مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے پرتشدد کارروائیوں کا ایک اور واقعہ پیش آیا ہے جس میں فرانس کے ایک میئر اور یورپی یونین کے سفارت کاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب یہ وفد فلسطینی قصبے طیبہ میں خیرسگالی کے دورے پر موجود تھا۔
شمالی فرانس کے قصبے اولوئے-ایمیری کے میئر برنار بوڈو، جو اس وفد کا حصہ تھے، نے واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آبادکاروں کا یہ رویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں ریاستی سطح پر کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔
میئر برنار بوڈو نے فرانسیسی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے حملے اسرائیل کی موجودہ دائیں بازو کی حکومت کی جانب سے آبادکاروں کے تشدد کو برداشت کرنے کی عکاسی کرتے ہیں جو کہ تشویشناک ہے۔
واقعے کے عینی شاہدین کے مطابق، جب وفد فلسطینیوں کے ساتھ زیتون کی فصل کی کٹائی کے سلسلے میں وہاں موجود تھا، تو نقاب پوش آبادکاروں نے انہیں گھیرے میں لے لیا۔ اس دوران سفارت کاروں کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا گیا جس سے گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
اطلاعات کے مطابق، بیلجیئم کے قونصل خانے کی ایک گاڑی کی کھڑکی بھی توڑ دی گئی جبکہ حملہ آوروں نے زبردستی سفارت کاروں سے ان کی شناختی دستاویزات طلب کیں۔ اس واقعے میں فرانس، بیلجیئم اور پولینڈ سے تعلق رکھنے والے سفارت کار بھی موجود تھے۔
مغربی کنارے میں فلسطینیوں اور اسرائیلی آبادکاروں کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ زیتون کی کٹائی کا موسم اکثر ایسے واقعات کا پیش خیمہ بنتا ہے جہاں آبادکار فلسطینیوں اور ان کے مہمانوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
عالمی برادری کی جانب سے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں آبادکاروں کا یہ طرزِ عمل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
یورپی یونین کے سفارت کاروں پر حملے کے بعد خطے میں سکیورٹی کی صورتحال پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ سفارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس طرح کے واقعات سفارتی استثنیٰ اور بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہیں۔
اسرائیلی حکومت کی جانب سے اس واقعے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے اور نہ ہی حملہ آوروں کے خلاف کسی کارروائی کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کی بڑھتی ہوئی جارحیت فلسطینیوں کے لیے معمول کی زندگی گزارنا مشکل بنا رہی ہے۔ عالمی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لیں اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
فرانسیسی میئر پر حملے کے بعد یورپی ممالک کی جانب سے ردعمل متوقع ہے۔ سفارتی سطح پر اس معاملے کو اٹھانے کی اطلاعات ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا سدباب کیا جا سکے اور سفارت کاروں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ مغربی کنارے میں آبادکاروں کی جانب سے اس طرح کی اشتعال انگیزی خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے بین الاقوامی دباؤ کی ضرورت ہے۔ فلسطینی عوام اور وہاں موجود غیر ملکی وفود کے تحفظ کے لیے اسرائیلی حکام پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں۔



اپنی رائے دیں