پٹرولیم ڈیلرز نے ملک بھر کی ریفائنریوں کے منافع کا فارنسک آڈٹ کرانے کا باضابطہ مطالبہ کر دیا ہے جس سے پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں کمی لانے کی بات کی گئی ہے۔
اس سلسلے میں پٹرولیم ڈیلرز کا ایک ہنگامی اجلاس منگل کے روز کراچی میں منعقد ہوا جس میں شعبے کے منافع اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران پٹرولیم ڈیلرز کے عہدیدار ملک خدا بخش نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر ریفائنریوں کے مالی معاملات کا شفاف فارنسک آڈٹ کروایا جائے تو پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں پچاس روپے تک کمی ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریفائنریوں کے منافع کی اصل حقیقت کو عوام کے سامنے لانے کے لیے فوری طور پر جامع تحقیقات کی جانی چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان اداروں نے محض تین ماہ کے قلیل عرصے میں پورے سال کے برابر منافع حاصل کیا ہے جو کہ قابلِ غور ہے۔
ملک خدا بخش نے اس بات پر زور دیا کہ وزیر پٹرولیم کا حالیہ بیان بھی ان کے ان تحفظات کی بھرپور تصدیق کرتا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایک اور عہدیدار انور کمال نے کہا کہ عام صارفین کو پٹرول کی قیمتوں میں چالیس سے پچاس روپے فی لیٹر تک ریلیف دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریفائنریوں نے مبینہ طور پر ناجائز منافع کمایا ہے لہذا عوام کو ان کا جائز حق واپس دلایا جانا چاہیے۔
انور کمال کا کہنا تھا کہ تمام متعلقہ ریفائنریوں کے مالی ریکارڈ اور منافع خوری کی جانچ پڑتال کے لیے غیر جانبدارانہ فارنسک آڈٹ ناگزیر ہو چکا ہے۔
ڈیلرز کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ اس آڈٹ کے ذریعے ریفائنریوں کے ماضی کے منافع کی تمام حقیقتیں بے نقاب ہو جائیں گی۔
مستقبل میں عوام پر کسی بھی قسم کا اضافی مالی بوجھ ڈالنے کے تمام راستوں کو سختی سے روکنا ہوگا۔
اجلاس کے شرکاء نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ پٹرولیم سیکٹر سے متعلق فیصلہ ساز کمیٹیوں میں ڈیلرز کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پٹرولیم کے شعبے کے اہم اسٹیک ہولڈرز کو ملکی سطح پر پالیسی سازی کے عمل سے باہر نہ رکھا جائے۔




اپنی رائے دیں