مواد پر جائیں
بدھ، 28 اکتوبر 2026 17 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: دوپہر 2:17
تازہ
صادق سنجرانی کے ہاں اکیس سال بعد بیٹے کی پیدائش، مبارکبادیںترکیہ سپر لیگ: گالاتاسرائے اور فینرباہچے میچ کے بعد کھلاڑی آپس میں الجھ پڑےلاہور ہائیکورٹ نے کوٹ لکھپت کے ایس ایچ او کی سزا معطل کر دیآئی سی سی کا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر حارث رؤف پر جرمانہایڈیشنل چیف سیکریٹری افتخار علی سہو سے پنشنرز کے نمائندوں کی ملاقاتبیریئر ہٹانے اور کار سرکار مداخلت کیس، ایمان مزاری کا بیان سامنے آ گیالاہور کے علاقے غازی آباد میں سسرالیوں کے مبینہ تشدد سے بہو جاں بحقکراچی میں موسم بدستور گرم و خشک، درجہ حرارت اٹھتیس ڈگری تک جانے کا امکانفیسکو سرکلز کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کے بلوں کی درستگی کی اجازتاسلام آباد کے پمز ہسپتال میں ‘ون پیشنٹ ون آئی ڈی’ ڈیجیٹل نظام کا نفاذتحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس، اہم قرارداد منظورپاکستان تحریک انصاف کا 28 ویں آئینی ترمیم کی مشروط حمایت کا فیصلہدبئی میں گاڑی کی منفرد نمبر پلیٹ CC44 67 لاکھ 20 ہزار درہم میں نیلاممشہور بھارتی ہدایت کار اور ‘سی آئی ڈی’ کے خالق بی پی سنگھ 77 برس کی عمر میں انتقال کر گئےخیبر پختونخوا کی روایات میں گالم گلوچ کی کوئی گنجائش نہیں: شیر افضل مروتنو مئی کیس: انسداد دہشتگردی عدالت نے حماد اظہر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیااولاد نہ ہونے پر خاندان نے کبھی دباؤ نہیں ڈالا، جواد احمدعمرہ زائرین ویکسین اسکینڈل، گرفتار افسران معطل اور نیا تقررپاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 1680 ارب روپے رہ گیا: اویس لغاریانسٹاگرام کا یوٹیوب کو ٹکر دینے کیلئے 90 منٹ طویل ویڈیوز کا فیچر متعارف
جرم و سزا

لاہور کے علاقے غازی آباد میں سسرالیوں کے مبینہ تشدد سے بہو جاں بحق

مقتولہ کے والد کی مدعیت میں شوہر سمیت دیگر سسرالیوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔

لاہور کے علاقے غازی آباد میں سسرالیوں کے مبینہ تشدد سے بہو جاں بحق

لاہور کے علاقے غازی آباد میں گھریلو ناچاقی کے دوران مبینہ طور پر سسرالیوں کے تشدد کا نشانہ بننے والی بہو جان کی بازی ہار گئی۔ اندوہناک واقعے کے بعد علاقے میں شدید صدمے کی فضا پائی جاتی ہے جبکہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے معاملے کی جانچ پڑتال شروع کر دی ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق ہونے والی خاتون کی شناخت ثمرینا کے نام سے کی گئی ہے۔ واقعہ کے بعد مقتولہ کے ورثا اور اہل علاقہ کی طرف سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے، جن کا مطالبہ ہے کہ ذمہ داران کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقتولہ کی لاش کو تحویل میں لے کر ضابطے کی کارروائی کے لیے مردہ خانے منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اس کا پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد موت کی اصل وجوہات اور حتمی حقائق کا تعین کیا جا سکے گا۔

مقتولہ کے والد نے پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں۔ والد کے مطابق اس کا داماد مدثر اکثر و بیشتر ان کی بیٹی پر تشدد کرتا تھا اور اسے ذہنی و جسمانی اذیت کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔

ورثا کا یہ بھی کہنا ہے کہ سسرالیار نے اس ہولناک واقعے کو خودکشی کا رنگ دینے کی ناکام کوشش کی تاکہ اصل حقائق کو چھپایا جا سکے اور قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔ پولیس نے والد کی مدعیت میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

درج کیے گئے مقدمے میں مقتولہ کے شوہر مدثر سمیت دیگر سسرالی رشتہ داروں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد تفتیشی ٹیموں نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تمام قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں اور شفاف تحقیقات کے ذریعے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ قانون ہاتھ میں لینے والے اور جرم میں ملوث افراد کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی۔

علاقے میں اس قسم کے پرتشدد واقعات کی روک تھام کے لیے شہریوں نے بھی سماجی سطح پر آواز اٹھانے اور گھریلو تشدد کے خلاف سخت اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ چھاپہ مار ٹیمیں متحرک ہیں اور بہت جلد ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ابتدائی تفتیش کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور فارنزک ماہرین کی مدد سے بھی اہم حقائق کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پولیس حکام کا عزم ہے کہ تفتیش کو ہر پہلو سے مکمل کیا جائے گا تاکہ تمام ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔

مقتولہ ثمرینا کے گھر والوں کا اس موقع پر پرزور مطالبہ ہے کہ اس اندوہناک معاملے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ معصوم بیٹی کی جان لینے والوں کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے تاکہ آئندہ اس قسم کے بہیمانہ جرائم کا سدباب ممکن ہو سکے۔

گھریلو تشدد اور اس طرح کے افسوسناک واقعات معاشرے کے لیے ایک لمحہ فکریہ بن چکے ہیں جن پر قابو پانے کے لیے معاشرتی اور قانونی سطح پر موثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے مقدمات میں بروقت انصاف کی فراہمی سے جرائم کی شرح میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

پولیس کی جانب سے نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں مسلسل چھاپے مارے جا رہے ہیں اور ذرائع کا کہنا ہے کہ اہم سوراخ بھی ہاتھ لگے ہیں۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ بہت جلد تمام نامزد افراد کو قانون کی گرفت میں لے لیا جائے گا تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

اس ہولناک واقعے کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس کے ساتھ ساتھ شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ پولیس اور متعلقہ ادارے اب اس امر کو یقینی بنانے میں مصروف ہیں کہ تفتیش کو جلد از جلد مکمل کر کے چالان عدالت میں جمع کرایا جائے۔

جرم و سزا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں