مواد پر جائیں
ہفتہ، 24 اکتوبر 2026 13 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 4:38
بریکنگ
کراچی: نجی ہسپتال کے آلات سے نومولود میں ایم پاکس کی تصدیق، ہسپتال سیلپنجاب حکومت کا آذربائیجانی خاتون زیادتی کیس خود لڑنے کا فیصلہدہشت گردی قومی مسئلہ ہے، سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھ کر تعاون کیا جائے: وفاقی وزراءکراچی میں آن لائن فحش مواد کی تیاری اور فراڈ میں ملوث 3 کمپنیاں بے نقاببھارت نے نیوزی لینڈ کو دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں شکست دے کر سیریز میں برتری دو صفر کر لیڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کیخلاف بڑے آپریشن کی دھمکی، پاک بھارت جنگ رکوانے کا دعویٰمیاں عامر کی پی سی بی اور ایچ ای سی کو ٹیلنٹ ہنٹ میں تعاون کی پیشکشبیوی پر تشدد اور زیور بیچنے کا کیس، اسسٹنٹ کمشنر جیل منتقلکراچی ایئرپورٹ پر کارروائی، عمرہ ویزے کا غلط استعمال کرنے والے 5 مسافر گرفتارمیر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر پولیس افسران کے خلاف کارروائی شروعسپریم کورٹ: قتل کیس کے ملزم کی قبل از وقت رہائی قانون کے خلاف قرارصوابی میں علماء و مشائخ کا پاک فوج اور حکومت سے بھرپور یکجہتی کا اعلانایران پر نیا حملہ کشیدگی بڑھا دے گا، ترک وزیرِ خارجہ کا انتباہبرطانیہ میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے نئی قومی مہم کا آغازپنشن ملازم کا قانونی اور آئینی حق ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہچین نے خلا میں ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹس کے دو نئے گروپ روانہ کر دیےاسلام آباد ہائیکورٹ کا سرکاری ملازم کو پنشن کی ادائیگی کا حکمسندھ ہائی کورٹ: 15 ارب روپے سے زائد کے فراڈ کیس میں ڈی جی نیب طلببچے پر تشدد کرنے والے ٹیچر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حکمجے یو آئی خیبرپختونخوا کا ایڈوائزری کونسل ارکان کو شوکاز نوٹس
پاکستان

پنشن ملازم کا قانونی اور آئینی حق ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ

عدالت نے وزارتِ خزانہ اور دیگر متعلقہ حکام کو قومی بچت مرکز کے افسر کی پنشن فوری جاری کرنے کا حکم دے دیا۔

پنشن ملازم کا قانونی اور آئینی حق ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم تحریری فیصلے میں قرار دیا ہے کہ پنشن کوئی خیرات، رعایت یا عطیہ نہیں بلکہ ملازم کا بنیادی قانونی اور آئینی حق ہے۔ عدالت عالیہ نے وزارتِ خزانہ اور متعلقہ حکام کو قومی بچت مرکز میں تعینات افسر نوید اللّٰہ کو ریٹائرمنٹ پر پنشن اور دیگر مالی مراعات فوری طور پر ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔

جسٹس شاہ رخ ارجمند کی جانب سے جاری کردہ اس تفصیلی فیصلے میں سرکاری ملازمین کے حقوق اور مالی بقایا جات کے حوالے سے اہم قانونی نکتہ اٹھایا گیا ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ ملازمین کی فلاح و بہبود اور ان کے قانونی فوائد کے تحفظ کی سمت میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

مقدمے کی سماعت کے دوران وزارتِ خزانہ کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا تھا کہ متعلقہ ملازم کی کنٹریکٹ پر تعیناتی وفاقی پبلک سروس کمیشن کے طریقہ کار کے ذریعے عمل میں نہیں آئی تھی۔ اسی مؤقف کو بنیاد بناتے ہوئے محکمہ کی جانب سے پنشن اور دیگر مراعات کی ادائیگی میں تاخیر یا رکاوٹ ڈالی جا رہی تھی۔

عدالتی ریکارڈ اور دستاویزات کے جائزے سے معلوم ہوا کہ نوید اللّٰہ نے اٹھائیس مئی انیس سو پچانوے کو وزارتِ خوراک میں گریڈنگ انسپکٹر کے طور پر سرکاری کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ اس کے بعد سولہ اگست انیس سو ستانوے کو ان کی ملازمت کو باضابطہ طور پر مستقل کر دیا گیا تھا جس کے بعد وہ مسلسل فرائض انجام دیتے رہے۔

ریکارڈ کے مطابق قومی بچت مرکز میں منتقلی کے بعد موصوف کو دو ہزار بارہ میں ریگولرائز کیا گیا اور پھر دو ہزار پندرہ میں انہیں مکمل طور پر مستقل کر دیا گیا۔ تمام دفتری مراحل طے کرنے کے باوجود جب ریٹائرمنٹ پر پنشن کی ادائیگی نہ ہوئی تو ملازم نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے تمام فریقین کے دلائل سننے اور ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد وزارتِ خزانہ کا اعتراض مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ طویل عرصے تک سرکاری خدمات سرانجام دینے والے ملازم کو اس کے قانونی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ جب ایک ملازم نے اپنی زندگی کے قیمتی سال سرکاری محکمے کی خدمت میں صرف کر دیے ہوں تو اسے ریٹائرمنٹ کے بعد کسمپرسی میں چھوڑنا اور جائز حقوق سے محروم رکھنا سراسر ناانصافی ہے۔ قانون ہر محنت کش اور ملازم کو اس کی محنت کا صلہ اور ریٹائرمنٹ کے بعد مالی تحفظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

قومی بچت مرکز اور وزارتِ خزانہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ عدالتی احکامات کی روشنی میں فوری طور پر تمام واجبات کا حساب لگایا جائے۔ اس عمل میں مزید تاخیر کرنے سے گریز کیا جائے تاکہ ملازم کو کسی قسم کی مزید ذہنی اور مالی پریشانی کا سامنا نہ کرناپڑے اور اس کے حقوق کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔

قانونی ماہرین نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے پاکستان کے سرکاری ملازمین کے لیے ایک بڑی قانونی فتح قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ملک بھر کے ان تمام ملازمین کو قانونی مدد ملے گی جن کے پنشن کیسز مختلف محکموں میں تاخیر کا شکار ہیں۔

پنشن کے حوالے سے اس نوعیت کے عدالتی فیصلے ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں جو انتظامیہ کو یہ یاد دلاتے ہیں کہ ملازمین کے ساتھ ہونے والے معاہدوں اور سروس رولز کی پاسداری کی جائے۔ سرکاری اداروں کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملازمین کی ریٹائرمنٹ کے معاملات کو بروقت حل کریں۔

اس فیصلے کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ وزارتِ خزانہ اور دیگر متعلقہ سرکاری ادارے نوید اللّٰہ کے تمام واجبات کی جلد ادائیگی کو یقینی بنائیں گے۔ عدالتی حکم نامے کی کاپی متعلقہ حکام کو ارسال کر دی گئی ہے تاکہ اس پر فوری عمل درآمد کا آغاز کیا جا سکے اور مزید کسی تاخیر کے بغیر معاملات کو طے کیا جا سکے۔

عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فلاحی ریاست میں ملازمین کے حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر سرکاری اداروں کی طرف سے اس قسم کے عذر پیش کیے جائیں گے تو ملازمین کبھی بھی اپنے فرائض منصبی اطمینان کے ساتھ انجام نہیں دے سکیں گے۔

متاثرہ افسر نے عدالت کے اس فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی کو سراہا ہے۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد سرکاری اداروں میں کام کرنے والے دیگر ملازمین کو بھی ایک قانونی مثال مل گئی ہے جس کی روشنی وہ اپنے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھا سکتے ہیں۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں