پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے خیبر پختونخوا میں موجودہ تنظیمی صورتحال کے پیش نظر صوبائی امور کو منظم انداز میں چلانے کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی قیادت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق تنظیمی ڈھانچے میں تسلسل برقرار رکھنے کے لیے متبادل انتظامات کیے گئے ہیں۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق، صوبائی صدر جنید اکبر خان کی عدم موجودگی میں نورالحق قادری کو صوبائی کابینہ کے اجلاسوں کی صدارت کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
پارٹی کی جانب سے جاری کردہ اس فیصلے کا مقصد صوبائی سطح پر تنظیمی سرگرمیوں کو بلا تعطل جاری رکھنا ہے۔ نورالحق قادری کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے تاکہ پارٹی کے تنظیمی معاملات میں کسی قسم کا تعطل پیدا نہ ہو۔
نوٹیفکیشن میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ اگر نورالحق قادری بھی کسی وجہ سے دستیاب نہ ہوں تو علی اصغر خان اجلاسوں کی صدارت کے فرائض سرانجام دیں گے۔ علی اصغر خان کو تنظیمی امور میں اضافی اختیارات بھی تفویض کیے گئے ہیں۔
علی اصغر خان کو صوبائی تنظیم کی مختلف سطحوں پر اجلاس بلانے اور ان کی صدارت کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہوگا۔ اس کے علاوہ وہ صوبائی تنظیم کے تمام شعبوں کے درمیان رابطہ کاری اور ان کی کارکردگی کی نگرانی کے بھی ذمہ دار ہوں گے۔
پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے واضح کیا ہے کہ اس متبادل انتظام کا مقصد صوبائی تنظیم کے کام کو مزید بہتر بنانا ہے۔ پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے میں فی الحال کسی قسم کی بڑی تبدیلی یا ردوبدل نہیں کیا جا رہا ہے۔
صوبائی کابینہ کی موجودہ تشکیل بدستور برقرار رہے گی اور تمام عہدیداران اپنے فرائض پہلے کی طرح سرانجام دیتے رہیں گے۔ یہ فیصلہ صرف تنظیمی اجلاسوں کی صدارت اور رابطہ کاری کے عمل کو شفاف اور فعال بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی تنظیمی سرگرمیاں پارٹی کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ اس فیصلے کے ذریعے قیادت نے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ صوبائی سطح پر فیصلے سازی کا عمل کسی بھی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق یہ اقدامات تنظیمی نظم و ضبط کو مضبوط کرنے کے لیے کیے گئے ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت صوبائی تنظیم کے تمام شعبوں کو فعال رکھنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ سیاسی و تنظیمی اہداف کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔
خیبر پختونخوا میں پارٹی کے تنظیمی امور کو چلانے کے لیے یہ نئی حکمت عملی پارٹی کے اندرونی نظم و ضبط کو مستحکم کرنے کی ایک کڑی ہے۔ تمام متعلقہ عہدیداران کو ان فیصلوں پر عمل درآمد کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے میں اس تبدیلی سے صوبائی سطح پر کام کرنے والے کارکنوں اور عہدیداران کو واضح ہدایات مل گئی ہیں۔ اب تمام تنظیمی معاملات طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہی سرانجام دیے جائیں گے۔
پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ صوبائی تنظیم کے تمام شعبے باہمی مشاورت سے کام جاری رکھیں۔ علی اصغر خان کی نگرانی میں رابطہ کاری کا نظام مزید بہتر ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
مستقبل میں بھی تنظیمی امور کو بہتر بنانے کے لیے قیادت کی جانب سے وقتاً فوقتاً ایسے فیصلے کیے جاتے رہیں گے۔ پی ٹی آئی کا مقصد صوبائی سطح پر پارٹی کو ایک مربوط اور فعال سیاسی قوت کے طور پر برقرار رکھنا ہے۔





اپنی رائے دیں