کی جانب سے بھی سکیورٹی فورسز کی ان کامیابیوں کو سراہا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا پر بھی لوگ فورسز کے حق میں اپنی حمایت کا اظہار کر رہے ہیں۔ شہریوں کا ماننا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کی بدولت ہی ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔
وزیر داخلہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز میں تیزی لائی گئی ہے۔ حکومت اور سکیورٹی ادارے ملک کو پرامن بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
آنے والے دنوں میں بھی دہشت گردی کے خلاف یہ کارروائیاں جاری رہنے کا امکان ہے تاکہ ملک کے ہر کونے سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔ سکیورٹی ادارے اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھانے کے لیے پوری طرح مستعد ہیں۔
آخر میں وزیر داخلہ نے شہداء کو بھی خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے ملک کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ان کا خون ملک میں امن کی ضمانت بنے گا۔





اپنی رائے دیں