مواد پر جائیں
بدھ، 28 اکتوبر 2026 17 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 3:36
تازہ
عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، برینٹ کی قیمت 115 ڈالر سے تجاوز کر گئیمصر میں آوارہ کتوں کے حملے میں پندرہ ماہ کی بچی جاں بحقصادق سنجرانی کے ہاں اکیس سال بعد بیٹے کی پیدائش، مبارکبادیںترکیہ سپر لیگ: گالاتاسرائے اور فینرباہچے میچ کے بعد کھلاڑی آپس میں الجھ پڑےلاہور ہائیکورٹ نے کوٹ لکھپت کے ایس ایچ او کی سزا معطل کر دیآئی سی سی کا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر حارث رؤف پر جرمانہایڈیشنل چیف سیکریٹری افتخار علی سہو سے پنشنرز کے نمائندوں کی ملاقاتبیریئر ہٹانے اور کار سرکار مداخلت کیس، ایمان مزاری کا بیان سامنے آ گیالاہور کے علاقے غازی آباد میں سسرالیوں کے مبینہ تشدد سے بہو جاں بحقکراچی میں موسم بدستور گرم و خشک، درجہ حرارت اٹھتیس ڈگری تک جانے کا امکانفیسکو سرکلز کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کے بلوں کی درستگی کی اجازتاسلام آباد کے پمز ہسپتال میں ‘ون پیشنٹ ون آئی ڈی’ ڈیجیٹل نظام کا نفاذتحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس، اہم قرارداد منظورپاکستان تحریک انصاف کا 28 ویں آئینی ترمیم کی مشروط حمایت کا فیصلہدبئی میں گاڑی کی منفرد نمبر پلیٹ CC44 67 لاکھ 20 ہزار درہم میں نیلاممشہور بھارتی ہدایت کار اور ‘سی آئی ڈی’ کے خالق بی پی سنگھ 77 برس کی عمر میں انتقال کر گئےخیبر پختونخوا کی روایات میں گالم گلوچ کی کوئی گنجائش نہیں: شیر افضل مروتنو مئی کیس: انسداد دہشتگردی عدالت نے حماد اظہر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیااولاد نہ ہونے پر خاندان نے کبھی دباؤ نہیں ڈالا، جواد احمدعمرہ زائرین ویکسین اسکینڈل، گرفتار افسران معطل اور نیا تقرر
پاکستان

لاہور ہائیکورٹ نے کوٹ لکھپت کے ایس ایچ او کی سزا معطل کر دی

عدالت نے افضل رؤف کو دو سو روپے جرمانے کی سزا پچاس ہزار کے مچلکوں کے عوض معطل کی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے کوٹ لکھپت کے ایس ایچ او کی سزا معطل کر دی

لاہور ہائیکورٹ نے صوبائی دارالحکومت کے علاقے کوٹ لکھپت کے ایس ایچ او پر عائد کی جانے والی جرمانے کی سزا کو معطل کرنے کا باضابطہ حکم جاری کر دیا ہے۔ یہ قانونی کارروائی متعلقہ پولیس افسر کی جانب سے عدالت میں مقدمے کا درکار ریکارڈ پیش نہ کرنے پر عمل میں لائی گئی تھی، جس پر نچلی عدالت نے سخت قدم اٹھایا تھا۔

انسدادِ منشیات عدالت لاہور نے پولیس ریکارڈ کی عدم دستیابی اور بروقت پیش نہ کیے جانے کی بنا پر ایس ایچ او افضل رؤف کو دو سو روپے کے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ اس فیصلے کے بعد پولیس حلقوں میں ہلچل مچ گئی تھی اور اس معاملے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

پولیس افسر افضل رؤف کی جانب سے اس عدالتی فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا اور ایک اپیل دائر کی گئی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سزا کا یہ حکم حقائق کے منافی ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ ہائیکورٹ اس سزا کو کالعدم قرار دے یا کم از کم معطل کرے۔

لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج نے ایس ایچ او افضل رؤف کی اس اپیل پر سماعت کی اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد اہم احکام صادر کیے۔ عدالت نے جرمانے کی سزا کو پچاس ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض معطل کرنے کا حکم دیا۔

عدالتِ عالیہ نے اس قانونی کارروائی کے دوران متعلقہ ٹرائل کورٹ سے تمام متعلقہ ریکارڈ بھی فوراً طلب کر لیا ہے۔ ریکارڈ کی موجودگی کے بغیر عدالت کسی بھی مقدمے میں حتمی یا مزید قانونی کارروائی آگے نہیں بڑھا سکتی، اس لیے ریکارڈ کی فراہمی کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔

عدالت کی جانب سے جاری کردہ حکم میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مقدمے کے مکمل ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔ ریکارڈ کے گہرے معائنے اور جانچ پڑتال کے بعد ہی اس کیس میں آئندہ کی مزید عدالتی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

لاہور ہائیکورٹ نے اس اپیل پر سماعت کے بعد متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں اور آئندہ سماعت تک سزا پر عملدرآمد معطل کر رکھا ہے۔ اس نوعیت کے عدالتی امور میں پولیس ریکارڈ کی بروقت فراہمی کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔

پاکستانی عدالتوں کی جانب سے تفتیشی افسران اور تھانہ جات کے ایس ایچ اوز کو ہمیشہ یہ سخت ہدایات دی جاتی ہیں کہ وہ مقدمات کا تمام ریکارڈ مقررہ وقت پر پیش کریں۔ اس طرح کے احکام انصاف کی بروقت فراہمی اور ٹرائل کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے جاری کیے جاتے ہیں۔

پولیس کے ذمہ دار حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ عدالتی احکام کی تعمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جاتا ہے اور قانون کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ ہائیکورٹ کے اس حکم کے بعد اب آئندہ سماعت پر مزید پیشرفت متوقع ہے جس میں کیس کے حقائق کا مزید جائزہ لیا جائے گا۔

کوٹ لکھپت پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او کے خلاف اس کارروائی اور پھر ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کے دوران ریکارڈ کی بروقت پیشی انتہائی ضروری ہے۔ ریکارڈ کی کمی کی وجہ سے عدالتی وقت کا ضیاع ہوتا ہے جس سے انصاف کی فراہمی میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انسدادِ منشیات عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات کی حساسیت بہت زیادہ ہوتی ہے کیونکہ ان میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد اور ریکارڈ کی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔ ایسے مقدمات میں پولیس افسران کی کوتاہی کو عدالتیں عام طور پر برداشت نہیں کرتی ہیں اور سخت نوٹس لیتی ہیں۔

ایس ایچ او افضل رؤف کی اپیل پر ہونے والی آئندہ سماعت میں لاہور ہائیکورٹ ٹرائل کورٹ سے منگوائے گئے ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ اس جائزے کے بعد ہی یہ طے ہوگا کہ آیا نچلی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا جاتا ہے یا اس میں کوئی ترمیم کی جاتی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے اس نوعیت کے احکام انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے دیے جاتے ہیں تاکہ کسی بھی فریق کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ پولیس حکام اور عدالتی عملے کے درمیان اس طرح کے معاملات میں بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیا جاتا ہے۔

اس پورے معاملے کی اگلی سماعت کے دوران فریقین کے وکلاء اپنے دلائل مزید واضح انداز میں عدالت کے سامنے پیش کریں گے۔ ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق تمام قانونی مراحل کو قواعد و ضوابط کے مطابق ہی مکمل کیا جائے گا تاکہ عدالتی احکام کی پاسداری یقینی ہو۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں