ویسٹ انڈیز کے کپتان شائے ہوپ نے موجودہ دورہ بھارت کے دوران میدان پر اپنی شاندار اور جاندار کارکردگی سے نہ صرف شائقین کرکٹ کے دل جیت لیے ہیں بلکہ وہ اپنے لیے ملنے والے میچ کے بہترین کھلاڑی کے انعامات پر ایک انوکھی پریشانی میں بھی مبتلا ہو چکے ہیں۔
کیریبئن ٹیم ان دنوں بھارت کے دورے پر موجود ہے جہاں دونوں ملکوں کے درمیان پہلے ون ڈے میچوں کی سیریز کھیلی گئی اور اب پانچ ٹی ٹوئنٹی میچوں پر مشتمل سیریز کے مقابلے جاری ہیں جس میں مہمان کھلاڑیوں نے بھرپور مقابلہ کیا ہے۔
دورے کے دوران شائے ہوپ کا بلا رنز اگل رہا ہے اور ان کی بیٹنگ فارم عروج پر دکھائی دیتی ہے جس کی بدولت وہ اب تک شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چار یادگار سنچریاں اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔
ان کی ان سنچریوں میں سے دو سنچریاں ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں اسکور کی گئیں جبکہ دو سنچریاں ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کے میچوں میں سامنے آئیں جنہوں نے سب کی توجہ حاصل کی۔
بیٹنگ میں اس تسلسل اور شاندار کارکردگی کے اعتراف میں انہیں مختلف میچوں کے اختتام پر تین بار مین آف دی میچ کے اعزاز سے نوازا جا چکا ہے جو کسی بھی کھلاڑی کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے۔
عام طور پر کھلاڑی اس قسم کے انعامات ملنے پر بے حد خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور انہیں اپنے کیریئر کی کامیابی قرار دیتے ہیں تاہم شائے ہوپ کے معاملے میں یہ صورتحال کچھ مختلف اور دلچسپ رُخ اختیار کر گئی ہے۔
چوتھے ٹی ٹوئنٹی میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اپنی اس مزاحیہ پریشانی کا کھل کر اظہار کیا اور بتایا کہ یہ انعامات ان کے لیے سامان کا بوجھ بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں۔
راجیو گاندھی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے چوتھے ٹی ٹوئنٹی میچ میں ویسٹ انڈین کپتان نے انتہائی ذمے دارانہ اور طوفانی اننگز کھیلی اور ٹیم کو فتح دلائی۔
اس میچ کے دوران شائے ہوپ نے میدان کے چاروں طرف شٹس لگائے اور مخالف بولرز کی ایک نہ چلنے دی جب کہ ان کی یہ اننگز ٹیم کی سیریز میں واپسی کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوئی۔
مذکورہ میچ میں شائے ہوپ نے صرف پچاس گیندوں کا سامنا کیا اور چار زور دار چوکوں اور نو فلائنگ چھکوں کی مدد سے ایک سو دو رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔
ان کی اس بہترین بیٹنگ کی بدولت ٹیم نے ہدف عبور کیا اور اس فتح نے سیریز میں مقابلے کو مزید دلچسپ بنا دیا جس پر انہیں ایک بار پھر مین آف دی میچ کا ٹرافیا دیا گیا۔
میچ کے بعد جب ان سے اس کامیابی اور مسلسل ایوارڈز ملنے کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا جو میڈیا اور شائقین کے لیے بھی ایک دلچسپ خبر بن گیا۔
شائے ہوپ کا کہنا تھا کہ سچی بات یہ ہے کہ یہ ایوارڈز وزنی اور بھاری ہیں جنہیں سنبھالنا اب ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دورہ ختم ہونے کے بعد جب وہ اپنے وطن واپس جائیں گے تو انہیں اپنے سامان کے کل وزن کا خاص خیال رکھنا پڑے گا کیونکہ ان ٹرافیز کی وجہ سے وزن کافی زیادہ ہو چکا ہے۔
کیریبئن کپتان کے اس ہلکے پھلکے اور مزاحیہ انداز میں دیے گئے بیان نے پریس کانفرنس کے ماحول کو خوشگوار بنا دیا اور ان کے اس بیان کو کرکٹ کےحلقوں میں بھی کافی پسند کیا گیا۔





اپنی رائے دیں