معروف ٹی وی اینکر اقرار الحسن کے خلاف سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مواد کی تشہیر کے مقدمے میں قانونی کارروائی کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے، جہاں عدالت نے ملزم پر فردِ جرم عائد کرنے کے لیے نئی تاریخ مقرر کر دی ہے۔
کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں اس مقدمے کی سماعت ہوئی جس میں اینکر اقرار الحسن اپنے قانونی مشیروں کے ہمراہ ذاتی حیثیت میں عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
عدالت کی جانب سے سماعت کے دوران ملزم کو مقدمے سے متعلق تمام نقول باضابطہ طور پر فراہم کر دی گئیں تاکہ وہ دفاع کی تیاری مکمل کر سکیں۔
عدالت نے اس موقع پر ملزم کو آئندہ تاریخ پر اپنی حاضری یقینی بنانے کی سخت ہدایت بھی جاری کی ہے تاکہ کارروائی بلا تعطل آگے بڑھ سکے۔
اس مقدمے کی سماعت اور کارروائی کے حوالے سے جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کراچی کے روبرو تمام امور طے پائے، جہاں فریقین کے وکلا بھی موجود تھے۔
اس سے قبل جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے جمع کروائے گئے عبوری چالان کو باضابطہ طور پر حتمی قرار دے دیا تھا۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اس مقدمے کی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کی تھی۔
این سی سی آئی اے نے اینکر اقرار الحسن پر سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست مخالف مواد پھیلانے اور اس کی تشہیر کرنے کے الزامات عائد کر رکھے ہیں۔
انہی الزامات کے تحت تحقیقاتی ادارے نے اقرار الحسن کے خلاف ضابطے کے مطابق مقدمہ درج کر رکھا ہے جس کی تفتیش اب عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔
اس وقت اینکر اقرار الحسن اس مقدمے میں عدالت سے ضمانت پر ہیں اور قانونی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔
عدالت کی جانب سے آئندہ تاریخ پر کارروائی کا اگلا مرحلہ مکمل کیا جائے گا جب ان پر باضابطہ طور پر فردِ جرم عائد کی جائے گی۔


اپنی رائے دیں