لاہور کے علاقے غازی آباد میں گھریلو ناچاقی کے دوران مبینہ طور پر سسرالیوں کے تشدد کا نشانہ بننے والی بہو جان کی بازی ہار گئی۔ اندوہناک واقعے کے بعد علاقے میں شدید صدمے کی فضا پائی جاتی ہے جبکہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے معاملے کی جانچ پڑتال شروع کر دی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق ہونے والی خاتون کی شناخت ثمرینا کے نام سے کی گئی ہے۔ واقعہ کے بعد مقتولہ کے ورثا اور اہل علاقہ کی طرف سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے، جن کا مطالبہ ہے کہ ذمہ داران کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقتولہ کی لاش کو تحویل میں لے کر ضابطے کی کارروائی کے لیے مردہ خانے منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اس کا پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد موت کی اصل وجوہات اور حتمی حقائق کا تعین کیا جا سکے گا۔
مقتولہ کے والد نے پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں۔ والد کے مطابق اس کا داماد مدثر اکثر و بیشتر ان کی بیٹی پر تشدد کرتا تھا اور اسے ذہنی و جسمانی اذیت کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔
ورثا کا یہ بھی کہنا ہے کہ سسرالیار نے اس ہولناک واقعے کو خودکشی کا رنگ دینے کی ناکام کوشش کی تاکہ اصل حقائق کو چھپایا جا سکے اور قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔ پولیس نے والد کی مدعیت میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
درج کیے گئے مقدمے میں مقتولہ کے شوہر مدثر سمیت دیگر سسرالی رشتہ داروں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد تفتیشی ٹیموں نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تمام قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں اور شفاف تحقیقات کے ذریعے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ قانون ہاتھ میں لینے والے اور جرم میں ملوث افراد کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی۔
علاقے میں اس قسم کے پرتشدد واقعات کی روک تھام کے لیے شہریوں نے بھی سماجی سطح پر آواز اٹھانے اور گھریلو تشدد کے خلاف سخت اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ چھاپہ مار ٹیمیں متحرک ہیں اور بہت جلد ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
ابتدائی تفتیش کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور فارنزک ماہرین کی مدد سے بھی اہم حقائق کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پولیس حکام کا عزم ہے کہ تفتیش کو ہر پہلو سے مکمل کیا جائے گا تاکہ تمام ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔
مقتولہ ثمرینا کے گھر والوں کا اس موقع پر پرزور مطالبہ ہے کہ اس اندوہناک معاملے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ معصوم بیٹی کی جان لینے والوں کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے تاکہ آئندہ اس قسم کے بہیمانہ جرائم کا سدباب ممکن ہو سکے۔
گھریلو تشدد اور اس طرح کے افسوسناک واقعات معاشرے کے لیے ایک لمحہ فکریہ بن چکے ہیں جن پر قابو پانے کے لیے معاشرتی اور قانونی سطح پر موثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے مقدمات میں بروقت انصاف کی فراہمی سے جرائم کی شرح میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
پولیس کی جانب سے نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں مسلسل چھاپے مارے جا رہے ہیں اور ذرائع کا کہنا ہے کہ اہم سوراخ بھی ہاتھ لگے ہیں۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ بہت جلد تمام نامزد افراد کو قانون کی گرفت میں لے لیا جائے گا تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
اس ہولناک واقعے کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس کے ساتھ ساتھ شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ پولیس اور متعلقہ ادارے اب اس امر کو یقینی بنانے میں مصروف ہیں کہ تفتیش کو جلد از جلد مکمل کر کے چالان عدالت میں جمع کرایا جائے۔





اپنی رائے دیں