امریکا میں وزن کم کرنے والی جدید ادویات کے استعمال میں نمایاں اضافے نے شہریوں کی خریداری کی عادات اور روزمرہ کے معمولات کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ ان ادویات کے اثرات سے نہ صرف لوگوں کی صحت اور جسمانی ساخت میں تبدیلیاں آرہی ہیں بلکہ اس کا براہ راست اثر ملکی معیشت اور مختلف چھوٹے کاروباروں پر بھی پڑ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس رجحان نے روایتی پیشوں سے وابستہ افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کر دیے ہیں اور مارکیٹ کی حرکیات میں ایک دلچسپ تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا میں وزن میں کمی لانے والی ادویات جیسے کہ اوزمپک اور مونجارو کے صارفین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال کا سب سے بڑا فائدہ درزیوں، موچیوں اور ملبوسات کی مرمت سے وابستہ کاریگروں کو پہنچ رہا ہے جن کے پاس ایسے گاہکوں کا رش بڑھ گیا ہے جو اپنے جسمانی خدوخال میں تبدیلی کے بعد پرانی اشیا کو ٹھیک کرا رہے ہیں۔
امریکی ادارے گیلپ کی جانب سے کیے جانے والے ایک حالیہ سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریاستہائے متحدہ کے لگ بھگ گیارہ فیصد بالغ شہری وزن گھٹانے کے لیے جی ایل پی ون کیٹیگری کی ادویات باقاعدگی سے استعمال کر رہے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا وزن کم ہونے کی وجہ سے لاکھوں افراد کو یہ ضرورت پیش آرہی ہے کہ وہ اپنی روزمرہ استعمال کی چیزیں اپنے نئے جسمانی حجم کے مطابق ڈھالیں۔
اس تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر کپڑوں، جوتوں اور چمڑے کی اشیا پر پڑا ہے جہاں صارفین بڑے سائز کے کپڑے خریدنے کے بجائے پرانے ملبوسات کو ہی دوبارہ سلائی کروا رہے ہیں۔ ٹیلی ہیلتھ پلیٹ فارم ٹریمی کی جانب سے حال ہی میں کیے گئے ایک سروے میں شامل سات سو سے زائد جی ایل پی ون صارفین کا کہنا تھا کہ وہ ایسے کپڑے پہننے پر مجبور ہیں جو اب انہیں درست طریقے سے فٹ نہیں آتے۔
صارفین کی جانب سے نئی وارڈروب خریدنے سے گریز کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ وزن میں کمی کے بعد دوبارہ وزن بڑھنے کا خطرہ موجود رہتا ہے، جس کی وجہ سے لوگ مہنگے کپڑے خریدنے پر پیسے ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ اس احتیاطی رویے نے پرانے کپڑوں کی درستگی اور مرمت کے کاروبار کو اچانک عروج بخش دیا ہے اور درزیوں کے پاس کام کا دباؤ کافی بڑھ گیا ہے۔
صرف کپڑے ہی نہیں بلکہ چمڑے کی دیگر اشیا بشمول بیلٹ، جوتوں اور ہینڈ بیگز کے سائز کو چھوٹا کرنے کی مانگ میں بھی ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ امریکا میں جوتوں اور بیگز کی مرمت کرنے والے معروف ادارے کوبلرز ڈائریکٹ نے بتایا ہے کہ ان کے پاس بیلٹس کو چھوٹا کرانے کے احکامات میں نمایاں تیزی آئی ہے۔
مذکورہ ادارے کے مطابق اس وقت صرف ایک پلیٹ فارم پر ہر ہفتے پانچ سو تک بیلٹس کو چھوٹے کرنے کا کام کیا جا رہا ہے جو اس رجحان کے پھیلاؤ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس بڑھتے ہوئے کام کو سنبھالنے کے لیے ادارے نے اپنی صلاحیتوں کو مزید وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ صارفین کے مطالبات کو بروقت پورا کیا جا سکے اور کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔
کوبلرز ڈائریکٹ کے سربراہ اسٹیفن کیلی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزن کم ہونے کے عمل نے نہ صرف افراد کی ظاہری شکل کو بدلا ہے بلکہ ان کی استعمالی اشیا کی ساخت کو بھی متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب صرف بیلٹس ہی نہیں بلکہ جوتوں کے ڈھیلے ہونے اور ہینڈ بیگز کی پٹیوں کو بھی چھوٹا کرانے کی طلب میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
اسٹیفن کیلی نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ادارے کی اس وقت امریکا بھر میں پچیس دکانیں فعال انداز میں کام کر رہی ہیں جہاں ماہر کاریگر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کمپنی کی جانب سے ریاست آسٹن میں ایک نیا اور وسیع گودام بھی قائم کیا جا رہا ہے جہاں سے مزید ایک سو کاریگر اپنے فرائض انجام دیں گے۔
اس نوعیت کی معاشی تبدیلیاں اس بات کی غماز ہیں کہ طبی شعبے کی کوئی بھی پیش رفت کس طرح معاشرے کے دوسرے طبقات اور چھوٹے کاروباروں کے لیے فوائد کا باعث بن سکتی ہے۔ وزن کم کرنے والی ان ادویات کے منفی اور مثبت دونوں طرح کے طبی پہلوؤں پر بحث جاری ہے، لیکن معاشی نقطہ نظر سے یہ چھوٹے کاریگروں کے لیے خوش آئند ثابت ہو رہا ہے۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ صارفین کی بچت کرنے کی یہ عادت امریکی ریٹیل مارکیٹ پر بھی اثرانداز ہو رہی ہے کیونکہ کپڑے بنانے والے بڑے برانڈز کو توقع کے مطابق فروخت کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا۔ اس کے برعکس، مرمت اور تبدیلی کی خدمات فراہم کرنے والے چھوٹے کاروبار دن بدن ترقی کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
آنے والے دنوں میں اس رجحان کے مزید پھیلنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں کیونکہ ان ادویات کی مقبولیت میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ اس طرح موچیوں، درزیوں اور چمڑے کا کام کرنے والے کاریگروں کے لیے آنے والا وقت مزید کاروباری مواقع لے کر آ سکتا ہے، جو روایتی پیشوں کی بقا اور تروتازگی کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔
شہریوں کی جانب سے اپنی پرانی اشیا کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کا یہ رجحان ماحولیاتی لحاظ سے بھی سودمند ثابت ہو رہا ہے کیونکہ اس سے فضلہ کم پیدا ہو رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تبدیلی نے صارفین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہر نئی ضرورت کے لیے بازار کا رخ کرنے کے بجائے پرانی چیزوں کو کیسے کارآمد رکھا جا سکتا ہے۔





اپنی رائے دیں