مواد پر جائیں
جمعرات، 22 اکتوبر 2026 11 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 6:56
بریکنگ
امریکا کا سعودی عرب میں موجود سفارتی عملے اور اہل خانہ کو انخلا کا حکمپاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی تعاون کا اہم معاہدہبالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف پر حملہ، تین ملزمان راجستھان سے گرفتارمالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتوفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدلصدر آصف علی زرداری اور مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کی ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاقوزیراعلیٰ مریم نواز سے سعودی سفیر ڈاکٹر راجح البقمی کی ملاقات، باہمی تعاون پر اتفاقکراچی: لیاری میں ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ سے ایک شہری زخمیشمالی افغانستان میں معدنی وسائل پر کنٹرول تنازعات کا باعث بن گیالاہور میں موسم خشک، بارش کا کوئی امکان نہیں: محکمہ موسمیاتسندھ میں 39 بلدیاتی نشستوں پر ضمنی انتخابات کا شیڈول جاریایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور اسپیکر محمد باقر قالیباف کی اہم ملاقاتپاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں 5 فیصد اضافہ ریکارڈجماعت اسلامی کی پیٹرولیم لیوی کے خلاف تحریک کا تیسرا مرحلہ جمعہ سے شروع ہوگامالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کی پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریفاسرائیل نے رواں ماہ ایران پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی، برطانوی اخبار کا دعویٰنئی دہلی میں تاریخی ریس کورس مسجد کو خالی کرنے کا نوٹسکراچی میں اگلے تین روز تک موسم گرم اور خشک رہنے کی پیشگوئیاحتجاج کی ناکام حکمت عملی کی پوری پارٹی ذمہ دار ہے، شوکت یوسفزئیفنکار کبھی اپنے کام سے مکمل مطمئن نہیں ہوتے، علی عظمت
دنیا

شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پر کنٹرول تنازعات کا باعث بن گیا

پاک ایشیا یوتھ فورم کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کان کنی کے وسائل پر اختیار کی جنگ شمالی افغانستان میں بدامنی کی بڑی وجہ ہے۔

شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پر کنٹرول تنازعات کا باعث بن گیا

شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پر کنٹرول، آمدنی کی منصفانہ تقسیم اور مقامی حقوق سے متعلق بڑھتے ہوئے تنازعات خطے میں بدامنی اور تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔ کان کنی کے شعبے میں شفافیت اور مالیاتی نگرانی کا فقدان سنگین مسائل کو جنم دے رہا ہے۔

پاک ایشیا یوتھ فورم کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ معدنی وسائل پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے مختلف دھڑوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش جاری ہے، جو شمالی افغانستان میں عدم استحکام کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔

رپورٹ بعنوان 'سونا، طاقت اور شکایات: افغانستان کا کان کنی کا شعبہ اور بدامنی' کے مطابق افغانستان قدرتی دولت سے مالا مال ملک ہے، جہاں لیتھیم، نایاب ارضی عناصر، تانبا اور کوبالٹ سمیت 30 سے زائد اہم معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان وسائل کی موجودگی جہاں ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا موقع ہے، وہیں ان پر غیر قانونی قبضے اور ناقص انتظام کے باعث یہ وسائل تنازعات کا مرکز بن چکے ہیں۔ شفاف پالیسیوں کا نہ ہونا اس شعبے کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے۔

موجودہ صورتحال میں کان کنی کا شعبہ محدود قانونی نگرانی اور شفافیت کے فقدان کا شکار ہے۔ وسائل کی لوٹ مار اور مقامی آبادی کے حقوق کی پامالی کے واقعات نے بھی مقامی سطح پر بے چینی اور تحفظات میں اضافہ کر دیا ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ معدنیات سے حاصل ہونے والی آمدنی کا بڑا حصہ قومی خزانے کے بجائے مقامی سطح پر بااثر گروہوں کے ہاتھ میں جا رہا ہے، جس سے مرکزی حکومت کی رٹ اور معاشی استحکام پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

افغانستان کے شمالی علاقوں میں موجود یہ معدنی ذخائر بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ تاہم، سکیورٹی کی مخدوش صورتحال اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ان وسائل کا فائدہ عام عوام تک نہیں پہنچ پا رہا ہے۔

کان کنی کے شعبے میں شفافیت لانے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ ان وسائل کو ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ موجودہ حالات میں یہ وسائل ملک میں امن کے قیام کے بجائے کشیدگی کا باعث بن رہے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ان وسائل کے انتظام کو بہتر نہ بنایا گیا تو شمالی افغانستان میں جاری یہ تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ مقامی حقوق کا تحفظ اور آمدنی کی منصفانہ تقسیم ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ افغانستان کے معدنی وسائل سے استفادہ کرنے کے لیے ایک مستحکم سیاسی ڈھانچے اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق کان کنی کے قوانین کا نفاذ ناگزیر ہے۔ اس کے بغیر وسائل کا ضیاع جاری رہے گا۔

شمالی افغانستان کے عوام طویل عرصے سے ان وسائل سے ملنے والے فوائد کے منتظر ہیں، لیکن بدقسمتی سے یہ وسائل مقامی سطح پر تشدد اور طاقت کے حصول کا ذریعہ بن کر رہ گئے ہیں۔ حکومتی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

مستقبل میں افغانستان کی معاشی بحالی کا دارومدار انہی معدنی وسائل کے درست استعمال پر ہے۔ اگر ان وسائل کو شفاف طریقے سے بروئے کار لایا جائے تو یہ ملک کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

آخر میں، رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ کان کنی کے شعبے میں اصلاحات لانے اور بدامنی کے خاتمے کے لیے تمام متعلقہ فریقین کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ وسائل کو تنازعات کے بجائے ترقی کا ذریعہ بنایا جا سکے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں