تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے ملنے والی اطلاعات حوصلہ افزا نہیں ہیں اور اس صورتحال پر پوری قوم کو گہری تشویش لاحق ہے۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ پارٹی رہنماؤں کو بانی سے ملاقات کے بعد حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ بیرسٹر سلمان صفدر کی ملاقات کے دوران بانی پی ٹی آئی کی صحت اور قانونی امور سے متعلق کچھ ہدایات اور معلومات موصول ہوئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ میں 18 اگست کے عدالتی حکم پر عمل درآمد کے لیے باقاعدہ درخواست دائر کر دی گئی ہے۔
اس عدالتی حکم میں بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل کرنے اور وہاں ان کا مناسب علاج کرانے کی واضح ہدایت دی گئی تھی۔
عدالتی احکامات میں بانی پی ٹی آئی کی صحت کا جائزہ لینے کے لیے ایک جامع میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا بھی کہا گیا تھا۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ سے یہ استدعا کی گئی ہے کہ اس معاملے پر جلد از جلد سماعت کی جائے تاکہ تاخیر نہ ہو۔
انہوں نے زور دیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت انتہائی اہمیت رکھتی ہے اور اس معاملے پر کسی بھی قسم کی غفلت یا سمجھوتہ ناقابل قبول ہے۔
ملکی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ملک میں جاری سیاسی تناؤ میں مزید اضافہ نہیں ہونا چاہیے اور اب اس کشیدگی کو ختم کرنا چاہئے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیاسی کارکنوں، سپورٹرز اور ارکان اسمبلی کو حراست میں لینے کا سلسلہ اب بند کیا جانا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے انکشاف کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں اس وقت جیل میں موجود ہیں جن کے بارے میں تاحال مکمل معلومات سامنے نہیں آ سکیں، لہٰذا ان کی فوری رہائی کو یقینی بنایا جائے۔
ادھر سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر مشال یوسفزئی نے بتایا کہ چار ہفتے گزر جانے کے باوجود بانی پی ٹی آئی کا کیس سماعت کے لیے فکس نہیں ہو سکا۔
سینیٹر مشال یوسفزئی نے تصدیق کی کہ اڈیالہ جیل میں قید تنہائی کی وجہ سے بانی پی ٹی آئی کا بلڈ پریشر 192 تک بڑھ جاتا ہے۔
انہوں نے عدالتِ عظمیٰ سے پُر زور اپیل کی کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیس کی سماعت اگلے ہفتے کے لیے مقرر کی جائے۔
عدالت میں دائر کی گئی اس نئی درخواست کا مقصد حکمِ عدولی کے خدشات کو دور کرنا اور بانی کو فوری طبی امداد فراہم کرنا ہے۔
تحریک انصاف کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ قانون اور آئین کے تحت ہر قیدی کو طبی سہولیات تک رسائی کا بنیادی حق حاصل ہے۔
موجودہ سیاسی منظر نامے میں یہ قانونی چارہ جوئی حکومت اور عدلیہ دونوں کے لیے ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق وکلاء کی ٹیم عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے لیے تمام آئینی اور قانونی راستے استعمال کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
متعلقہ اداروں کی جانب سے اس نئی درخواست پر تاحال کوئی رسمی جوابی بیان سامنے نہیں آیا ہے اور سماعت کی تاریخ کا اعلان آئندہ دنوں میں متوقع ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں اور مبصرین کی نگاہیں بھی سپریم کورٹ کے اس ممکنہ فیصلے پر لگی ہوئی ہیں جو اس تنازعے کا رخ طے کر سکتا ہے۔



اپنی رائے دیں