الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے جاری تمام تر تیاریوں کو فوری طور پر روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ گورنر آرڈر نمبر 3 کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔
اس اہم فیصلے کا اعلان جمعرات کے روز الیکشن کمیشن کے ایک باضابطہ اعلامیے کے ذریعے کیا گیا۔ کمیشن کا یہ ہنگامی اجلاس چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں صوبائی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران کمیشن کے ارکان نے گورنر کے آرڈر کی شق نمبر 2 کا بغور مطالعہ کیا اور اس کے قانونی اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔ اس شق کے تحت آئین کے آرٹیکل 140-اے کو معطل کر دیا گیا ہے، جو مقامی حکومتوں کے قیام اور اختیارات کی منتقلی سے متعلق ہے۔
الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق گورنر کا یہ حکم نامہ صوبے کے تمام اضلاع پر لاگو ہوتا ہے، سوائے ان مخصوص علاقوں کے جنہیں اس آرڈر سے استثنیٰ حاصل ہے۔ کمیشن نے اس آئینی صورتحال کے پیش نظر انتخابی عمل کو فی الحال غیر معینہ مدت کے لیے روک دیا ہے۔
یاد رہے کہ گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے یہ آرڈر 4 نومبر 2026 کو جاری کیا گیا تھا۔ اس حکم نامے کے سامنے آنے کے بعد سے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے قانونی اور انتظامی پیچیدگیاں پیدا ہو گئی تھیں۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ آئینی شق کی معطلی کے بعد انتخابی عمل کو جاری رکھنا ممکن نہیں تھا۔ کمیشن نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس حکم نامے کی روشنی میں اپنی کارروائیوں کو محدود رکھیں۔
خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ایک اہم آئینی تقاضا سمجھا جاتا رہا ہے، تاہم تازہ ترین پیش رفت نے اس عمل کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔
آرٹیکل 140-اے مقامی حکومتوں کے انتخابات اور ان کے اختیارات کے حوالے سے ایک بنیادی آئینی شق ہے۔ اس کی معطلی کا براہِ راست اثر صوبے میں نچلی سطح پر جمہوریت کے تسلسل پر پڑ سکتا ہے۔
الیکشن کمیشن کے اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ آیا مستقبل میں انتخابی عمل کو بحال کرنے کے لیے مزید قانونی مشاورت کی ضرورت ہے۔ کمیشن اس معاملے پر اپنی قانونی ٹیم سے بھی رائے لے رہا ہے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اس آرڈر کے بعد اب سیاسی حلقوں میں بھی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں اس پیش رفت کو اپنے اپنے انداز میں دیکھ رہی ہیں۔
فی الحال خیبر پختونخوا کے ان اضلاع میں جہاں انتخابات کی تیاریاں جاری تھیں، وہاں تمام سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔ انتخابی عملے کو بھی اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
آئندہ کے لائحہ عمل کا انحصار اب قانونی ماہرین کی رائے اور صوبائی حکومت کے اگلے اقدامات پر ہوگا۔ الیکشن کمیشن نے اس معاملے پر اپنی نظریں جمائے رکھی ہیں تاکہ آئینی تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔



اپنی رائے دیں