قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے سیاسی کشیدگی کم کرنے اور قومی معاملات پر بات چیت کے لیے اہم پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ مذاکرات کے لیے وزیر اعظم ہاؤس جانے پر آمادہ ہیں۔
اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود اچکزئی نے کہا کہ اگر وزیر اعظم شہباز شریف اپوزیشن آفس تشریف لائیں اور چائے نوش فرمائیں تو یہ ایک اچھا اقدام ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ دعوت ملنے پر کسی بھی مقام پر مذاکرات کے لیے جانے کو تیار ہیں۔
اس موقع پر چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی گفتگو کی۔ انہوں نے ماضی کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے ماضی میں بغیر کسی شرط کے مذاکرات کیے لیکن انہیں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے جس کے نتیجے میں حکومت بھی چلی گئی۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ اپوزیشن کا عسکری قیادت کے ساتھ کوئی تنازع نہیں ہے اور وہ ملک میں آئینی بالادستی اور جمہوری عمل کی مضبوطی کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل صرف سیاسی ڈائیلاگ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
مذاکرات کے حوالے سے راجہ ناصر عباس نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ امن کا مستقل حل نہیں ہے اور امن کا قیام عدل و انصاف کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق محمود اچکزئی کی جانب سے مذاکرات کے لیے آمادگی کا اظہار ایک مثبت پیش رفت ہے جس سے ملک میں جاری سیاسی تعطل کو ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے اس پیشکش پر باضابطہ ردعمل کا انتظار ہے۔
ملک میں جاری سیاسی صورتحال کے تناظر میں اپوزیشن جماعتوں کا یہ مطالبہ رہا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر قومی مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ محمود اچکزئی کا یہ بیان اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھا جا رہا ہے۔
حکومتی حلقوں کی جانب سے اب تک اس پیشکش پر کوئی حتمی بیان سامنے نہیں آیا ہے تاہم سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں مذاکرات کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں جاری سیاسی بحران کے حل کے لیے ماضی میں بھی مختلف ادوار میں مذاکرات کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ محمود اچکزئی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کو معاشی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ ملک کے مفاد میں ہر قسم کے مذاکرات کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ حکومت بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ مذاکرات کا ایجنڈا واضح ہونا چاہیے تاکہ مسائل کا پائیدار حل نکل سکے۔
خیبر پختونخوا اور دیگر علاقوں میں امن و امان کی صورتحال پر بھی اپوزیشن رہنماؤں نے تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے حکومت کو اپوزیشن کے ساتھ مل کر حکمت عملی وضع کرنی چاہیے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو اس سے ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہوگا۔ استحکام سے معاشی بہتری کے امکانات بھی روشن ہو سکتے ہیں۔
محمود اچکزئی کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کے بعد اب گیند حکومت کے کورٹ میں ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اس پیشکش کو کس طرح لیتے ہیں اور کیا حکومت اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے پر آمادہ ہوتی ہے۔




اپنی رائے دیں