میانوالی کے علاقے میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں 13 سالہ کمسن لڑکی کو مبینہ طور پر اس کے چچا زاد بھائی نے فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ روز پیش آیا۔
مقتولہ کے والد نے پولیس کو دی گئی اپنی ابتدائی رپورٹ میں بتایا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے ہمراہ سودا سلف لینے کے لیے گھر سے باہر نکلے تھے کہ راستے میں ملزم جواد نے انہیں روک لیا۔
والد کے بیان کے مطابق ملزم نے لڑکی کو بغیر حجاب گھر سے باہر نکلنے پر شدید غصے کا اظہار کیا اور اسے دھمکیاں دیں۔ تلخ کلامی کے بعد ملزم نے پستول نکال کر لڑکی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
فائرنگ کے نتیجے میں 13 سالہ لڑکی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی۔ ملزم نے مبینہ طور پر سات گولیاں چلائیں جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور ملزم موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
مقتولہ کے والد کا کہنا ہے کہ ملزم پہلے بھی ان کی بیٹی کو بغیر حجاب گھر سے نکلنے سے منع کرتا رہا تھا اور اس معاملے پر ان کے درمیان تناؤ موجود تھا۔ یہ ایک انتہائی افسوسناک اور دلخراش واقعہ ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس کی نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور شواہد اکٹھے کیے۔ پولیس نے مقتولہ کی لاش کو تحویل میں لے کر ضابطے کی کارروائی کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔
پولیس نے مقتولہ کے والد کی مدعیت میں ملزم جواد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر میں غیرت کے نام پر قتل کی سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں جس سے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ملزم کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
علاقے میں اس واقعے کے بعد شدید غم و غصے کی لہر پائی جاتی ہے۔ اہل علاقہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو فوری طور پر گرفتار کر کے سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔
پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تفتیش کو میرٹ پر مکمل کیا جائے گا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ واقعہ خاندانی رنجش اور غیرت کے نام پر قتل کے زمرے میں آتا ہے جس پر قانون حرکت میں آ چکا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی تلاش کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس ذرائع کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔ پولیس کو امید ہے کہ ملزم جلد ہی قانون کی گرفت میں ہوگا۔
اس طرح کے واقعات معاشرتی اقدار اور قانون کی حکمرانی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ مجرم کسی صورت قانون کی گرفت سے نہ بچ سکے۔
مقتولہ کے لواحقین اس وقت شدید صدمے کی کیفیت میں ہیں۔ پولیس نے علاقے میں سیکیورٹی کے انتظامات کو بھی بہتر بنایا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔





اپنی رائے دیں