کراچی میں ایک افسوسناک طبی واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک نجی ہسپتال میں ختنہ کے عمل کے دوران استعمال ہونے والے آلودہ طبی آلات کے باعث ایک نومولود بچہ ایم پاکس (منکی پاکس) وائرس کا شکار ہو گیا۔ محکمہ صحت کی تحقیقات میں وائرس کی تصدیق کے بعد ہسپتال کو سیل کر دیا گیا۔
متاثرہ بچے کے والد محمد وقار نے بتایا کہ یکم ستمبر 2026 کو پیدا ہونے والے ان کے بیٹے عیسیٰ کا 24 ستمبر کو ابنِ حسن ہسپتال میں ختنہ کرایا گیا تھا۔ کچھ دن بعد بچے کو بخار ہوا اور جسم پر دانے نمودار ہونا شروع ہو گئے، جسے ابتدا میں الرجی سمجھا گیا۔
بچے کی حالت بگڑنے پر اسے کورنگی نمبر پانچ کے سرکاری ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ایم پاکس کا شبہ ظاہر کیا۔ بعد ازاں سندھ انسٹی ٹیوٹ آف انفیکشس ڈیزیزز ہسپتال میں 14 اکتوبر 2026 کو لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے بچے میں وائرس کی موجودگی کی باضابطہ تصدیق کر دی گئی۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کورنگی اشفاق میمن کے مطابق، محکمہ صحت کی ٹیموں نے واقعے کی تحقیقات کرتے ہوئے ابنِ حسن ہسپتال سے طبی آلات کے نمونے ڈاؤ لیبارٹری بھیجے، جہاں ہسپتال کی قینچی کے نمونے میں ایم پاکس وائرس کی تصدیق ہوئی۔
سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے لیبارٹری نتائج کے بعد ہسپتال کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے اس کو سیل کر دیا ہے۔ ترجمان کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر ہسپتال انتظامیہ رجسٹریشن سمیت دیگر قانونی تقاضے پورے کر لیتی ہے تو اسے دوبارہ کھولنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
متاثرہ بچے کے والد نے اس صورت حال پر کہا کہ اگر انھیں تحقیقات کے لیے بلایا گیا تو وہ بیان دینے اور گواہی دینے کے لیے تیار ہیں، اور ایسے ہسپتالوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تاکہ دوسرے والدین کو ایسی صورتِ حال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
صوبائی ڈیزیز سرویلنس اینڈ رسپانس یونٹ کے ڈیش بورڈ کے مطابق، سندھ میں رواں سال اب تک ایم پاکس کے 44 مصدقہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے 16 کراچی میں سامنے آئے ہیں، جبکہ سندھ میں اس وائرس کے کل تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 106 ہو گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق متاثرہ افراد میں 78 مرد اور 28 خواتین شامل ہیں۔ عمر کے لحاظ سے 30 سے 39 سال کے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، جبکہ صفر سے نو سال کی عمر کے بچوں میں 23 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔
ضلعی سطح پر خیرپور 22 کیسز کے ساتھ سرفہرست ہے، جبکہ کراچی شرقی میں 18 اور ملیر میں 15 کیسز سامنے آئے ہیں۔ ماہانہ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں 20 اور اکتوبر میں 19 کیسز رپورٹ ہوئے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق منکی پاکس یا ایم پاکس ایک وائرل بیماری ہے جس کی عام علامات میں بخار، سر درد، جسم میں درد، سوجن اور جلد پر دانے یا چھالے نکلنا شامل ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ چھوٹے بچوں، حاملہ خواتین اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد میں بیماری شدید ہونے کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے، اور یہ بیماری قریبی جسمانی رابطے، دانوں یا زخموں کو چھونے اور آلودہ طبی آلات سے بھی پھیل سکتی ہے۔
طبی غفلت برتنے کے معاملے پر کارروائی سے متعلق کمیشن کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ اس کے لیے متاثرہ خاندان کو تحریری شکایت دینی ہوگی، جس کی بنیاد پر کمیشن تحقیقات اور ضابطے کے مطابق کارروائی کر سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ منکی پاکس سے بچاؤ کے لیے ویکسین دستیاب ہیں، اور متاثرہ مریضوں کو علامات کم کرنے، درد پر قابو پانے اور پیچیدگیوں سے بچاؤ کے لیے طبی نگہداشت دی جاتی ہے۔





اپنی رائے دیں