پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کھیلی جانے والی سہ ملکی سیریز کے ایک انتہائی سنسنی خیز اور یادگار مقابلے میں قومی ٹیم کے مایہ ناز آل راؤنڈر شاداب خان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا ہے۔ انہوں نے انتہائی مشکل وقت میں ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف اپنی شاندار سنچری مکمل کی بلکہ ٹیم کو ایک ناممکن نظر آنے والی فتح سے بھی ہمکنار کیا۔ اس مقابلے نے شائقین کرکٹ کو کھیل کے عروج کا لاجواب ہیجان فراہم کیا۔
میچ کے دوران ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب گرین شرٹس کو فتح کے حصول کے لیے محض اکیس رنز کی ضرورت تھی اور انگلینڈ کے تیز گیند باز گس ایٹکنسن کی ایک خطرناک یارکر پر فیلڈ امپائر نے شاداب خان کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ قرار دے دیا۔ اس فیصلے کے بعد انگلش کھلاڑیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ وہ اس وکٹ کو میچ کا حتمی فیصلہ سمجھ رہے تھے۔
شاداب خان خود بھی اس بات سے مکمل طور پر ناواقف اور بے خبر تھے کہ گیند ان کے بلے کو چھو کر گزری ہے یا نہیں، اور وہ امپائر کی طرف سے انگلی اٹھنے کے بعد مایوسی کے عالم میں پویلین کی جانب واپس چل پڑے تھے۔ نان اسٹرائیک اینڈ پر موجود حارث رؤف کی پوزیشن بھی ایسی ہی تھی لیکن انہوں نے صورتحال کا قریب سے جائزہ لیا۔
حارث رؤف نے فوری طور پر ساتھی کھلاڑی شاداب خان کو روکا اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ امپائر کے فیصلے کے خلاف ریویو کا استعمال کریں کیونکہ انہیں کچھ شک محسوس ہوا تھا۔ یہ مشورہ اس میچ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے سب سے بڑا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا جس نے کھیل کا سارا پانسہ پلٹ کر رکھ دیا۔
جب شاداب خان نے ساتھی کھلاڑی کے کہنے پر ریویو لینے کا فیصلہ کیا اور ٹی وی سکرین پر الٹرا ایج کا معائنہ کیا گیا تو یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ گیند نے بلے کو معمولی سا چھوا تھا۔ تھرڈ امپائر نے اس سگنل کی بنیاد پر شاداب کو ناٹ آؤٹ قرار دیا جس کے بعد اسٹیڈیم میں موجود شائقین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
میچ کے بعد اس واقعے پر گفتگو کرتے ہوئے شاداب خان نے خود بھی اس بات کا برملا اعتراف کیا کہ انہیں ذرا برابر بھی اندازہ نہیں تھا کہ گیند نے ان کے بیٹ کو چھوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تو بس پویلین کی طرف جا رہے تھے جب حارث نے انہیں روکا۔
اس کے بعد شاداب خان نے میدان میں جم کر بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور انگلش بولرز کے تمام حربوں کو کامیابی کے ساتھ ناکام بنا دیا۔ انہوں نے آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے چھیانوے گیندوں پر ناقابل شکست ایک سو تیرہ رنز کی شاندار باری کھیلی جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
دوسری طرف تیز گیند باز حارث رؤف نے بھی شاداب خان کا بھرپور ساتھ نبھایا اور انیس گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے سات رنز بنا کر ناٹ آؤٹ پویلین لوٹے۔ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان دسویں وکٹ کی شراکت میں نواسی رنز بنے جو ایک ریکارڈ ساز شراکت تھی۔
اس شاندار اور تاریخی شراکت کی بدولت پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف ایک وکٹ سے سنسنی خیز کامیابی حاصل کی، جس نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ میچ کا یہ اختتام انتہائی ڈرامائی تھا جس نے ہر دیکھنے والے کو دنگ کر دیا۔
یہ سہ ملکی سیریز کے سب سے اچھے اور یادگار مقابلوں میں شمار کیا جا رہا ہے جس نے شائقین کے دل جیت لیے ہیں۔ اس کامیابی کے بعد قومی کھلاڑیوں کی کارکردگی پر کھیل کے حلقوں میں بھرپور تحسین کی جا رہی ہے اور شاداب کی اننگز کو سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔
انگلینڈ کے خلاف اس یادگار فتح نے گرین شرٹس کے حوصلے مزید بلند کر دیے ہیں اور ٹورنامنٹ میں ٹیم کی پوزیشن بھی مضبوط ہو گئی ہے۔ شائقین کرکٹ اس تاریخی ون ڈے میچ کو طویل عرصے تک یاد رکھیں گے جس میں ہار اور جیت کا فیصلہ آخری لمحوں میں ہوا۔
آل راؤنڈر شاداب خان نے اپنی اس تاریخی اننگز اور ٹیم کی فتح کو اپنی والدہ اور اہلیہ کے نام کیا، جس پر انہیں مزید پذیرائی ملی۔ ٹیم کے دیگر ارکان اور شائقین نے بھی اس کارکردگی کو سراہا۔
قومی ٹیم کی اس فتح پر مختلف حلقوں کی طرف سے مبارکباد کا سلسلہ بھی جاری ہے اور تمام کھلاڑیوں کی محنت کو سراہا جا رہا ہے۔ سہ ملکی سیریز کے بقیہ میچز کے لیے بھی تیاریاں عروج پر ہیں۔





اپنی رائے دیں