کراچی کی ایک مقامی جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں بیوی پر مبینہ طور پر بہیمانہ تشدد کرنے اور قیمتی زیورات فروخت کرنے سے متعلق سنگین مقدمے کی سماعت ہوئی جس دوران اہم عدالتی احکامات جاری کیے گئے۔ عدالت نے اس کیس میں گرفتار کیے جانے والے سندھ ریونیو بورڈ کے اسسٹنٹ کمشنر کو مزید ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے سے صاف انکار کر دیا۔
عدالت کے روبرو پیش کیے جانے والے اس ملزم کی شناخت ظفر احمد کلوڑ کے طور پر کی گئی ہے جو سندھ ریونیو بورڈ میں اسسٹنٹ کمشنر کے عہدے پر فائز ہیں۔ ان کے خلاف قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت مقامی پولیس اسٹیشن میں باقاعدہ مقدمہ درج کیا گیا تھا جس کی تفتیش جاری ہے۔
مقررہ جسمانی ریمانڈ کی مدت مکمل ہونے پر تفتیشی پولیس افسر نے ملزم ظفر احمد کلوڑ کو سخت سیکیورٹی حصار میں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا۔ اس موقع پر تفتیشی حکام نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کے خلاف مزید تفتیش کی جانی باقی ہے لہذا جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی جائے۔
پولیس کا اپنے مؤقف میں کہنا تھا کہ ملزم سے اس معاملے کے حوالے سے مزید تفتیش مکمل کی جانی ہے تاکہ تمام حقائق کو یکجا کیا جا سکے اور دیگر قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔ تاہم معزز عدالت نے تفتیشی افسر کی جانب سے کی جانے والی اس مزید ریمانڈ کی استدعا کو منظور نہیں کیا۔
فریقین کے دلائل سننے اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے تفتیشی افسر کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ملزم ظفر احمد کلوڑ کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا قطعی حکم جاری کر دیا۔ عدالتی حکم کے فوری بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو اپنی تحویل سے جیل منتقل کر دیا۔
اس سنگین مقدمے کے پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو مدعیہ یعنی ملزم کی مظلوم اہلیہ نے پولیس کو دیے گئے اپنے ابتدائی بیان میں انتہائی ہولناک انکشافات کیے تھے۔ خاتون کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر ظفر احمد کلوڑ نے انہیں ان کے میکے جانے سے سختی کے ساتھ منع کیا تھا۔
مدعیہ نے پولیس کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ میکے جانے کی بات پر شوہر کے ساتھ ان کی تکرار ہوئی جس پر ملزم طیش میں آگیا۔ شوہر نے اس بات پر انہیں شدید ترین تشدد کا نشانہ بنایا اور جسمانی گزند پہنچائی۔
متاثرہ خاتون کے بیان کے مطابق ملزم ظفر احمد کلوڑ نے گھریلو تنازع اور تشدد کے بعد محض دو سالہ کمسن بچی کو زبردستی اٹھایا اور اپنے ساتھ لے گیا۔ اس کے علاوہ خاتون کے پاس موجود بھاری مالیت کے قیمتی زیورات بھی ملزم گھر سے اٹھا کر اپنے ساتھ لے گیا۔
خاتون کی مدعیت اور ان کے بیان کی روشنی میں پولیس نے فوری طور پر حرکت میں آتے ہوئے ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ اس سلسلے میں کراچی کے علاقے میں واقع متعلقہ نبی بخش تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
نبی بخش تھانے میں درج کیے جانے والے اس مقدمے میں گھریلو تشدد، زبردستی مال لے جانے اور دیگر سنگین دفعات کو شامل کیا گیا ہے تاکہ قانون کے مطابق انصاف فراہم کیا جا سکے۔ پولیس اس مقدمے کے تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر تفتیش کے عمل کو آگے بڑھا رہی ہے۔
عہدے کے لحاظ سے ایک اہم سرکاری شخصیت کے خلاف اس قسم کے سنگین گھریلو تشدد اور زیورات بیچنے جیسے الزامات پر مبنی یہ قانونی کارروائی عدالتی حلقوں میں خاصی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ شہری اس پر مختلف تبصرے کر رہے ہیں۔
قانونی ماہرین کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ تفتیشی اداروں کو مقررہ قانونی مدت کے اندر ہی اپنی تمام تر تفتیش مکمل کرنا ہوتی ہے اور ریمانڈ کی عدم منظوری عدالتی طریقہ کار کا ایک اہم حصہ ہے۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ آئندہ سماعت پر کیا پیش رفت ہوتی ہے۔
عدالت کی جانب سے ملزم کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجے جانے کے بعد اب اس معاملے کی باقاعدہ سماعت مقررہ تاریخ پر کی جائے گی۔ متاثرہ فریق کی جانب سے بھی انصاف کے حصول کے لیے قانونی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔





اپنی رائے دیں