وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے عازمین حج و عمرہ کے لیے ویکسین کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی شفاف تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سرکاری امور میں شفافیت کو یقینی بنانا اور زائرین کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔
اس مقصد کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کی سربراہی کابینہ سیکرٹری کریں گے۔ کمیٹی میں ڈی جی انٹیلی جنس بیورو، سربراہ ڈریپ، اٹارنی جنرل آفس کا نمائندہ اور ایم ڈی پیپرا سمیت اہم حکام شامل کیے گئے ہیں۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، کمیٹی کو ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ ویکسین کی خریداری کے عمل، قیمتوں کے تعین اور ٹینڈرنگ کے طریقہ کار کا باریک بینی سے جائزہ لے۔ کمیٹی ان معاہدوں کی بھی جانچ پڑتال کرے گی جن کے تحت آمدن کی تقسیم کی جاتی ہے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی کا پہلا اجلاس ہفتے کی صبح اسلام آباد میں منعقد کیا جائے۔ کمیٹی کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنی جامع رپورٹ 48 گھنٹوں کے اندر وزیراعظم کو پیش کرے تاکہ آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق ویکسین کی فراہمی کے ٹھیکے کا معاملہ پہلے ہی قانونی چارہ جوئی کی زد میں ہے۔ سات مختلف کمپنیوں نے اس ٹھیکے کے طریقہ کار کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، جس سے اس عمل پر سوالات اٹھ رہے تھے۔
علاوہ ازیں، عمرہ زائرین سے ویکسینیشن پیکیج کی مد میں تقریباً 4500 روپے وصول کیے جانے پر بھی عوامی حلقوں اور متعلقہ اداروں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ ان شکایات کی روشنی میں تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کیا گیا ہے۔
سرکاری حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ سعودی حکومت کی جانب سے عمرہ زائرین کے لیے انفلوئنزا ویکسین کو لازمی قرار نہیں دیا گیا ہے۔ اس صورتحال میں ویکسین کی خریداری اور اس کی قیمتوں پر اٹھنے والے سوالات اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
حکومت کا یہ فیصلہ زائرین کی سہولت اور سرکاری خزانے کے درست استعمال کے عزم کا عکاس ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا اور اگر کسی سطح پر کوتاہی ثابت ہوئی تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
پاکستان میں حج اور عمرہ زائرین کی بڑی تعداد ہر سال سعودی عرب کا سفر کرتی ہے۔ حکومت کی اولین ترجیح ہے کہ زائرین کو درپیش مسائل کو حل کیا جائے اور کسی بھی قسم کی غیر ضروری مالی بوجھ سے انہیں محفوظ رکھا جائے۔
اس معاملے پر متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تحقیقاتی کمیٹی کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ شفافیت کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہی اس بارے میں حتمی پالیسی کا اعلان کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے مسائل سے بچا جا سکے۔
وزیراعظم کی جانب سے 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ عوام اور زائرین کی جانب سے بھی اس بروقت نوٹس کو سراہا جا رہا ہے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔
امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اعلیٰ سطح کی کمیٹی اپنی تحقیقات میں تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھے گی۔ اس عمل سے نہ صرف ویکسین کی خریداری میں شفافیت آئے گی بلکہ زائرین کے لیے حج و عمرہ کے انتظامات بھی مزید بہتر ہو سکیں گے۔
حکومت پاکستان اپنے شہریوں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور عوامی اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔





اپنی رائے دیں