الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صوبہ سندھ کے 13 مختلف اضلاع میں خالی ہونے والی 39 بلدیاتی نشستوں پر ضمنی انتخابات کروانے کا باضابطہ شیڈول جاری کر دیا ہے۔ ان انتخابات کے انعقاد کے لیے پولنگ کا عمل 22 نومبر کو مکمل کیا جائے گا۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، ضمنی انتخابات کا سلسلہ حیدرآباد، میرپورخاص، لاڑکانہ، ٹنڈو الہ یار، مٹیاری، دادو اور نوشہرو فیروز سمیت 13 اضلاع میں جاری رہے گا۔ ان نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے والے امیدوار اپنے متعلقہ علاقوں میں بلدیاتی نمائندگی کے فرائض سرانجام دیں گے۔
انتخابی عمل کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا مرحلہ آج 22 اکتوبر کو مکمل ہو رہا ہے۔ اس کے بعد امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال کا عمل 24 اکتوبر سے شروع ہوگا جو 28 اکتوبر تک جاری رہے گا۔
صوبائی الیکشن کمشنر سندھ کے مطابق، امیدواروں کی ابتدائی فہرست 29 اکتوبر کو جاری کی جائے گی۔ کاغذات نامزدگی واپس لینے کے لیے 7 سے 9 نومبر تک کا وقت دیا گیا ہے، جس کے بعد حتمی امیدواروں کو 10 نومبر کو انتخابی نشانات الاٹ کیے جائیں گے۔
دوسری جانب، کراچی کے ضلع جنوبی کی یونین کونسل 8 کلری شاہ بیگ میں وائس چیئرمین کی خالی نشست پر ضمنی انتخاب کے لیے الگ تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس نشست پر پولنگ کا عمل 8 نومبر کو منعقد کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن نے تمام متعلقہ ریٹرننگ افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔ شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد کمیشن کی اولین ترجیح ہے تاکہ عوام کے نمائندے جمہوری طریقے سے منتخب ہو سکیں۔
سندھ میں بلدیاتی نظام کی مضبوطی کے لیے ان ضمنی انتخابات کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے۔ سیاسی جماعتوں نے بھی اپنے امیدواروں کو میدان میں اتارنے کے لیے تیاریاں شروع کر دی ہیں تاکہ ان نشستوں پر اپنی پوزیشن مستحکم کی جا سکے۔
انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد متعلقہ اضلاع میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہونے کا امکان ہے۔ امیدواروں کی جانب سے انتخابی مہم کے لیے حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے تاکہ ووٹرز کو اپنی جانب راغب کیا جا سکے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق، پولنگ کے دن سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جائیں گے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہوگی۔
سندھ کے مختلف اضلاع میں بلدیاتی نشستوں کا خالی ہونا مختلف وجوہات کی بنا پر ہوا، جن میں استعفے یا دیگر وجوہات شامل ہیں۔ اب ان نشستوں پر نئے نمائندوں کے انتخاب سے مقامی سطح پر ترقیاتی کاموں میں تیزی آئے گی۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لیں اور اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں۔ جمہوری عمل کی کامیابی کے لیے ووٹرز کا ٹرن آؤٹ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ کسی بھی امیدوار کو انتخابی قوانین سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
امید ہے کہ ضمنی انتخابات کا یہ عمل پرامن طریقے سے اپنے اختتام کو پہنچے گا۔ تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ انتخابی عمل کے دوران جمہوری اقدار کا احترام کریں گے۔





اپنی رائے دیں