وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے پاکستان ٹیلی ویژن اکیڈمی کو جدید تقاضوں کے مطابق ایک فعال تربیتی مرکز بنانے کا عندیہ دیا ہے۔ انہوں نے اکیڈمی کو پیشہ ورانہ مہارتوں کے فروغ کے لیے جامع حکمت عملی اپنانے کی ہدایت جاری کی ہے۔
یہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس کی صدارت وفاقی وزیر اطلاعات نے خود کی۔ اجلاس میں وزارت اطلاعات کے سینئر حکام اور وفاقی سیکرٹری اطلاعات اشفاق احمد خلیل نے بھی شرکت کی۔
اجلاس کے دوران پی ٹی وی ڈرامہ اینڈ فلم اکیڈمی کی بحالی اور پی ٹی وی ہوم کی ری ویمپنگ کے امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے اکیڈمی کی بہتری کے لیے مختلف تربیتی ماڈلز اور عملی تربیت کی تجاویز پیش کیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ملک کے اندر ہی کلر گریڈنگ کی جدید تربیت فراہم کی جائے گی۔ اس اقدام سے فلم انڈسٹری اور نجی شعبے کے وابستگان کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے کلر گریڈنگ کی تکنیکی تربیت حاصل کرنے کے لیے باہر کے ممالک کا رخ کرنا پڑتا تھا۔ اب مقامی سطح پر یہ سہولت میسر آنے سے فلم سازی کے معیار میں واضح بہتری آئے گی۔
اجلاس میں اکیڈمی کے لیے جدید کلاس رومز، سٹوڈیو لیبز اور طلبہ کے واسطے ورک سٹیشنز لگانے کے امور پر بھی غور کیا گیا۔ تکنیکی عملے کی تعیناتی اور نصاب کی تیاری کے معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
حکومت کی جانب سے میڈیا اور تخلیقی صنعتوں کے فروغ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات میں اکیڈمی کی بحالی شامل ہے۔ نوجوانوں کو فلم، ڈرامہ، ایڈیٹنگ اور ڈیجیٹل مواد کی تیاری میں ہنر مند بنایا جائے گا۔
نجی شعبے کی شراکت داری سے ایک شفاف اور عملی پائلٹ پراجیکٹ کا آغاز کیا جائے گا تاکہ تربیتی پروگرام انڈسٹری کی ضرورت کے مطابق ہوں۔ اس شراکت داری سے پی ٹی وی کے لیے آمدن کے نئے ذرائع بھی پیدا ہوں گے۔
اکیڈمی میں جدید ایڈیٹنگ سوٹس اور تکنیکی آلات کے ذریعے طلبہ کو پیشہ ورانہ ماحول فراہم کیا جائے گا۔ نصابی تعلیم کے ساتھ عملی کام اور پراجیکٹ سازی پر بھی خاص توجہ دی جائے گی۔
پی ٹی وی کے مختلف چینلز کے لیے نوجوانوں کے تخلیقی منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ ان تمام اقدامات کا مقصد فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کو تربیت یافتہ افرادی قوت فراہم کرنا ہے۔
پی ٹی وی اکیڈمی کو ایک موثر تربیتی ادارہ بنانے کے ساتھ ساتھ مالی طور پر خود کفیل اور پائیدار بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ تمام ضروری اقدامات اٹھا کر اکیڈمی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔

اپنی رائے دیں